html بکروں کو بازار لے جانا

آندھرا پردیش کے اننتا پور ضلع میں بکرے کے گوشت کی دکانوں اور بازاروں میں بکرے اور بھیڑ گاڑیوں میں بھر کر لگاتار پہنچتے رہتے ہیں۔ تاجر ان جانوروں کو گلہ بانوں سے خریدتے ہیں، اس کے بعد اچھی قیمتوں کی تلاش میں انھیں لے کر ایک بازار سے دوسرے بازار تک کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔ میں نے یہ تصویر تب لی تھی، جب ایک ٹیمپو کدیری سے اننتا پور کی جانب جا رہا تھا۔

میں نے سوچا کہ اوپر بیٹھا ہوا آدمی (جس کا نام میں لکھ نہیں سکا) مالک ہوگا۔ لہٰذا، میں اننتا پور شہر میں ہر ہفتہ کے روز لگنے والے بکرا بازار میں گیا اور لوگوں کو یہ تصویر دکھائی۔ چند کاروباریوں نے بتایا کہ وہ بھی کوئی تاجر ہوگا، یا پھر کسی کاروباری کے ذریعہ بھیجا ہوا نگہبان ہوگا، لیکن اصلیت کا کسی کو علم نہیں تھا۔ ایک گلہ بان، پی نارائن سوامی، جن سے میں بازار میں ملا، نے بتایا کہ وہ پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ تصویر میں موجود آدمی جانوروں کا مالک نہیں ہے۔ ’’وہ شاید ایک مزدور ہے۔ صرف ایک مزدور ہی اوپر بیٹھے گا [بے فکر رویہ کے ساتھ]۔ بکروں کا مالک انھیں اپنے ساتھ لے جانے سے پہلے پوری احتیاط سے ان کے پیروں کو اندر رکھے گا۔ جو آدمی ہر بکرے پر تقریباً ۶۰۰۰ روپے خرچ کرتا ہے، وہ ان کے پیروں کو توڑنے کے لیے نہیں چھوڑ سکتا۔‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

Mohd. Qamar Tabrez is PARI’s Urdu/Hindi translator since 2015. He is a Delhi-based journalist, the author of two books, and was associated with newspapers like ‘Roznama Mera Watan’, ‘Rashtriya Sahara’, ‘Chauthi Duniya’ and ‘Avadhnama’. He has a degree in History from Aligarh Muslim University and a PhD from Jawaharlal Nehru University, Delhi. You can contact the translator here:

Rahul M.

Rahul M. is an independent journalist based in Anantapur, Andhra Pradesh, and a 2017 PARI Fellow.

Other stories by Rahul M.