دیویشوری کے لیے اسکول کا وقت دوپہر ۲ بجے ختم ہو جاتا ہے، لیکن ان کا کام ختم نہیں ہوتا۔ کندھے پر تھیلا ٹانگ کر اور سر پر سوتی دوپٹّہ اوڑھے، وہ ۴۰ ڈگری سیلسیس کی گرمی میں اسکول سے باہر نکلتی ہیں۔ لیکن وہ گھر نہیں، بلکہ لکڑی کی تلاش میں جاتی ہیں۔ ’’میں اس پرائمری اسکول میں ٹیچر ہوں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’لیکن مجھے یہ بھی یقینی بنانا ہوتا ہے کہ میرے طلباء کو ان کا مڈ ڈے میل [دوپہر کا کھانا] ملتا رہے۔ اس لیے اب میں جلاون کی لکڑی تلاش کرنے جا رہی ہوں۔‘‘
دیویشوری نیگی (۴۸)، لکھنؤ کے مضافاتی دیہی علاقہ کے مال بلاک میں واقع پرائمری اسکول رودان کھیڑا کی ٹیچر انچارج ہیں۔ اسکول کی سبھی پانچ ملازم خواتین ہیں، جن میں دو معاون ٹیچر اور تین رسوئیا (باورچی) ہیں، جو بچوں کے لیے دوپہر کا کھانا بناتی ہیں۔
مرکزی حکومت کی مڈ ڈے میل اسکیم کے تحت، اتر پردیش کے ایک لاکھ ۴۱ ہزار سے زیادہ سرکاری پرائمری اور اپر پرائمری اسکولوں میں ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ طالب علموں کو تازہ اور غذائیت سے بھرپور کھانا پانے کا حق حاصل ہے۔ تقریباً سبھی اسکولوں کو ایل پی جی کنکشن دیا گیا ہے۔ لیکن امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملے کی وجہ سے پیدا ہوا ایل پی جی بحران اس انتہائی اہم اسکیم میں رخنہ پیدا کر رہا ہے۔ بڑی تعداد میں اسکول متاثر ہوئے ہیں، لیکن کتنے، اس کی باقاعدہ جانکاری نہیں ہے۔
تقریباً ایک مہینہ سے، ہر دن اسکول کے بعد دیویشوری اور باقی چاروں عورتیں گھر جانے کے بجائے گاؤں میں الگ الگ سمتوں میں لکڑی اکٹھا کرنے نکل پڑتی ہیں۔ ’’ہم نے گیس ایجنسی اور مقامی لکڑی فروشوں سے بھی مدد مانگی، اور ہم نے گاؤں کے پردھان سے بھی گزارش کی، لیکن اس مشکل وقت میں کوئی مدد نہیں کر پا رہا ہے،‘‘ نیگی پاری کو بتاتی ہیں۔
جلاون کی لکڑی پہلے آسانی سے مل جاتی تھی، اب لکھنؤ شہر کے کاروباری خریدار اسے خرید لیتے ہیں۔ مقامی لکڑی فروش دھرمیش یادو کہتے ہیں، ’’ہم نے اپنا سارا اسٹاک ریستوراں اور ہوٹلوں کو بیچ دیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم اساتذہ اور طلباء کی مدد نہیں کرنا چاہتے، لیکن ہمارے پاس سب کے لیے لکڑیاں نہیں ہیں۔ جو تھوڑی بہت بچی ہیں وہ ہماری روزمرہ کی ضروریات کے لیے ہیں۔ ورنہ ہم کیا کھائیں گے؟‘‘
طلباء بھی لکڑیاں جمع کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ وہ اسکول کی چھت سے لگے درختوں کی شاخوں سے چھوٹی بڑی ٹہنیاں توڑتے ہیں۔










