’’شام ۷ بجے سے صبح ۷ بجے کے درمیان لوگوں کی آمد و رفت پر، ضروری سرگرمیوں کو چھوڑ کر، ’سختی سے پابندی‘ رہے گی۔‘‘

– وزارتِ داخلہ کا سرکولر (۱۷ مئی کو انڈیا ٹوڈے میں شائع)

سرکولر میں ’مسافر گاڑیوں اور بسوں کی بین ریاستی آمد و رفت کی اجازت دے کر مہاجر مزدوروں کو راحت‘ دی گئی تھی (اگر دو پڑوسی ریاستیں اس پر متفق ہو جائیں)۔ لیکن اس میں شاہراہ پر پیدل چلنے والے لاکھوں لوگوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا تھا۔

کرفیو کے وقت نے انہیں تپتی گرمی کے اس موسم میں صبح ۷ بجے سے شام ۷ بجے کے درمیان، بعض دفعہ ۴۷ ڈگری سیلسیس درجہ حرارت میں چلنے پر مجبور کر دیا۔

ایک مہینہ پہلے، لاک ڈاؤن کے سبب کام اور آمدنی بند ہو جانے کے بعد، تلنگانہ کے مرچ کے کھیتوں میں کام کرنے والی ۱۲ سال کی آدیواسی لڑکی، جملو مڑکم نے چھتیس گڑھ میں واقع اپنے گھر پہنچنے کے لیے پیدل ہی چلنا شروع کر دیا۔ یہ بچی تین دنوں میں ۱۴۰ کلومیٹر چلی، لیکن جب وہ اپنے گھر سے صرف ۶۰ کلومیٹر دور تھی، تبھی تھکاوٹ، جسم میں پانی کی کمی اور پٹھوں میں درد کے سبب بیہوش ہوکر نیچے گری اور اس کی موت ہو گئی۔ کرفیو کے اس قسم کے فرمان کتنی اور جملو کو ماریں گے؟

سب سے پہلے، ۲۴ مارچ کو وزیر اعظم کے ذریعے کیے گئے اعلان سے لوگ بری طرح گھبرا گئے، کیوں کہ ۱۳۰ کروڑ کی آبادی والے اس ملک کو اپنا سارا کام کاج روک دینے کے لیے صرف چار گھنٹے کی مہلت دی گئی۔ ہر جگہ کے مہاجر مزدوروں نے اپنے دور دراز کے گھروں کی طرف پیدل ہی چلنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد، پولس شہر میں جن لوگوں کو پیٹتے ہوئے ان کی گھنی بستیوں میں واپس نہیں لے جا سکی، ہم نے انہیں ریاست کی سرحدوں پر روک لیا۔ ہم نے لوگوں کے اوپر حشرہ کش دواؤں کا چھڑکاؤ کیا۔ بہت سے لوگ ’راحت کیمپوں‘ میں چلے گئے، لیکن کس کے لیے راحت، یہ کہنا مشکل ہے۔

ممبئی - ناسک شاہراہ عام دنوں کے مقابلے لاک ڈاؤن کے دوران سب سے زیادہ مصروف تھی۔ لوگوں نے جیسے تیسے چلنا شروع کر دیا۔ بملیش جیسوال، جنہوں نے کئی سال پہلے ایک حادثہ میں اپنا ایک پیر کھو دیا تھا، انہوں نے مہاراشٹر کے پنویل سے مدھیہ پردیش کے ریوا تک، ۱۲۰۰ کلومیٹر کا سفر اپنی بیوی اور تین سال کی بیٹی کے ساتھ بنا گیئر والے ایک اسکوٹر سے پورا کیا۔ ’’چار گھنٹے کے نوٹس پر ملک کو کون بند کرتا ہے؟‘‘ وہ سوال کرتے ہیں۔ بھائی بملیش، آپ کو اس کا جواب معلوم ہے۔

Left: How many more Jamlos will such curfew orders create? Right: Bimlesh Jaiswal rode a scooter (he has only one leg) across 1,200 kms
PHOTO • Kamlesh Painkra
Left: How many more Jamlos will such curfew orders create? Right: Bimlesh Jaiswal rode a scooter (he has only one leg) across 1,200 kms
PHOTO • Parth M.N.

