پورے لداخ میں سفر کرنا آسان ہے، کیوں کہ یہاں اونچے پہاڑوں پر بھی سڑکوں کا ایک جال بچھا ہوا ہے، جس کی تعمیر بارڈر روڈس آرگنائزیشن نے کروائی ہے۔ پہاڑ پر ان لمبی سڑکوں کو بنانے والے زیادہ تر مزدور بہار، چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ کے رہنے والے ہیں۔ وہ یہاں ہر سال مئی سے وسط اکتوبر تک آتے ہیں اور فوج کو اپنی رسد لے جانے، سیاحوں، اور لداخ کے لوگوں کے لیے زیادہ سے زیادہ کنیکٹوٹی کو یقینی بناتے ہیں۔

میں چند ہفتے قبل، لیہہ شہر سے تقریباً ۵۵ کلومیٹر دور، چیلنگ گیا تھا۔ زیر تعمیر لیہہ-پڈوم شاہراہ، جو سال بھر زانسکر وادی تک رسائی فراہم کرے گی جب برفباری کے سبب پینسی لا درّہ کو سردیوں کے موسم میں چھ مہینے کے لیے بند کر دیا جاتا ہے، چیلنگ سے ہوکر گزرتی ہے۔ میں نے مزدوروں کے ساتھ ان کے خیموں میں چند راتیں گزارنے کا فیصلہ کیا۔

گیارہ فٹ چوڑا اور ساڑھے آٹھ فٹ اونچا خیمہ حد سے زیادہ بھرا ہوا ہے، یہ چھ مہینوں تک کے لیے ۷-۶ لوگوں کا گھر ہے۔ وہ ٹھنڈی زمین پر بچھی پھٹی چادر پر سوتے ہیں، ان کے تھیلے، برتن اور دیگر سامان بھی جگہ کو گھیرے ہوئے ہیں۔ خیمے عام طور سے کام کی جگہ سے ۱-۲ کلومیٹر دور گاڑے جاتے ہیں، اور جیسے جیسے سڑک کی تعمیر آگے کو بڑھتی رہتی ہے یہ مزدور ان خیموں کو بھی اکھاڑ کر آگے گاڑتے رہتے ہیں۔

میں اس خیمہ میں ایک رات سے زیادہ نہیں گزار سکا۔ خیمہ کے اندر ہوا، دھول اور سردی نا قابل برداشت تھی – گرمیوں میں رات کے وقت درجہ حرات زیرو ڈگری سیلسیس تک گر سکتا ہے۔

لہٰذا میں دن کے وقت لداخ میں ان سے کام کے دیگر مقامات پر جا کر ملتا رہا (صرف زیر تعمیر اس شاہراہ پر ہی نہیں)۔ دن کا وقت بھی مشکل ہوتا ہے۔ گرمی میں درجہ حرارت ۳۵ ڈگری سیلسیس تک جا سکتا ہے اور پہاڑ کی سیدھی دھوپ سخت ہوتی ہے۔ لداخ کا علاقہ ۱۱ ہزار فٹ سے ۱۸ ہزار فٹ تک کی اونچائی میں پھیلا ہوا ہے۔ یہاں کی ہوا پتلی ہے۔ کم آکسیجن والے اس پہاڑی علاقے میں سڑک کی تعمیر میں لگنے والی سخت محنت میدانی علاقوں – اور کچھ مقامی لوگوں - کے لیے نہایت مشکل ہو سکتی ہے۔ کام میں شامل ہے مٹی کھودنا، اور گیلی مٹی اور پتھروں کے وزنی بوجھ ڈھونا۔ مرد ایک دن میں ۱۰ گھنٹے کام کرتے ہیں، ہفتہ میں چھ دنوں تک، جس کے لیے انھیں ۳۵۰ روپے سے لے کر ۶۰۰ روپے تک یومیہ اجرت ملتی ہے، مزدوری کا انحصار کام کی نوعیت اور تجربہ کی سطح پر ہے۔

