’’سورج اور چاند جب تک چمکتے رہیں گے، یہ کام جاری رہے گا،‘‘ تُکا رام پوار کا کہنا ہے، جو ممبئی شہر کے شمال میں واقع وسئی کے صدیوں پرانے قلعہ میں پتھر تراشنے کا کام کر رہے ہیں۔ ’’بہت سے لوگ مر جائیں گے، کئی زندہ رہیں گے؛ اس کا کوئی شمار نہیں ہے۔ آپ جو کام کر رہے ہیں، اس کا کبھی شمار مت کیجئے۔ بس کام کرتے جائیے۔‘‘

پوار اُن چند پتھر تراشنے والوں میں سے ایک ہیں، جو پال گھر ضلع میں واقع ۱۶ ویں صدی کے بسین (یا وَسَئی) قلعہ کی مرمت کر رہے ہیں۔ قلعہ کے آنگن میں چھوٹے بڑے پتھروں کے درمیان، زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھے پوار، ہتھوڑے اور چھینی کی مدد سے پتھروں پر لگاتار چوٹ کرتے ہوئے انھیں نئی شکل دے رہے ہیں۔

PHOTO • Samyukta Shastri

وسئی قلعہ میں پتھر توڑنے والے، تُکا رام پوار: ’آپ جو کام کر رہے ہیں اسے کبھی شمار مت کیجئے۔ بس کام کرتے جائیے۔‘

وہ اور دیگر کاریگر، کھسکتی ہوئی دیواروں میں چونے کا مسالہ یا کاٹے گئے پتھروں کے ٹکڑے ڈال کر، بالے قلعہ کی دیواروں کو مضبوط کر رہے ہیں، یہ قلعہ کا وہ حصہ ہے جسے گجرات کے سلطان بہادر شاہ کے ذریعہ بنایا گیا تھا (جسے بعد میں پرتگالیوں نے کلیسا میں تبدیل کر دیا تھا)۔

وسئی کے ۱۰۹ ایکڑ میں پھیلے اس قلعہ میں چل رہا کام، آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے بحالی منصوبہ کا حصہ ہے، جسے ۲۰۱۲ میں مرمت کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ یہاں کام کرنے والے کل ۱۵ کاریگر مہاراشٹر کے احمد نگر ضلع کے مختلف گاؤوں کے رہنے والے ہیں۔

PHOTO • Samyukta Shastri

پتھروں کو توڑنا، کاٹنا، ٹوٹی دیواروں میں بھرنا: قلعہ کی دیوار کے پاس کھلے آنگن میں کام کرتے کاریگر

ان میں سے زیادہ تر کاریگر قحط کے سبب وسئی آنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

’’مناسب بارش اور آبپاشی کے بغیر کھیتی کس کام کی؟‘‘ پوار، جو اپنی عمر کے ۵۰ ویں سال میں چل رہے ہیں، سوال کرتے ہیں۔ جام کھیڑ گاؤں میں پوار کی دو ایکڑ زمین ہے۔ سال کے چھ مہینے جب وہ تاریخی عمارتوں کی مرمت کے لیے گھر سے باہر رہتے ہیں، تو ان کی غیر موجودگی میں ان کی بیوی اور بیٹے فیملی کے ذریعے اگائی گئی معمولی فصل کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔

احمد نگر میں زیر زمین پانی کی ویسے ہی کمی ہے، اوپر سے اس کا زیادہ تر حصہ گنے کے کھیت چوس لیتے ہیں، جس کی وجہ سے اچھی بارش کے باوجود اس ضلع میں کئی بار قحط جیسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

گاؤوں میں مقامی ٹھیکہ دار، پوار اور پتھر توڑنے والے دیگر کاریگروں کو – جن میں سے زیادہ تر کھیتی چھوڑنے کے لیے مجبور کیے گئے کسان ہیں – مزدوری پر اٹھاتا ہے اور پھر انھیں اے ایس آئی کی نگرانی والے تاریخی مقامات پر مرمت کے کام کے لیے بھیج دیتا ہے۔ پوار اے ایس آئی کے متعدد پروجیکٹوں پر کام کر چکے ہیں، جیسے مہاراشٹر کی ایلفینٹا غاریں اور اترپردیش میں واقع جھانسی کا قلعہ۔

وَسئی قلعہ میں پتھر توڑنے والے کاریگروں کی روزانہ کی آمدنی ہے 600 روپے، یعنی تقریباً 15 ہزار روپے ماہانہ۔ اس میں سے وہ تقریباً آدھا پیسہ اپنے کھانے اور دواؤں جیسی ضروریات پر خرچ کر دیتے ہیں۔ باقی پیسہ وہ گھر بھیج دیتے ہیں۔