بائیں: کرفیو کے اس قسم کے فرمان کتنی اور جملو کو ماریں گے؟ دائیں: بملیش جیسوال نے ۱۲۰۰ کلومیٹر تک اسکوٹر چلایا (ان کی صرف ایک ٹانگ ہے)

دریں اثنا، ہم نے کہا: ’’ہم ہر جگہ سے ریل گاڑیاں چلائیں گے اور آپ لوگوں کو گھر بھیجیں گے۔‘‘ ہم نے کیا بھی، اور بھوکے، پریشان لوگوں سے پورا کرایہ مانگا۔ پھر ہم نے ان میں سے کچھ ریل گاڑیاں ردّ کر دیں، کیوں کہ بلڈر اور دیگر لابیوں سے جڑے لوگ اپنے قیدی مزدوروں کو بھاگنے سے روکنا چاہتے تھے۔ ان اور دیگر تنازعات نے بڑے پیمانے پر ریلوے خدمات شروع کرنے میں خطرناک طور سے دیری کی۔ ۲۸ مئی کو، سرکار نے ہندوستان کی عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ ۱ مئی کو شرمک اسپیشل ٹرینیں شروع ہونے کے بعد سے اب تک ۹۱ لاکھ مزدوروں کو ان کے آبائی مقامات تک پہنچا دیا گیا ہے۔ اور کرایے کی ادائیگی، سالسٹر جنرل نے عدالت کو بتایا، کچھ تو وہ ریاستیں کریں گی جہاں سے ریل گاڑیاں چلائی گئی ہیں، اور کچھ ان ریاستوں کے ذریعے ادا کیا جائے گا جہاں تک ریل گاڑی جائے گی۔ (یہاں پر مرکز کی طرف سے کوئی تعاون نہیں۔)

یہ آپ کو اتنے بڑے پیمانے پر جو کچھ چل رہا ہے، اس کی ایک جھلک دکھاتا ہے، صرف ایک جھلک۔ ہم نہیں جانتے کہ ان ریل گاڑیوں میں سفر کرنے کے لیے کتنے لاکھ اور لوگ رجسٹر کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ قومی شاہراہوں پر کتنے لاکھ لوگ اور ہیں۔ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ وہ کسی بھی طرح اپنے گھر جانا چاہتے ہیں۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کچھ طاقتور لابیاں ایسا نہیں چاہتی ہیں اور وہ، دراصل، محسوس کرتی ہیں کہ ان مزدوروں کو سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔ کئی ریاستوں نے کام کا وقت بڑھاکر ۱۲ گھنٹے کر دیا، جن میں تین ریاستیں ایسی ہیں جہاں پر بی جے پی برسر اقتدار ہے، جنہوں نے اضافی گھنٹوں کے لیے اضافی اجرت نہیں دینے کا فیصلہ کیا۔ کچھ ریاستوں نے، تین سال کے لیے، بہت سے لیبر قوانین کو منسوخ کر دیا۔

۱۲ اپریل کو، سرکار نے بتایا کہ پورے ہندوستان میں ۱۴ لاکھ لوگ راحت کیمپوں میں ہیں۔ اس طرح کے کیمپوں میں ۳۱ مارچ کو یہ تعداد دو گنی ہو جاتی ہے۔ ایسے تیزی سے بڑھتے ’غذائی کیمپوں‘، مشترکہ باورچی خانوں، این جی او کی کوششوں وغیرہ کی تعداد ۱۲ اپریل کو ۱۳۰ لاکھ ہو گئی، جو ۳۱ مارچ کی تعداد سے پانچ گنا زیادہ تھی۔ اور ان تمام نمبروں کو شمار کرنے پر ہم پاتے ہیں کہ یہ پوری وبا کا صرف ایک ٹکڑا ہے۔ آج بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ اس بحران سے لڑنے کے لیے مرکزی حکومت کے مقابلے عام عوام، افراد، کمیونٹی، پڑوس، کارکنوں کے گروہ، غیر منافع بخش، خیراتی ادارے اور خود مہاجر لوگ زیادہ پیسے خرچ کر رہے ہیں۔ ان کی تشویش یقیناً حقیقی ہے۔

