/static/media/uploads/Kali/img_3364.jpg


’’اَکّا، آپ میرے امتحان کوچیری میں تہِ دل سے مدعو ہیں۔ برائے مہربانی اپنی فیملی اور دوستوں کو لے کر ضرور آئیے گا،‘‘ کالی ویراپدران نے مجھے فون کرکے کہا اور چنئی میں واقع ہندوستان کے مشہور ڈانس اسکول، کلاکشیتر میں اپنے فائنل امتحان کے لیے دعوت دی۔ اور، تھوڑی دیر کے وقفہ کے بعد، اس نے مجھ سے نہایت نرم لہجہ میں پوچھا، ’’کیا یہ صحیح انگریزی ہے، اَکّا؟‘‘

کالی کو معلوم نہیں تھا، کیوں کہ تقریباً چار سال پہلے تک وہ انگریزی سے بہت زیادہ واقف نہیں تھا۔ یہی نہیں، وہ ڈانس سے بھی بہت زیادہ شناسا نہیں تھا۔ لیکن اب، وہ کلاسیکل بھرت ناٹیم کے ساتھ ساتھ کاراگَتّم، تھپتّم اور اوئیلاتم کا بھی ماسٹر ہو چکا ہے۔ یہ تینوں تمل ناڈو کے  تین قدیم علاقائی ڈانس ہیں۔ اور، اس نے یہ سارے ڈانس اس میدان کی سب سے بہترین جگہ سے سیکھے ہیں۔


/static/media/uploads/Kali/img_1736.jpg


کالی کی فیملی، جسے وہ ہندو آدی دراوڑ (ایک دلت برادری) بتاتا ہے، کوولَم میں رہائش پذیر ہے، جو کہ چنئی کے قریب جدوجہد کرتا ایک گاؤں ہے۔ کالی (۲۱) کے والد کی موت تبھی ہو گئی تھی، جب وہ ایک چھوٹا بچہ تھا۔ ’’میں اس وقت شاید چھ یا سات مہینے کا تھا،‘‘ وہ کہتا ہے، جذبات سے عاری۔ اس کے جذبات اس کی بیوہ ماں کے لیے محفوظ ہیں، جنھوں نے تب ایک بڑی فیملی کا بوجھ اٹھانے کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر لے لی اور قلی کا کام کرنے لگیں۔ ’’میری تین بڑی بہنیں اور دو بھائی ہیں۔ جب ایک بھائی کی موت دماغی بخار کی وجہ سے ہوگئی، تو میں اپنی دادی کے گھر سے، جہاں پر میں تب تک رہا کرتا تھا، اپنی ماں کے گھر چلا آیا۔‘‘

اس کی ماں کا گھر تب پختہ نہیں تھا، جیسا کہ اب ہے۔ چنئی کے خراب موسم کے دوان اس گھر کی حالت نہایت خستہ ہو جایا کرتی تھی، اس کے بعد حکومت نے ان کے سروں پر پختہ چھت کا انتظام کرنے کا اعلان کیا۔ کالی اس کے لیے حکومت کا شکر گزار ہے، ٹھیک ویسے ہی، جیسے وہ ہر اُس فرد کا شکرگزار ہے، جس نے اس کے خوابوں کو پورا کرنے میں اس کی مدد کی۔

کالی کا خواب ڈانس (رقص) کرنے کا ہے، جو کہ اپنے آپ میں انوکھا نہیں ہوسکتا۔ لیکن کالی ڈانس کی دو مختلف قسموں میں مہارت حاصل کرنا چاہتا ہے، ان دونوں ڈانس اسٹائل کو ایک دوسرے سے ملانا ویسا ہی ہے، جیسے تیل اور پانی کو ملانا۔ ان میں سے ایک بھرت ناٹیم ہے، ڈانس کی بہت ہی بنیادی اور کلاسیکی شکل، جسے پہلے دیوداسیاں (وہ لڑکیاں جنھیں زندگی بھر کے لیے مندروں اور اس کے پجاریوں کو بھینٹ کر دی جاتی تھیں) استعمال کرتی تھیں، اور آج، بدقسمتی سے، اس کی سرپرستی زیادہ تر اونچی ذات اور پیسے والے لوگ کرتے ہیں، جو پہلے ان (دلتوں) سے دور رہا کرتے تھے۔ دوسرا ہے ’فوک ڈانس‘، ایک ایسی اصطلاح جو کئی صدیوں پرانی ڈانس کی مختلف قسموں کو ایک ساتھ جمع کرتی ہے، اور جس کا چلن تمل ناڈو کے گاؤوں میں آج بھی ہے۔


