اسکول سے ’غیر حاضر‘ کولوشی کے بچے
وبائی مرض کے دوران دو سال تک اسکول بند ہونے کی وجہ سے تھانے ضلع میں آدیواسی بچے کلاس روم میں دوبارہ داخل ہونے سے یا تو قاصر ہیں یا تیار نہیں ہیں



وبائی مرض کے دوران دو سال تک اسکول بند ہونے کی وجہ سے تھانے ضلع میں آدیواسی بچے کلاس روم میں دوبارہ داخل ہونے سے یا تو قاصر ہیں یا تیار نہیں ہیں
سانگلی ضلع میں اینٹ بھٹوں پر کام کرنے کے لیے مہاجرت کرنے والی کیکاڈی برادری کے چرواہوں کو اپنے گدھوں اور دیگر مویشیوں کی دیکھ بھال کے لیے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ مہاراشٹر میں جانوروں کی چوری کے واقعات میں ہو رہے اضافہ نے ان کی مشکلیں مزید بڑھا دی ہیں
تُلسا سبر کی اچانک ہوئی موت، فیملی کا بڑھتا ہوا قرض اور اینٹ بھٹوں میں کام کرنے کی خاطر مہاجرت، ملک کے اس سب سے غریب ضلع کے سسٹم کی ناکامی کو بیان کرتی ہے
بورانڈا گاؤں کے آدیواسی محلہ میں، ونیتا بھوئیر اور ان کی فیملی، جو مہاراشٹر کے اینٹ بھٹوں پر کام کرنے کے لیے مہاجرت کرتے ہیں، لاک ڈاؤن کے سبب ان کا کام، کھانا اور پیسہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے – اور اب وہ امید بھی کھوتے جا رہے ہیں
تلنگانہ کے سنگا ریڈی ضلع میں کُنی تاملیا اور اینٹ بھٹّوں پر کام کرنے والے دیگر مزدوروں نے لاک ڈاؤن کے دوران اپنے کام کو جاری رکھا۔ لیکن بچوں کی دیکھ بھال اور کووڈ کے خوف سے، وہ شرمک اسپیشل ٹرین پکڑ کر اوڈیشہ جانے کے لیے بے قرار تھے
اوڈیشہ کے ہزاروں مہاجر مزدور تلنگانہ کے اینٹ بھٹوں میں پھنسے ہوئے ہیں – لاک ڈاؤن نے کام کرنے کی ظالم جگہوں کو مزید مشکل بنا دیا – اور ان کے راشن ختم ہو رہے ہیں اور وہ اپنے گھر لوٹنے کے لیے بے تاب ہیں
پالگھر اور تھانے میں اینٹ کی بھٹیوں پر کام کرنے والے مزدور، جن میں سے زیادہ تر آدیواسی زرعی مزدور ہیں، کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بنا کسی کمائی کے مانسون تک اپنے اپنے گھر لوٹنے کو مجبور ہیں
کووِڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن کے سبب مہاراشٹر کے پالگھر ضلع میں اینٹ بھٹوں پر کام کرنے والے مہاجر آدیواسیوں کے پاس بہت کم پیسہ اور کھانا بچا ہے – اور لوٹنے کو لیکر گاؤں سے الٹی میٹم بھی مل رہا ہے، ایسے میں ان کے سامنے صرف غیر یقینیت بچی ہے
پالگھر ضلع کی بوتیاچی واڑی بستی کے کاتکری آدیواسیوں کے لیے تعلیم ابھی بھی دور کی کوڑی ہے، کھانے کی قلت ہے، قرض ہمیشہ سے موجود رہنے والی ایک حقیقت ہے – اور اینٹ کی بھٹوں پر کام کرنے کے لیے مہاجرت ایک دائمی مجبوری بنی ہوئی ہے
اوڈیشہ کے مزدور کام کرنے اور پیشگی رقم ادا کرنے کے لیے، تلنگانہ کے بھٹّوں تک پیدل، سڑک اور ٹرین کے ذریعے سفر کرتے ہیں
مہاراشٹر کے رائے گڑھ ضلع کے کاتکری آدیواسی، بے زمین ہونے اور کام کی کمی کے سبب ہر سال ۷-۸ مہینے کے لیے کوئلہ بھٹیوں میں کام کرنے چلے جاتے ہیں۔ وہاں، وہ کم مزدوری پر گھنٹوں سخت مزدوری کرتے ہیں اور اکثر انھیں پیسے بھی نہیں ملتے
اوڈیشہ کے بہت سے مزدور تلنگانہ کے اینٹ بھٹوں پر کام کرنے جاتے ہیں، جہاں ٹھیکہ دار اور بھٹہ مالک ان مہاجر مزدوروں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھا کر ان کا مالی استحصال کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مہینوں تک جی توڑ محنت کرنے کے باوجود ان مزدوروں کے حصے میں قرض کے سوا کچھ نہیں آتا
اوڈیشہ کے بولانگیر ضلع کے بزرگ پس ماندہ کسان، دھروا، حیدرآباد میں اینٹ کی ایک بھٹی میں کام کرنے کے لیے آئے تھے۔ جی توڑ محنت کی وجہ سے وہ اپنے گھر لوٹنا چاہتے تھے، لیکن بھٹی مالکوں نے انھیں جانے سے منع کر دیا
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/ملک-کے-اینٹ-بھٹوں-پر-کڑی-محنت