دریائے سندھ کے کنارے، چوما تھانگ گاؤں کے قریب بہار اور چھتیس گڑھ سے آئے مزدوروں کے ایک گروپ نے مجھے بتایا، ’’ہمارے پاس اپنی حفاظت کے لیے مناسب سامان نہیں ہیں [کچھ ہی لوگ ہیلمیٹ، لمبے جوتے اور چشمے پہنتے ہیں]۔ ہندوستانی فوج نے رات میں پہہنے کے لیے کچھ گرم کپڑے مہیا کرائے ہیں۔ کام کی جگہ پر پینے کے پانی کی بھی کمی ہے۔‘‘

چوشول گاؤں کے قریب میری ملاقات تقریباً ۵۰ سال کی عمر کے بھکت رام سورجی سے ہوئی، جو سندھ ندی پر ایک چھوٹا پل بنانے کے کام میں لگے ہوئے تھے۔ وہ جھارکھنڈ سے ہیں، اور لداخ میں پانچ مہینے سے کام کر رہے ہیں۔ وہ یہاں گزشتہ چار برسوں سے آ رہے ہیں، لیکن وہ کہتے ہیں، ’’مجھے یہاں کام کرنا پسند نہیں ہے۔ مزدوری کم ہے اور کام مشکل۔ بعض سڑک کا کام اتنا خطرناک ہے کہ مجھے نہیں پتہ ہوتا کہ میں اگلے دن کا سورج دیکھ پاؤں گا یا نہیں۔ میں سوچتا رہتا ہوں کہ اگلے سال سے یہاں نہ آؤں۔ لیکن پھر بھی آ جاتا ہوں۔ مجھے ایسا کرنا ہی پڑتا ہے، کیوں کہ گھر پر ایسا کچھ نہیں ہے جسے میں لگاتار چھ مہینے تک کر سکوں۔‘‘

PHOTO • Ritayan Mukherjee

لداخ کے پہاڑوں میں سڑکوں کی تعمیر کرنے والے بہت سے مزدور بہار، چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ کے رہنے والے ہیں؛ وہ سخت ترین بالائی علاقوں میں مئی سے وسط اکتوبر تک کام کرتے ہیں

PHOTO • Ritayan Mukherjee

بہار کے رہنے والے جیتن مرمو (بائیں)، اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ، چیلنگ گاؤں میں اپنے خیمہ میں دوسرے کیمپ سائٹ سے دوپہر کا کھانا آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ کپڑے کے یہ خیمے مشکل سے ٹھنڈ راتوں میں ان مزدوروں کی حفاظت کر پاتے ہیں۔ یہ لوگ سڑک کے کنارے کیمپ لگاتے ہیں اور سڑک کے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ٹینٹ کو بھی آگے بڑھاتے رہتے ہیں

PHOTO • Ritayan Mukherjee

لداخ کے اونچے علاقوں کی سڑکوں کی تعمیر یہ مزدور ہاتھ سے کرتے ہیں – بھاری سامان کی یہاں کمی ہے۔ مزدوروں کے پاس مشکل سے کوئی حفاظتی سامان ہے، اور یہ بھاری دھول سے بچنے کے لیے اپنے چہرے پر کپڑا باندھتے ہیں، ماسک نہیں۔ وہ کم آکسیجن والی ہوا میں بلند و بالا مقامات پر اپنے کندھوں پر بھاری بوجھ لاد کر چلتے ہیں، اور انھیں اپنی سانس پر قابو پانے کے لیے تھوڑے تھوڑے وقفہ پر بیٹھ کر آرام کرنا پڑتا ہے

PHOTO • Ritayan Mukherjee

بہار کے پرکاش سنگھ لیہہ-نیمو-چیلنگ-پڈوم شاہراہ پر سڑک کی تعمیر کا جائزہ لے رہے ہیں

PHOTO • Ritayan Mukherjee

ایک مزدور، کھدائی کرنے والے آلہ کا استعمال کرتے ہوئے، مشہور لاما یورو موناسٹری سے تقریباً ۵۰ کلومیٹر دور، پہاڑ پر سڑک کو چوڑا کر رہا ہے – وہ پتلی ہوا میں موجود دھول کو سانسوں کے ذریعہ لگاتار اپنے جسم کے اندر پہنچا رہا ہے جہاں پر سانس لینا ہر طرح سے مشکل ہے