۱۹ مارچ سے ۱۲ مئی کے درمیان، وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹیلی ویژن پر پانچ بار قوم سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپیل کی کہ کووڈ-۱۹ کے خلاف ’پہلی قطار کے سپاہیوں‘ کی حوصلہ افزائی کے لیے ہم تھالی پیٹیں، تالی بجائیں، چراغ جلائیں، پھولوں کی بارش کریں۔ صرف پانچویں خطاب میں انہوں نے مزدوروں کا ذکر کیا۔ ’مہاجر مزدور‘، صرف ایک بار۔ جائیں اور پتہ لگائیں۔

Corona refugees returning from Raipur in Chhattisgarh to different villages in Garhwa district of Jharkhand state
PHOTO • Satyaprakash Pandey

کورونا مہاجر چھتیس گڑھ کے رائے پور سے جھارکھنڈ کے گڑھوا ضلع کے الگ الگ گاؤوں میں لوٹ رہے ہیں

کیا مہاجر واپس آئیں گے؟

وقت کے ساتھ ان میں سے کئی لوگ متبادل کی کمی سے لوٹ آئیں گے۔ ترقی کے لیے ہمارے ذریعے منتخب کی گئی راہ کی تقریباً تین دہائیوں میں، ہم نے لاکھوں ذریعۂ معاش چھین لیے، جس کی وجہ سے ابھی بھی زراعت کا وہ بحران جاری ہے جس نے ۳ لاکھ ۱۵ ہزار سے زیادہ کسانوں کو خودکشی کرنے پر مجبور کر دیا۔

’الٹی مہاجرت‘ پر ضرور بحث کیجئے۔ لیکن یہ بھی پوچھئے کہ انہوں نے اپنے گاؤوں کو آخر کیوں چھوڑا تھا۔

۱۹۹۳ میں، محبوب نگر – جو کہ اب ریاست تلنگانہ میں ہے – سے ممبئی تک ہفتہ میں صرف ایک بس چلتی تھی۔ مئی ۲۰۰۳ میں، جب میں اس بھیڑ بھاڑ والی بس میں سوار ہوا، تو اس راستے پر ہفتہ میں ۳۴ بسیں چل رہی تھیں، جو مہینہ کے آخر تک ۴۵ ہو گئیں۔ میرے ساتھ سفر کر رہے لوگ زرعی اقتصادیات کے زوال کا شکار تھے۔ ان میں سے ایک شخص ۱۵ ایکڑ زمین کا مالک تھا، جس نے مجھے بتایا کہ اس کی کھیتی برباد ہو گئی ہے اور اسے ممبئی میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بغل میں بیٹھا شخص پہلے اس کا بندھوا مزدور ہوا کرتا تھا، جو اسی بس میں سفر کر رہا تھا۔

تب میرے دماغ میں یہ بات آئی تھی: ہم سب ایک ہی بس میں سوار ہیں۔

۱۹۹۴ میں، کیرل اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (کے ایس آر ٹی سی) کی ایسی کوئی بس نہیں تھی، جو وایناڈ ضلع کے ماننتھ وڈی سے کرناٹک کے کُٹّا شہر کے درمیان چلتی ہو۔ زرعی بحران پیدا ہونے سے پہلے تک، لوگ نقدی فصلوں کے معاملے میں امیر وایناڈ ضلع کی طرف ہجرت کرتے تھے۔ ۲۰۰۴ میں، کے ایس آر ٹی سی کی بسیں روزانہ کُٹّا تک ۲۴ چکر لگا رہی تھیں۔ لیکن زراعت کے زوال کے ساتھ ہی وایناڈ میں کام ملنا بھی بند ہو گیا۔

ایسا پورے ملک میں ہو رہا تھا۔ لیکن ہم اپنی ترقی کے اعداد و شمار سے خوش تھے، جو مجھے ایڈورڈ ابے کی مشہور لائن یاد دلاتی ہے: ’ترقی برائے ترقی کینسر کے خلیہ کا نظریہ ہے‘۔ ہم جشن منانے میں مصروف تھے، اور جو لوگ بڑھتے دیہی بحران کی طرف اشارہ کر رہے تھے، ان کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔

