فاطمہ بی بی کہتی ہیں، ’’لوگ میرے سسر سے پوچھتے تھے کہ ’کیا آپ کے گھر کی لڑکی پیسے کمانے کے لیے گھر سے باہر جائے گی؟‘ میں اس قصبے کی بیٹی نہیں ہوں، اس لیے میرے لیے قاعدے قانون کچھ زیادہ سخت ہیں۔‘‘
فاطمہ تیزی سے اپنا نقاب اتار کر اسے سامنے والے دروازے کی کھونٹی پر ٹانگ دیتی ہیں، اور ہم سے بات چیت کو جاری رکھتے ہوئے گھر کے اندر داخل ہوتی ہیں۔ ’’میں جب چھوٹی تھی، تو سوچتی تھی کہ میری پہنچ صرف باورچی خانہ تک ہوگی – میری زندگی کھانا پکانے اور گھر سنبھالنے تک ہی محدود ہو کر رہ جائے گی،‘‘ وہ پرانی باتوں کو یاد کرتے ہوئے، ہنستے ہوئے کہتی ہیں۔ ۲۸ سال کی فاطمہ سفید رنگ کا دوپٹہ اوڑھے ہوئی ہیں، جس پر لگا ستارہ دوپہر کی دھوپ میں تیز چمک رہا ہے۔ وہ آگے کہتی ہیں، ’’میں نے جب بھی کچھ کرنے کا فیصلہ کیا، میری فیملی نے مجھے باہر نکلنے اور اپنے لیے کچھ کرنے کی پوری آزادی دی۔ میں بھلے ہی ایک نوجوان مسلم عورت ہوں، لیکن ایسا کوئی کام نہیں ہے جو میں نہیں کر سکتی۔‘‘
فاطمہ، اتر پردیش کے پریاگ راج (پہلے الہ آباد کے نام سے مشہور) ضلع کے مہیوا قصبہ میں رہتی ہیں، جہاں کی زندگی پاس میں بہنے والی یمنا ندی کی طرح ہی سست رفتار ہے۔ لیکن فاطمہ بیکار بیٹھنے والوں میں سے نہیں ہیں، اس لیے آج وہ ایک ماہر کاریگر اور دستکاری کے کاروبار سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہ سرکنڈے جیسی پتلی اور کھوکھلی گھاس، جسے ’مونج‘ یا ’سرپت‘ کہتے ہیں – کی تیلیوں سے مختلف قسم کی گھریلو اشیاء بنا کر بیچتی ہیں۔
فاطمہ جب چھوٹی تھیں، تو انہیں خود بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ آگے جا کر وہ کیا کرنے والی ہیں، لیکن محمد شکیل سے شادی ہونے کے بعد وہ مہیوا کے ایک ایسے گھر میں پہنچ گئیں، جہاں پر ان کی ساس عائشہ بیگم کو ’مونج‘ کے سامان بنانے میں مہارت حاصل تھی۔














