’’لوگوں کو لگتا ہے کہ ہم امیر اور بڑے کسان ہیں،‘‘ دادا صاحب سپیکے نے کہا۔ ’’جب وہ ہماری سایہ دار جالیوں کو دیکھتے ہیں تو ان کی عام سوچ یہی ہوتی ہے۔ لیکن آپ جب ہمارے کھیتوں پر آئیں گے، تو آپ کو کڑوا سچ دیکھنے کو ملے گا۔ ہمارے اوپر بھاری قرض ہے۔ اور ہم اس میں سے کسی کو بھی چُکا نہیں سکتے۔‘‘
ناسک میں ۲۰ فروری کو شروع ہوئے کسان مارچ میں، دادا صاحب دوسروں کے ساتھ خاموشی سے مارچ کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ راجندر بھاگوت بھی تھے – یہ دونوں اس مارچ کے زیادہ تر آدیواسی اور غریب کسان احتجاجیوں سے بالکل الگ تھے۔ (مہاراشٹر حکومت کے ذریعے یقین دہانی کرائے جانے کے بعد کہ وہ کسانوں کے سبھی زیر التوا مطالبات کو متعینہ مدت کے اندر سلسلہ وار طریقے سے پورا کرے گی، ۲۱ فروری کی دیر رات مارچ کو ختم کر دیا گیا۔)