زیادہ تر ایڈیٹر اور اینکر اسے ابھی بھی سمجھ نہیں پا رہے ہیں (حالانکہ ان کے نوجوان رپورٹر اکثر اسے سمجھتے ہیں): کہ زرعی بحران صرف کھیتی کے بارے میں نہیں ہے۔ جب متعلقہ پیشوں سے وابستہ لاکھوں غیر کسانوں – بنکروں، کمہاروں، بڑھئی، میٹھے پانی کے ماہی گیروں، زرعی اقتصادیات سے جڑے بہت سے دیگر لوگوں – کا ذریعۂ معاش بھی ختم ہو گیا، تو پوری زرعی برادری اس بحران میں داخل ہو گئی۔

اور آج یہ لوگ اسی ذریعۂ معاش کی طرف لوٹنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے ہم نے پچھلے ۳۰ برسوں میں برباد کر دیا۔

۲۰۱۱ کی مردم شماری نے جب ہمیں بتایا کہ سابقہ ۱۰ برسوں میں ہجرت کی غیر معمولی تعداد دیکھنے کو ملی تھی، تو میڈیا نے اس میں بہت کم دلچسپی دکھائی۔ ہم نے دیکھا کہ ۱۹۲۱ کے بعد پہلی بار، دیہی ہندوستان کے مقابلے شہری ہندوستان کی آبادی تیزی سے بڑھی ہے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ۱۹۹۱ کے مقابلے، ملک بھر میں کسانوں (’بنیادی‘ کاشت کاروں) کی تعداد ۱۵۰ لاکھ کم ہوئی ہے۔ یعنی ۱۹۹۱ سے روزانہ اوسطاً ۲۰۰۰ کسانوں نے کاشت کاری چھوڑی ہے۔

اس کا سیدھا سا مطلب ہے کہ بڑے پیمانے پر ہجرت شروع ہوئی اور بڑھتی جا رہی ہے۔ کاشت کاری چھوڑنے والے بہت سے کسان بڑے شہروں میں نہیں گئے، بلکہ وہ زراعت کے نچلے طبقہ میں پہنچ گئے۔ مردم شماری نے زرعی مزدوروں کی تعداد میں زبردست اضافہ دکھایا۔ اب ان کے ساتھ وہ سبھی لوگ آکر شامل ہو رہے ہیں، جنہوں نے ہجرت کی تھی۔ زراعت پر اس نئے دباؤ کا کیا نتیجہ ہوگا؟ آپ کو جواب معلوم ہے۔

Many labourers from Udaipur district, who migrate to different parts of the country, are stranded because of the lockdown (file photo)
PHOTO • Manish Shukla

ادے پور ضلع کے کئی مزدور، جو ملک کے الگ الگ حصوں میں ہجرت کرتے ہیں، لاک ڈاؤن کے سبب پھنسے ہوئے ہیں (فائل فوٹو)

آخر یہ لوگ کون ہیں؟

ہر کوئی بڑے شہر کے لیے چھوٹے گاؤں کو نہیں چھوڑ رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ گاؤں سے شہر کی طرف ہجرت کرنے والے کئی ہیں۔ لیکن بہت سے لوگ ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کی طرف سے ہجرت کرتے رہے ہیں۔ جو لوگ ربیع کی فصل کاٹنے کے لیے دوسرے گاؤوں، ضلعوں اور ریاستوں میں جاتے ہیں، وہ اس سال مارچ-اپریل میں وہاں نہیں جا سکے۔ وہ کافی تناؤ میں ہیں۔

پھر بڑی تعداد میں لوگ ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف بھی ہجرت کرتے ہیں۔ اور شہر سے گاؤں کی طرف جانے والے بھی کچھ مہاجر ہیں، لیکن ان کی تعداد نسبتاً کم ہے۔

ہمیں ان سبھی پر غور کرنے کی ضرورت ہے، خاص طور سے ’پیدل چلنے والے مہاجروں‘ کے بارے میں۔ غریب لوگ کام کی تلاش میں کئی سمتوں میں نکل پڑتے ہیں واضح طور سے یہ جانے بغیر کہ ان کی آخری منزل کہاں ہے – ظاہر ہے، مردم شماری میں اس عمل کو ریکارڈ نہیں کیا جا سکتا۔ شاید وہ کچھ دنوں تک رکشہ چلانے کے لیے کالاہانڈی سے رائے پور چلے جائیں۔ ہو سکتا کہ انہیں ممبئی میں کسی تعمیراتی مقام پر ۴۰ دنوں کا کام مل جائے۔ شاید وہ فصل کاٹنے کے لیے پاس کے ضلع میں پہنچ جائیں۔ شاید۔