اس آمدنی کے لیے، وہ روزانہ آٹھ گھنٹے جی توڑ محنت کرتے ہیں، دوپہر میں کھانے کے لیے صرف ایک گھنٹہ کی چھٹی ملتی ہے۔ وہ پسینے والی دھوپ میں بھی ہتھوڑے چلاتے رہتے ہیں، اور پتھروں سے نکلنے والی دھول میں لگاتار کام کرنے کی وجہ سے ان کے ہاتھ اور پیر پھٹ جاتے ہیں۔ ’’پتھر توڑنا کوئی آسان کام نہیں ہے،‘‘ لکشمن شیتِبا ڈُکرے کہتے ہیں۔ ’’پتھر گرم ہیں، زمین گرم ہے، چلچلاتی دھوپ ہے۔‘‘ 

PHOTO • Samyukta Shastri

پتھر پر کام کرتے وقت یہ عارضی چھت دھوپ سے تھوڑی راحت دیتی ہے۔ دائیں: پانی سے گلا تر کرتا ہوا جام کھیڑ تعلقہ کا ایک کاریگر

ڈُکرے قلعہ کے ایک کونے میں، جام کھیڑ گروپ سے تھوڑی دور، تاڑ کے پتوں سے بنی عارضی چھت کے نیچے بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کا بھتیجا ڈگڈو گووند ڈُکرے بھی وہیں ان کے ساتھ ہے۔ ان دونوں کا تعلق پتھروں کو جوڑنے اور انھیں تراشنے والی ماہر وڈار کمیونٹی سے ہے۔ یہ دونوں احمد نگر ضلع کے بھِنگار تعلقہ کے وڈار واڑی گاؤں سے وسئی آئے ہیں۔ دونوں ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے رہتے ہیں، لیکن انھیں بنیادی طور سے وَسئی قلعہ کا کام سونپا گیا ہے۔

’’آج کل اس قسم کے کام کرنے والے کاریگروں کو ڈھونڈ پانا بہت مشکل ہے،‘‘ کیلاش شندے بتاتے ہیں، جو وَسئی میں مرمت کے کام کے لیے اے ایس آئی کے کنزرویشن اسسٹنٹ انچارج ہیں۔ ’’وڈار وہ واحد لوگ ہیں جو اس کام میں مہارت رکھتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے شاید ان تاریخی عمارتوں کو بنایا ہوگا اور اب یہی لوگ اس کی مرمت کر رہے ہیں۔‘‘

PHOTO • Samyukta Shastri

لکشمن ڈُکرے اور ان کا بھتیجا ڈگڈو ڈُکرے: ’کس نے میرے والد کو وڈار کی یہ زندگی دی؟‘، وہ سوال کرتے ہیں

وَسئی کے تقریباً سبھی پتھر کاٹنے والے وڈار ہیں، درسی کتابوں کے مطابق، یہ سب سے پہلے اڈیشہ سے ہجرت کرکے آندھرا پردیش اور دیگر جنوبی ریاستوں میں گئے، پھر وہاں سے مہاراشٹر آئے۔ (ایسا مانا جاتا ہے کہ کمیونٹی کا یہ نام ’وڈار‘، اوڈرا دیس یا اڑیسہ سے نکلا ہے)۔ ’’برسہا برس پہلے، ہمارے لوگ یہاں (مہاراشٹر) آئے۔ ہم یہیں پیدا ہوئے اور یہیں ہماری پرورش ہوئی۔ ہم یہیں کے ہیں،‘‘ صاحب راؤ ناگو مسکے کہتے ہیں، جو اپنی عمر کے ۶۰ویں سال میں ہیں اور وسئی قلعہ میں پتھر کاٹنے والے بزرگوں میں سے ایک ہیں۔ 

PHOTO • Samyukta Shastri

صاحب راؤ مسکے، جو اپنی عمر کے ۶۰ویں سال میں ہیں، وَسئی قلعہ میں پتھر کاٹنے والے بزرگوں میں سے ایک ہیں

تقریباً ۴۰ سال کے ڈگڈو، یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی فیملی کے پاس بھی کچھ زمین تھی، لیکن چند سال قبل انھوں نے اسے چھوڑ دیا؛ اب پتھر کا کام ہی ان کا اور ان کے چچا کا پیشہ ہے۔ لکشمن اور ڈگڈو کی بیویاں بھی احمد نگر میں اپنے گاؤں کے قریب پتھر کا کام کرتی ہیں، انھیں کوٹ کر سڑک بنانے والی کنکریٹ بناتی ہیں۔

وَسئی کے دیگر کاریگروں کی طرح ہی ڈُکرے کو بھی، مقامی ٹھیکہ دار کے ذریعے کام کے بنیادی مقامات پر بھیجا جاتا ہے۔ ’’وہ جہاں کہیں بھی کام کی دستیابی کے بارے میں بتاتے ہیں ہم (اپنے خرچ پر) وہاں جاتے ہیں،‘‘ لکشمن بتاتے ہیں۔ ہم وہاں کچھ دن ٹھہرتے ہیں، مکھن اور پاو پر گزارہ کرتے ہیں اور کام کا انتظار کرتے ہیں۔ اگر ہمیں کام مل گیا، تو بہت ہی اچھا؛ ورنہ ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے ہمارے منھ پر طمانچہ مار دیا ۔ اور ہم (وڈار واڑی) لوٹ آتے ہیں۔‘‘

