آندھرا پردیش کے وجیا نگرم کی یہ بوڑھی عورت اپنے پورے گھر اور اس کے آس پاس کے علاقے کو پوری طرح صاف شفاف رکھتی ہے۔ یہی گھر کا کام ہے ۔ ۔ اور ’عورتوں کا کام‘ بھی ہے۔ لیکن چاہے گھر پر ہو، یا پھر عوامی جگہوں پر، ’صفائی کرنے‘ کا ڈھیر سارا گندا کام عورتیں ہی کرتی ہیں۔ اور اس کے لیے انھیں پیسہ سے زیادہ گالیاں سننی پڑتی ہیں۔ اس قسم کی جو عورتیں راجستھان میں ہیں، ان کے ساتھ تو اور بھی برا سلوک ہوتا ہے۔ یہ ایک دلت* عورت ہے۔ یہ پرائیویٹ گھروں میں انسانوں کے فضلات (پاخانے) صاف کرنے کا کام ’ہاتھ‘ سے کرتی ہے۔ یہ راجستھان کے سیکر ضلع میں روزانہ یہ کام تقریباً ۲۵ گھروں میں کرتی ہے۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel9/edited_dalits-48_20.jpg


اس کے بدلے میں اسے ہر گھر سے روزانہ صرف ایک روٹی ملتی ہے۔ مہینہ میں ایک بار، اگر وہ لوگ تھوڑا مہربان ہوئے، تو وہ اسے کچھ روپے دے سکتے ہیں۔ شاید ایک گھر سے دس روپے (۲۰ سینٹ) مل جائیں۔ سرکاری لوگ اسے ’بھنگی‘ کہتے ہیں، لیکن وہ خود کو ’مہتر‘ کہتی ہے۔ اب تیزی سے یہ رجحان بڑھنے لگا ہے کہ یہ لوگ اور ان سے وابستہ دیگر گروپ خود کو ’بالمیکی‘ کہنے لگے ہیں۔

وہ اپنے سر پر جو لے کر جا رہی ہے، وہ پاخانہ ہے۔ مہذب معاشرہ اسے ’رات کی مٹی‘ کہتا ہے۔ یہ عورت ہندوستان کے سب سے بے بس اور استحصال زدہ شہریوں میں سے ایک ہے۔ اور راجستھان کے سیکر میں اس جیسی سینکڑوں عورتیں ہیں۔

ہندوستان میں ہاتھ سے انسانی فضلات صاف کرنے والے کتنے لوگ ہیں؟ ہمیں واقعی میں نہیں معلوم۔ سال ۱۹۷۱ تک کی مردم شماری تک، ان کے پیشہ کو اس میں الگ سے درج بھی نہیں کیا جاتا تھا۔ بعض ریاستی سرکاریں تو اپنے یہاں مہتروں کی موجودگی سے صاف انکار کرتی رہی ہیں۔ باوجود اس کے، جو کچھ بھی اعداد و شمار ادھر ادھر موجود ہیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ ملک بھر میں ہاتھ سے انسانی فضلات صاف کرنے والے مہتروں کی کل تعداد دس لاکھ کے آس پاس ہے اور یہ سارے کے سارے دلت ہیں۔ حقیقی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ ’رات کی مٹی‘ کا کام کرنے والے لوگوں میں زیادہ تر عورتیں ہیں۔

ان کے کام کی وجہ سے ذات پات کے نظام میں سب سے خراب جرمانے کی روایتی ’آلودگی‘ ہے۔ انھیں اپنی زندگی کے ہر موڑ پر چھوا چھوت کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ ان کی بستیاں بالکل الگ تھلگ ہوتی ہیں۔ بعض بستیاں دیہی قصبہ اور شہر کے درمیان آباد ہیں۔ ان گاؤوں میں، جو بغیر کسی منصوبہ بندی کے ’قصبے‘ بن گئے۔ لیکن ایسی کچھ بستیاں بڑے شہروں یا میٹرو میں بھی ہیں۔

سال ۱۹۹۳ میں مرکز نے ’’ہاتھ سے صفائی کرنے والوں مہتروں کو روزگار اور خشک لیٹرین (ممانعت) قانون‘‘ پاس کیا۔ اس کی وجہ سے مہتری کے کام پر پابند لگ گئی۔ بہت ساری ریاستوں نے صرف اتنا جواب دیا کہ ان کے علاقے میں اس قسم کی کوئی روایت نہیں ہے، یا پھر وہ اس پر خاموش رہیں۔ ان کی باز آبادکاری کے لیے فنڈ موجود ہیں، جسے ریاستی حکومتیں حاصل کر سکتی ہیں۔ لیکن، آپ اس چیز کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں، جب آپ سے یہ کہہ دیا جائے کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ ہمارے یہاں ہے ہی نہیں؟ بعض ریاستوں میں کابینہ کی سطح پر اس قانون کے تسلیم کرنے کی مخالفت ہوئی۔


04-edited_ap017_08a(CROP)-PS-Balance & Bend(SLIDESHOW).jpg


بہت سے میونسپلٹیز میں خواتین ’صفائی کرمچاریوں‘ کو اتنی کم اجرت ملتی ہے کہ مجبوراً وہ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سائڈ میں ’رات کی مٹی‘ (پاخانہ صاف کرنے) کا بھی کام کرتی ہیں۔ اکثر میونسپلٹیاں مہینوں تک ان کی تنخواہیں ادا نہیں کرتیں۔ سال ۱۹۹۶ میں، ہریانہ کے صفائی کرمچاریوں نے اس قسم کے سلوک کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔ اس کے جواب میں، ریاستی حکومت نے تقریباً ۷۰۰ عورتوں پر ایسما (بنیادی خدمات کو برقرار رکھنے کا قانون) لگاکر انھیں ۷۰ دنوں تک جیل میں بند کر دیا۔ حالانکہ ہڑتال کرنے والوں کی واحد مانگ یہ تھی کہ انھیں ان کی تنخواہ وقت پر دے دی جائے۔

راب کی مٹی کے کام کی سماجی سطح پر منظوری ہے۔ اور اسے ختم کرنے کے لیے سماجی اصلاح کی ضرورت ہے۔ کیرل میں بغیر کسی قانون کے اس ’رات کی مٹی‘ کے کام کو ۱۹۵۰ اور ۶۰ کی دہائیوں میں مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ اس کے لیے ععوامی سطح پر قدم اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

* ’دلت‘ لفظ کا مطلب ہے استحصال زدہ یا حقارت آمیز۔ جن برادریوں کو ذات پات کے نظام کے تحت ’اچھوت‘ سمجھا گیا، انھوں نے خود کو یہی کہنا شروع کیا۔ حالانکہ چھوا چھوت پر قانونی طور سے پابندی لگے ہوئے پچاس سال سے زیادہ ہو چکے ہیں، پھر بھی بعض معاشروں میں اس کا اثر اب بھی موجود ہے۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

P. Sainath
[email protected]

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other Stories by P. Sainath