۲۰۱۱ کی مردم شماری بتاتی ہے کہ ۵۴۰ لاکھ مہاجروں نے ریاستی سرحدیں پار کیں۔ لیکن یہ تعداد بہت کم کرکے بتائی گئی ہے۔ مردم شماری کی سمجھ کے مطابق، مہاجرت ایک بار کا عمل ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ مہاجر وہ شخص ہے جو مقام ’اے‘ سے مقام ’بی‘ پر چلا گیا اور مردم شماری کے وقت وہاں پر کم از کم چھ مہینے سے رہ رہا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ شخص اس مقام (مان لیجئے ممبئی) پر پہنچنے سے پہلے، کئی برسوں تک سفر میں رہا ہو۔ ایسے سفر کی کہانی کبھی ریکارڈ نہیں کی جاتی۔ قلیل مدتی یا مرحلہ در مرحلہ مہاجرت کو ریکارڈ کرنے کے لیے نہ تو مردم شماری تیار ہے اور نہ ہی نیشنل سیمپل سروے۔

مہاجروں پر رپورٹنگ کرتے وقت میڈیا تذبذب سے کام لیتا ہے، جنہیں وہ صرف ۲۶ مارچ کو ڈھونڈ پائے، اس لیے کہ وہ موجود ہیں۔ اس شعبہ کے لیے ان کے پاس کوئی بیٹ نہیں ہے اور وہ طویل مدتی، موسمی، قلیل مدتی یا گشتی، یا پیدل چلنے والے مہاجرین کے درمیان فرق کو نہیں سمجھ سکتے۔ ایسی بیٹ کو کیوں کور کیا جائے جہاں سے پیسے نہیں کمائے جا سکتے؟

*****

کئی اچھے لوگ مجھ سے کہہ رہے تھے: مہاجر مزدوروں کے لیے یہ خطرناک حالت ہے۔ ہمیں ان کی مدد کرنی چاہیے۔ یہ سخت محنت کرنے والے لوگ ہیں، جو اس وقت مصیبت میں ہیں۔ وہ فیکٹریوں میں کام کرنے والوں اور ان کی یونین کی طرح نہیں ہیں، جو ہمیشہ ہنگامہ کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہماری ہمدردی کے حقدار ہیں۔

بیشک، یہ ہمدردی دکھانے کے لیے ٹھیک ہے، اور کبھی کبھی آرامدہ بھی۔ لیکن مہاجر مزدوروں کو ہماری ہمدردی، فکرمندی یا رحم کی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں انصاف چاہیے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے حقوق کو حقیقی مانا جائے، ان کا احترام کیا جائے اور انہیں نافذ کیا جائے۔ اگر فیکٹریوں میں کام کرنے والے ان ’برے‘ مزدوروں کے پاس کچھ حقوق ہیں، تو یہ اس لیے کیوں کہ وہ منظم ہیں اور ان کے پاس مجموعی طاقت اور بات چیت کرنے کی صلاحیت ہے۔ اور یہ ان تنظیموں کی وجہ سے ہے جو آواز بلند کرتی ہیں۔ اگر آپ کے دل میں ’مہاجر مزدوروں‘ کے لیے بلا شرط ہمدردی اور رحم ہے اور آپ سطحی حالات کے ماتحت نہیں ہیں، تو ہندوستان میں تمام محنت کشوں کے انصاف اور ان کے حقوق کی لڑائی کی حمایت کریں۔

Census 2011 indicates there were 54 million migrants who cross state borders. But that’s got to be a huge underestimate
PHOTO • Rahul M.
Census 2011 indicates there were 54 million migrants who cross state borders. But that’s got to be a huge underestimate
PHOTO • Parth M.N.