/static/media/uploads/Kali/Kannan Kumar.jpg


ضابطہ کے مطابق، بھرت ناٹیم کے ڈانسرس فوک ڈانس میں مہارت حاصل نہیں کر سکتے، جب تک کہ ان کے پروڈکشن کو کاراگام یا کاواڈی سے ٹکرانے کے لیے بلایا نہ جائے۔ بہت کم لوگوں نے اس کی سخت ٹریننگ لی ہے، اسے پیشہ ورانہ طور پر پرفارم کرنے کی بات تو چھوڑ ہی دیجیے۔ کالی کے فوک ڈانس ٹیچر، کَنَّن کمار (پورے تمل ناڈو میں یہ واحد فل ٹائم ٹیچر ہیں) بتاتے ہیں کہ فوک ڈانس (مقامی رقص) ایک بنیاد یا دیوار کی طرح ہے اور متعلقہ بھرت ناٹیم، جس میں کہانی بیان کرنے کے لیے مُدراؤں کا استعمال کیا جاتا ہے، اس پر ایک پینٹنگ کی طرح ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ یہ دونوں رقص ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ اور کالی ایک قدم آگے جاتے ہوئے، دونوں کی پریکٹس کرتا ہے اور وہ بھی بغیر کسی ٹکراؤ کے۔

دراصل، کالی کو ٹکراؤ کا سامنا صرف ایک بار کرنا پڑا تھا، جب اس نے اسکول کے بورڈ امتحانات مکمل کیے تھے۔ اسے خود ہی یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے۔ سب سے فطری اور عقل مندی پر مبنی فیصلہ یہ تھا کہ وہ کوئی نوکری کر لے۔۔۔ اس کی گھریلو حالت کو پیسوں کی ضرورت تھی۔ لیکن تبھی، اس کی چچی نے اسے کوولم کے قریب، جنوبی ہندوستان کے ہیریٹیج میوزیم، دکشن چترا میں مفت فوک ڈانس کلاسز کے بارے میں بتایا۔ کالی ایک نظر میں ہی اس کا گرویدہ ہو گیا۔ وہ تیزی سے کلاس میں آگے بڑھتا گیا اور صرف دو مہینوں کے اندر اس نے کارا گتم، اوئیلتم اور تھاپتم میں مہارت حاصل کر لی۔ اس کے استاد کنن کمار نے خوش ہوتے ہوئے اسے چوتھا ڈانس، دیوا رَتّم بھی سکھانا شروع کر دیا۔ تب جاکر، کالی کا داخلہ کلاکشیتر میں ہوا، ڈانس میں چار سالہ ڈپلومہ کورس کے لیے۔


/static/media/uploads/Kali/img_7975.jpg


چند سال پہلے تک کا لی نے کلاکشیتر کا نام تک نہیں سنا تھا۔ سارہ چند (جنھوں نے اسے اسپانسر کرنے کا فیصلہ کیا) نے سب سے پہلے اس کے ہنر کو پہچانا، جب وہ سونامی ری ہیبلٹیشن سنٹر کے لیے کوولم میں ڈانس کر رہا تھا۔ انھوں نے اس سے کہا کہ اسے کلاکشیتر میں اس آرٹ کو باقاعدگی کے ساتھ سیکھنا چاہیے۔ کالی نے انٹرویو پاس کر لیا اور اس طرح اسے وہاں داخلہ مل گیا، حالانکہ دور کے چاچا، چاچیوں نے اس کی کافی حوصلہ شکنی کی کہ وہ ڈانس سیکھ کر کیا کرے گا۔ اس نے پہلی رکاوٹ کو عبور کر لیا تھا۔ لیکن دوسری رکاوٹیں ابھی اس کا انتظار کر رہی تھیں۔