وڈار ہونے پر لکشمن کا ردِعمل ملا جلا ہے – ان کے دل میں ان لوگوں کے لیے واضح طور پر عزت و احترام ہے جو ان سے پہلے یہاں آئے اور خوبصورت ڈیزائنوں اور فن معمار سے شاندار عمارتیں بنائیں؛ وہ انھیں ’’بھگوان کے لوگ‘‘ بھی کہتے ہیں۔ لیکن وہ جب اپنی کمیونٹی کی غریبی کے بارے میں بتاتے ہیں تو ان کے اندر مایوسی بھی جھلکتی ہے: ’’میرے والد کو کس نے وڈار کی یہ زندگی دی؟ کہ پیدا ہونے کے بعد اسی کام کو کرنا ہے؟ اگر انھوں نے پڑھائی کی ہوتی اور انھیں کوئی نوکری مل گئی ہوتی، تو حالات کچھ اور ہوتے۔۔۔۔‘‘

لکشمن جن کی عمر اب ۶۶ سال ہو چکی ہے، نے 50 سال پہلے یہ کام اپنے والد اور دادا جی سے سیکھا تھا، جیسا کہ ان لوگوں نے اپنی پرانی نسل سے۔ ’’جب کوئی لڑکا 10 یا 11 سال کا ہو جاتا ہے، تو اس کے ہاتھ میں ایک ہتھوڑا پکڑا کر اسے استعمال کرنا سکھایا جاتا ہے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’وہ اپنی انگلیاں بھی توڑ سکتا ہے، لیکن کچھ مہینوں میں وہ کام سیکھ لے گا اور بڑوں کی طرح کام کرنے لگے گا۔‘‘ 

PHOTO • Samyukta Shastri

اس کام کے اوزار، اور چھینی سے سخت پتھروں کو لگاتار توڑنے سے دن بھر دھول اڑتی رہتی ہے

لیکن اس کام کو اب بہت کم لوگ سیکھ رہے ہیں، چند نوجوان وَسئی قلعہ تبھی آتے ہیں جب انھیں کہیں اور کوئی کام نہیں ملتا۔ ’’میرے بچے پتھر کا کام نہیں کرتے،‘‘ پوار بتاتے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا بیٹا ایک انجینئر ہے جو پُنے میں کام کرتا ہے۔ ’’یہی کام کرکے میں نے انھیں اسکول بھیجا۔‘‘

پتھر کاٹنے والے کاریگروں کے بچے جہاں اپنی فیملی کے روایتی پیشہ سے دور ہوتے جا رہے ہیں، وہیں جو کاریگر کئی دہائیوں سے چھینی چلا رہے ہیں انھیں اپنے اس مشکل کام کو لے کر مایوسی ہے۔ ’’کچھ بھی بدلنے والا نہیں ہے،‘‘ لکشمن کہتے ہیں۔ ’’شمشان میں ہمارے لیے لکڑی رکھی ہوئی ہے۔ تبدیلی کے دن کب کے چلے گئے۔‘‘ 

PHOTO • Samyukta Shastri

لکشمن ڈُکرے تھوڑی دیر کے لیے آرام کر رہے ہیں: ’کچھ بھی بدلنے والا نہیں ہے،‘ وہ کہتے ہیں

قلعہ کے قریب ہی بنی عارضی جھونپڑی میں رات کو سوتے وقت جب جسم میں درد کے سبب نیند نہیں آتی، تو لکشمن شراب پیتے ہیں۔ ’’ہمارے کندھے میں درد ہوتا ہے، پیٹھ میں درد ہوتا ہے، اور گھُٹنوں میں بھی ۔۔۔۔‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’جب درد بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے تو ہم دوا لیتے ہیں، جب یہ برداشت سے باہر ہوجاتا ہے تو ہم ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔ ورنہ ہم آدھا کوارٹر چڑھا لیتے ہیں ۔۔۔۔‘‘

پوار بھی یہی کرتے ہیں۔ ’’شام ہوتے ہی بدن ٹوٹنے لگتا ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں، ’’تب ہم آدھا کوارٹر خالی کر دیتے ہیں اور لیٹ جاتے ہیں ۔۔۔‘‘ اور اگلے دن جاگتے ہیں اسی چھینی اور ہتھوڑی، گرمی اور دھول کے لیے۔

 تصویریں: سَمیُکتا شاستری

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Samyukta Shastri

سَمیُکتا شاستری پیپلز آرکائیو آف رورول انڈیا کی کانٹینٹ کوآرڈی نیٹر ہیں۔ ان کے پاس سمبایوسِس سنٹر فار میڈیا اینڈ کمیونی کیشن، پُنے سے میڈیا اسٹڈیز کی بیچلر ڈگری، اور ایس این ڈی ٹی ویمنس یونیورسٹی، ممبئی سے انگریزی ادب میں ماسٹر کی ڈگری ہے۔

Other stories by Samyukta Shastri