۲۰۱۱ کی مردم شماری بتاتی ہے کہ ۵۴۰ لاکھ مہاجروں نے ریاستی سرحدیں پار کیں۔ لیکن یہ تعداد بہت کم کرکے بتائی گئی ہے

مہاجروں اور دیگر مزدوروں کے درمیان کا فرق کافی عجیب ہے۔ اصطلاح ’مہاجر مزدور‘میں قابل توجہ لفظ ’مزدور‘ ہے۔ اگر انفوسس کے سی ای او نے اپنی بنگلورو ہیڈ کوارٹر والی کمپنی چھوڑ دی اور بہتر مستقبل کی تلاش میں دہلی چلے گئے، تو وہ مہاجر کہلائیں گے، مزدور نہیں۔ ذات، طبقہ، سماجی پونجی اور رابطوں کے نیٹ ورک سے متعلق ان کی حیثیت ان مہاجر مزدوروں سے بہت الگ ہے جن کے لیے ہم اس وقت اپنی ہمدردی دکھا رہے ہیں۔ وہ دیگر برے مزدور جن سے ہم نفرت کرتے ہیں، وہ ہم سے بات کرتے ہیں، اور بے شرمی سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں، اکثر پچھلی نسلوں کے ہی مہاجر ہیں۔

ممبئی کے مل مزدور ابتدائی دنوں میں، زیادہ تر کونکن اور مہاراشٹر کے دیگر علاقوں سے آئے مہاجر تھے۔ بعد میں، ملک کے دیگر حصوں سے بھی آنے لگے۔ اکنامک اینڈ پولیٹیکل ویکلی میں شائع اپنے ایک تحقیقی مضمون میں ڈاکٹر روی دُگّل لکھتے ہیں کہ جب ۱۸۹۶-۹۷ میں طاعون کی وبا پھیلی، تو یہ مزدور بھی ایک بار ممبئی سے بھاگ گئے تھے۔ پہلے چھ مہینوں میں، ممبئی میں ۱۰ ہزار سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ اس طاعون کی وجہ سے، ۱۹۱۴ تک پورے ہندوستان میں ۸۰ لاکھ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

’’شہر کی کل ۸ لاکھ ۵۰ ہزار کی آبادی میں سے ۸۰ ہزار لوگ مل مزدور تھے،‘‘ دُگّل لکھتے ہیں۔ ’’طاعون پر قابو پانے کے طریقوں، جس میں صفائی، کوارنٹائن اور بیمار افراد کو ان کی فیملی سے الگ کرکے خستہ حالت میں رکھنا، اور یہاں تک کہ ان کے گھروں کو توڑنا تک شامل تھا، ان تمام اذیتوں سے مجبور ہوکر انہوں نے ۱۸۹۷ کی شروعات میں کئی بار ہڑتال کا سہارا لیا۔ طاعون کی ابتدا کے تین سے چار مہینے کے اندر، ۴ لاکھ لوگ بمبئی سے بھاگ کر اپنے گاؤوں چلے گئے، جن میں سے کئی مل مزدور بھی تھے۔ اس کی وجہ سے یہ شہر خطرناک اقتصادی بحران میں گھر گیا۔‘‘

بعد میں بہت سے لوگ لوٹ آئے، لیکن کیوں؟ ’’کئی مل مالکوں نے نوروس جی واڈیا کے ذریعے بتائی گئی حکمت عملی کو اپنایا – کہ ان کے لیے رہائش کا انتظام کیا جائے، اور کام کی جگہ اور رہنے کی جگہ پربہتر سہولیات فراہم کرکے آجروں اور مزدوروں کے درمیان کے رشتے کو مضبوط بنایا جائے (سرکار ۲۰۱۴)۔ اسی کی وجہ سے مزدور بمبئی لوٹ آئے، جب کہ طاعون علاقائی سطح پر موجود تھا اور پہلی جنگ عظیم کے دوران ہی غائب ہوا۔‘‘

انگریزی حکومت نے بھی مداخلت کی، پارلیمنٹ میں ایک قانون پاس کرکے بامبے امپروومنٹ ٹرسٹ بنایا گیا۔ میونسپل کارپوریشن اور سرکار نے تمام خالی زمینیں اس ٹرسٹ کو سونپ دیں، اور پھر انہوں نے اپنی نظر سے اس شہر میں رہنے اور صفائی کی حالت کو بہتر کرنا شروع کر دیا۔ لیکن افسوس، ان کی خود کی نظر بہت تیز نہیں تھی: اس نے کچھ گھر بنائے، لیکن جتنے بنائے نہیں اس سے کہیں زیادہ توڑ دیے۔ لیکن کم از کم اتنی سوچ تو ضرور تھی کہ بہتری لانی ہے۔ حالانکہ، وہ سوچ، جیسے کہ آج بھی ہے، ’شہر‘ اور اس کی شبیہ کو بہتر کرنے کے بارے میں تھی۔ غریبوں اور حاشیہ پر رہنے والے لوگوں کی حقیقی زندگی اور ان کے حالات میں بہتری کے بارے میں نہیں تھی، جن کی محنت پر یہ شہر ٹکا ہوا ہے۔