تمل میڈیم اسکول کے ایک لڑکے، جس نے بھرت ناٹیم اور کلاسیکل میوزک کو کبھی نہ دیکھا اور محسوس کیا ہو، اس کے لیے کلاکشیتر شروع میں کافی خوفناک محسوس ہوتا تھا۔ کھانا پوری طرح سبزیوں پر مشتمل تھا، یہاں گوشت کا نام و نشان تک نہیں تھا، جو وہ پہلے شوق سے کھایا کرتا تھا؛ اور اس کی قوت برداشت خوفناک تھی۔ ’’میں تب ایک موٹا لڑکا تھا!‘‘ کالی ہنستے ہوئے کہتا ہے، اور مجھے دکھاتا ہے کہ وہ کیسے ڈانس کیا کرتا تھا، کمر باہر نکلی ہوئی، اس کے پیر پھیلے ہوئے اور ہاتھ بے اعتبار۔ وہ کیمپس میں (بہت سارے) غیر ملکیوں سے کچھ حد تک بہتر تھا، وہ انھیں کی طرح ثقافتی طور پر سمجھدار تھا، لیکن انگریزی زبان میں بات چیت کرنے سے پوری طرح قاصر تھا۔

اس طرح اس نے ڈانسنگ شروع کی۔ الفاظ کی جگہ اس نے ہاؤ بھاؤ کا استعمال کیا؛ جلد ہی غیر ملکیوں کے سامنے اس کی شرمندگی جاتی رہی، اور اس نے پہلی سال کے طلبہ کے دن کے موقع پر ان میں سے کئی غیر ملکیوں کو اپنے ساتھ ملا لیا، جہاں اس نے روسی اور جنوبی افریقہ کی لڑکیوں سے اوئیلاتم ڈانس کروایا۔ اس وقت کی کلاکشیتر کی ڈائرکٹر لیلا سیمسن نے اس کی اس کوشش کی تعریف کی تھی۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ اس نے اپنی کلاس میں ٹاپ کیا۔ اس کی خود اعتمادی بڑھتی گئی، ساتھ ہی اس کا علم بھی۔ اب، کالی ایک جھٹکے میں راگوں کو پہچان سکتا ہے۔ مقدس رُکمِنی ارنگم، کلاکشیتر کی بانی اور مشہور رقاصہ رُکمنی دیوی ارونڈیل کے نام سے منسوب، میں پرفارمنس کے دوران وہ راگوں کے بارے میں اندازہ لگاتا ہے اور اپنے کئی دوستوں میں سے ایک سے پوچھتا ہے کہ کیا وہ صحیح ہے۔ وہ عام طور پر صحیح ہوتا ہے۔ اور اس کا ڈانس اُن ابتدائی دنوں سے چل کر یہاں تک پہنچا ہے، جہاں اب اس کے قدم (آداووس) درست، اور باوَم (اظہار) بالکل صحیح ہوتے ہیں۔


/static/media/uploads/Kali/img_0059.jpg


یہیں رُکمِنی اَرَنگم میں اس کا امتحان کوچیری (اظہارِ فن) ۲۸ مارچ ۲۰۱۴ کو ہوا۔ آٹھ اسٹوڈنٹس پر مشتمل اس کے بَیچ نے پورے میک اَپ کے ساتھ، اسٹیج پر مکمل مارگم (ڈانس کا مجموعہ، ترتیب وار پیش کرنا) پیش کیا۔ اس کی کلاس ٹیچر، اِندو ندیش، جنھوں نے اسے اور اس کے ہم جماعتوں کو ٹریننگ دی تھی، وہ نٹّووانگم پر تھاپ دیتی رہیں۔ انھیں اپنی کلاس پر ناز ضرور رہا ہوگا؛ سامعین کو تو بالکل تھا۔

کالی کی ماں، اس کا بھائی رجنی (جو کوولم میں اِڈلی کی دکان چلاتا ہے)، اس کی تین بہنیں اور ان کے گھر والے، ان کے دوست، یہ سبھی لوگ کلاکشیتر میں اس کی کوچیری کو دیکھنے آئے تھے۔ میں نے کالی کی شاندار کارکردگی پر جب رجِنی کو جاکر مبارکباد دی، تو اس نے حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں ڈانس کی یہ ساری باتیں سمجھ میں نہیں آتیں۔ ہم تو صرف یہاں، باہر بیٹھے ہوئے تھے۔ خوشی کی بات ہے کہ آپ کو یہ سب اچھا لگا۔‘‘ تب تک کالی ان سبھی کو دیکھنے کے لیے باہر آ چکا تھا۔ اس نے اپنی ماں کو گلے لگایا، اپنی فیملی کے ساتھ تصویریں کھنچوائیں۔ لیکن اس کے دوست کلاس کی فوٹو کے لیے اسے آواز لگا رہے تھے۔ وہ جیسے ہی اندر بھاگا، اس نے کنَّن کمار کو دیکھا۔ جھک کر اس نے ان کے پیر چھوئے۔ اس کے ٹیچر نے پسینوں سے بھیگے ہوئے اس کے کندھے کو پکڑ کر اوپر اٹھایا اور سینے سے لگا لیا۔ ٹیچر کی آنکھوں میں فخریہ احساس تھا، جب کہ اسٹوڈنٹ کی آنکھوں میں خوشی۔


/static/media/uploads/Kali/img_1713.jpg


’’میں ان میں آرٹ کی کسی بھی شکل کو نہیں چھوڑ سکتا،‘‘ کالی کہتا ہے۔ وہ خوش اور مطمئن ہے کہ اس کا امتحان اب ختم ہو گیا۔ اس پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے جب وہ یہ سنتا ہے کہ وہ فرسٹ کلاس سے پاس ہو گیا، اور انتہائی خوش ہوجاتا ہے، جب اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کا داخلہ کلاکشیتر میں بھرت ناٹیم کے پی جی ڈپلوما میں ہو گیا ہے۔ اور اب، کالی فوک ڈانس کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ پرعزم ہے، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ رقص کی یہ قسمیں اب ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔ یہ ان لوگوں تک بھی بھرت ناٹیم کو پہنچانا چاہتا ہے، جنھوں نے اس کی خوبصورتی کا پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کیا۔ ’’ایک کلاس فوک کی، ایک کلاس بھارتم کی۔ میں دونوں پڑھانا چاہتا ہوں، میں ایک ڈانس اسکول بنانا چاہتا ہوں، میں پیسے کمانا چاہتا ہوں، میں اپنی ماں کی دیکھ بھال کرنا چاہتا ہوں، میں ڈانس کرنا چاہتا ہوں،‘‘ اور نوجوان ڈانسر اسی طرح اپنے خوابوں کی فہرست گِناتا چلا جاتا ہے۔

(ویڈیو دیکھیں ۔ کالی: ڈانسر اور اس کے خواب:)

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig

اَپرنا کارتی کیئن کل وقتی ماں، جز وقتی قلم کار اور پاری کے لیے بطور رضاکار کام کر رہی ہیں۔ آپ اُن سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں:@AparnaKarthi

 Dr. M.Q. Tabrez is an award-winning Delhi-based Urdu journalist who has been associated with newspapers like Rashtria Sahara, Chauthi Duniya and Avadhnama. He has worked with the news agency ANI. A history graduate from Aligarh Muslim University and a PhD from JNU, Tabrez has authored two books, hundreds of articles, and also translated many books from English and Hindi to Urdu. You can contact him at: @Tabrez_Alig 

Aparna Karthikeyan
[email protected]

اپرنا کارتی کیئن ایک آزاد ملٹی میڈیا صحافی ہیں۔ وہ تمل ناڈو کے دیہی علاقوں سے ختم ہوتے ذریعہ معاش کو دستاویزی شکل دے رہی ہیں اور پیپلز آرکائیوز آف رورل انڈیا کے ساتھ بطور رضاکار کام کر رہی ہیں۔

Other stories by Aparna Karthikeyan