PHOTO • Ritayan Mukherjee

کام کی جگہ پر موجود چند عورتوں میں سے ایک، سندھیا رانی مرمو جھارکھنڈ کی رہنے والی ہیں؛ وہ بتاتی ہیں کہ یہاں وہ اپنے بھائی سے ملنے آئی ہیں، اور چانگ لا درّہ اور تاگستے کے درمیان، ڈربوک گاؤں کے قریب سڑک کی تعمیر کے کام میں لگی ہوئی ہیں۔ چانگ لا میں مٹی ہمیشہ کھسکتی رہتی ہے، اس لیے مزدوروں کی یہاں ہمیشہ ضرورت رہتی ہے

PHOTO • Ritayan Mukherjee

بیر بہادر نیپال کے رہنے والے ہیں۔ وہ گرمیوں کے ہر موسم میں سڑک بنانے چھ مہینے کے لیے لداخ آ جاتے ہیں۔ اس بار، چنڈی گڑھ کے ایک ٹھیکہ دار نے انھیں یہ کام دیا ہے۔ وہ نیپال کے پانچ دیگر مزدوروں کے ساتھ ایک ٹینٹ میں ٹھہرے ہوئے ہیں

PHOTO • Ritayan Mukherjee

پیما اپنے تین سال کے بیٹے، نگوڈوپ کو کام کی جگہ پر لاتی ہیں۔ وہ لوکونگ گاؤں کے پاس رہتے ہیں، جو کہ مشرقی لداخ میں پینگانگ تسو جھیل کے قریب ہے۔ چند لداخی کنبے بھی ان مہاجرین کے ساتھ سڑکوں کی تعمیر کا کام کرتے ہیں

PHOTO • Ritayan Mukherjee

جھارکھنڈ کے سنتوش ٹوپنو، چوما تھانگ کے قریب ایک پل کی تعمیر کا کام کر رہے تھے، اور اب تھوڑی دیر کے لیے آرام کر رہے ہیں

PHOTO • Ritayan Mukherjee

مہاجر مزدور لیہہ سے ایک گھنٹہ کی دوری پر، چوشول گاؤں کے ٹینٹ میں دوپہر کا کھانا کھا رہے ہیں۔ لنچ بریک ایک گھنٹہ کا ہوتا ہے۔ کھانا معمولی ہے، مشکل سے سخت موسم میں کافی ہوتا ہو – چاول، دال اور کچھ سبزیاں ان کے خیموں میں اسٹوو پر پکائی جاتی ہیں

PHOTO • Ritayan Mukherjee

چوما تھانگ سے ہوتے ہوئے کیاری اور ماہے پل کے درمیان کی سڑک تب تب ٹوٹ جاتی ہے، جب سندھ ندی مختلف مقامات پر اسے توڑ دیتی ہے۔ یہ چونکہ آرمی کی نقل و حمل کے لیے اہم راستہ ہے، اس لیے مزدوروں کو سڑک کی مرمت کے لیے بلایا گیا ہے

PHOTO • Ritayan Mukherjee

بھکت رام (۵۳) جھارکھنڈ کے کوڈرما ضلع کے ایک مزدور ہیں۔ وہ روزانہ ۴۰۰ روپے کماتے ہیں، اور یہاں گزشتہ چار سالوں سے آ رہے ہیں۔ وہ کام کی حالت کو پسند نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ وہ اگلے سال یہاں آنا نہیں چاہتے

PHOTO • Ritayan Mukherjee

حامد انصاری (۳۲)، جھارکھنڈ کے رانچی ضلع کے رہنے والے ہیں۔ ان کے ٹھیکہ کی مدت ۱۰ اکتوبر کو ختم ہو چکی ہے اور وہ لیہہ واپس لوٹنے کے لیے تسو موریری کے قریب گاڑی کا انتظار کر رہے تھے

PHOTO • Ritayan Mukherjee

جھارکھنڈ کے رہنے والے دو مزدور، شام کے وقت میگنیٹک ہل کے پاس واقع اپنے ٹینٹ کی طرف جا رہے ہیں

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Ritayan Mukherjee

رِتائن مکھرجی کولکاتا میں مقیم ایک پرجوش فوٹوگرافر اور ۲۰۱۶ کے پاری فیلو ہیں۔ وہ ایک لمبے پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں جو تبتی پٹھار کی خانہ بدوش کمیونٹیز کی زندگی کا احاطہ کرنے پر مبنی ہے۔

Other stories by Ritayan Mukherjee