Left: Migrant workers from Odisha stranded at Telangana's brick kilns during the lockdown. Right: The long road home from Nagpur
PHOTO • Varsha Bhargavi
Left: Migrant workers from Odisha stranded at Telangana's brick kilns during the lockdown. Right: The long road home from Nagpur
PHOTO • Sudarshan Sakharkar

بائیں: لاک ڈاؤن کے دوران تلنگانہ کے اینٹ بھٹوں پر پھنسے اوڈیشہ کے مہاجر مزدور۔ دائیں: ناگپور سے گھر کو جانے والی لمبی سڑک

غریبوں کے تئیں رحم کا جذبہ بھی کم ہو گیا جیسے کہ طاعون اور اس کی یادیں پھیکی پڑ گئی تھیں۔ آج اور کل کی تصویر ایک جیسی ہے۔ ہمیں اس مارچ میں مہاجروں کی خستہ حالت کا پتہ تب چلا جب ہمارے لیے وہ ساری خدمات اچانک بند ہو گئیں جن کو ہم زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے۔ جب آرام و آسائش کا انتظام دوبارہ ہو جاتا ہے، تو رحم دلی بھاپ کی طرح اڑ جاتی ہے، یہی اس کی عادت ہے۔

۱۹۹۴ میں، طاعون نے سورت میں ۵۴ لوگوں کی جان لے لی۔ ڈائریا کی وجہ سے ہندوستان میں ہر سال ۱۵ لاکھ بچے مر رہے تھے، جب کہ اسی مدت کے دوران تپ دق سے مرنے والوں کی تعداد سالانہ ۴ لاکھ ۵۰ ہزار تھی۔ لیکن میڈیا نے سورت کے طاعون پر زیادہ توجہ دی، جب کہ اسی سال دو قابل علاج بیماریوں نے اس سے ۳۰ ہزار گنا زیادہ لوگوں کی جان لے لی تھی، پھر بھی اس پر کوئی دھیان نہیں دیا گیا۔

طاعون کے تیزی سے غائب ہوتے ہی، ہم دوبارہ ان بیماریوں کی اندیکھی کرنے لگے جن سے خاص طور سے غریب لوگ مرتے ہیں۔ اور ان کی زندگی کی حالت کے بارے میں بھول گئے، جس سے انہیں ان بیماریوں کے ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ہمارے زمانے میں، کووڈ-۱۹ کی آمد سے قبل، ہماری ’شمولیتی ترقی‘ میں ’اسمارٹ سٹی‘ (تمام سہولیات سے لیس شہروں) کا تصور کیا گیا ہے، جس سے ان شہروں کی موجودہ آبادی میں سے صرف ۳-۵ فیصد لوگوں کو ہی فائدہ ملے گا، باقی لوگ گندگی اور بیماری جھیلتے رہیں گے۔

گاؤوں کے مہاجرین کو شہر میں بہتر مزدور مل سکتی ہے، لیکن ان کی زندگی اور صحت کی حالت، خاص طور سے عورتوں اور بچوں کے لیے بہت ہی خراب ہو سکتی ہے۔

کیا ہم ان سب کے بارے میں کچھ کر سکتے ہیں؟ ہاں، بہت کچھ۔ لیکن سب سے پہلے ہمیں ’سب کچھ حسب معمول ہے‘ کی سوچ سے باہر نکلنا ہوگا۔ ہمیں ۳۰ برسوں سے بازار سے ملنے والی بداعتقادی کو چھوڑنا ہوگا۔ اور ہندوستانی آئین کے مطابق ایک ایسی ریاست تعمیر کرنی ہوگی، جہاں تمام شہریوں کو ’’سماجی، اقتصادی اور سیاسی انصاف‘‘ ملے۔

کور فوٹو: سدرشن ساکھرکر

یہ مضمون پہلی بار ۳۰ مئی، ۲۰۲۰ کو انڈیا ٹوڈے میں شائع ہوا تھا۔

مترجم: محمد قمر تبریز

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath