میری پیدائش غیر منقسم کالا ہانڈی ضلع میں ہوئی تھی، جہاں قحط، بھوک سے موت اور بحران کے سبب مہاجرت لوگوں کی زندگی کا اٹوٹ حصہ تھا۔ ایک نوجوان لڑکے کے طور پر اور بعد میں ایک صحافی کے طور پر، میں نے ان واقعات کو دیکھا اور پوری وضاحت اور پختگی کے ساتھ رپورٹ کیا۔ اس لیے مجھے اس بات کی سمجھ ہے کہ لوگ کیوں ہجرت کرتے ہیں، کون ہجرت کرتا ہے، وہ حالات کیا ہیں جو انہیں ہجرت کرنے پر مجبور کرتے ہیں، کیسے وہ اپنی روزی کماتے ہیں – اپنی جسمانی استعداد سے بھی آگے بڑھ کر کام کرتے ہیں۔
یہ بھی ’عام بات‘ تھی کہ جب انہیں سرکاری مدد کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، تب انہیں چھوڑ دیا گیا۔ کھانے کے بغیر، پانی کے بغیر، ٹرانسپورٹ کے بغیر اور سینکڑوں کلومیٹر دور کے مقام پر جانے کے لیے انہیں پیدل چلنے پر مجبور کر دیا گیا – جب کہ ان میں سے بہت سے لوگوں کے پاس ایک جوڑی چپل بھی نہیں تھا۔
یہ میرے لیے تکلیف کا باعث ہے، کیوں کہ یہاں کے لوگوں کے ساتھ میرا ایک جذباتی لگاؤ ہے، ایک رشتہ ہے – گویا کہ میں انہی میں سے ایک ہوں۔ میرے لیے، وہ یقینی طور پر میرے لوگ ہیں۔ اس لیے میں انہی لوگوں، انہی برادریوں کو ایک بار پھر تکلیفیں برداشت کرتے ہوئے دیکھ کر کافی پریشان ہوا اور لاچار محسوس کرنے لگا۔ اس نے مجھے ان الفاظ اور اشعار کو لکھنے کے لیے آمادہ کیا – جب کہ میں شاعر نہیں ہوں۔




