/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel9/edited_ap018_29a.jpg

 

گوبر کے گول گول اُپلے بناتی ہوئی بہار کی یہ عورت قومی اقتصادیات کو حیران کن طریقے سے مدد پہنچا رہی ہے۔ حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کام کو جی ڈی پی (مجموعی گھریلو پیداوار) میں نہیں جوڑا جائے گا۔ اگر گائے کے اُپلے سے کھانا بنانے والے لاکھوں گھر تیل یا گیس سے ایسا کرنے لگیں، تو ایک بڑی مصیبت پیدا ہو سکتی ہے۔ ہندوستان اپنے غیر ملکی زرِ مبادلہ کا بیشتر حصہ کسی اور سامان پر خرچ کرنے کے بجائے پٹرولیم اور اس کی پیداوار کی درآمدات پر کرتا ہے۔ سال ۲۰۰۰۔۱۹۹۹ میں یہ رقم ۴۷ ہزار ۴۲۱ کروڑ روپے یا ساڑھے دس ڈالر بلین ڈالر تھی۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel9/edited_g009_37.jpg


یہ اس سے تین گنا زیادہ ہے، جتنا ہم غذا، غذائی تیل، دواؤں اور اس سے متعلقہ پیداوار، کیمکلس، لوہا اور اسٹیل کی درآمدات پر خرچ کرتے ہیں۔ ہم پٹرولیم اور اس کی پیداوار پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں وہ ہماری درآمدات بل کا تقریباً ایک چوتھائی ہے۔

ہم اپنے غیر ملکی زرِ مبادلہ جو ایک اعشاریہ چار بلین ڈالر ہے، میں سے کھادوں کی درآمدات پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں، یہ اس کا تقریباً آٹھ گنا ہے۔ گوبر ایک ضروری آرگینک فرٹیلائزر ہے جسے لاکھوں لوگ فصل اُگانے میں استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذا، اس سے کھاد کے معنی میں بھی بے شمار پیسے کی بچت ہوتی ہے۔ اس سے کیڑے بھی دور رہتے ہیں، اس کے علاوہ بھی کئی اور استعمال میں آتے ہیں۔ آپ اس کو جیسے چاہیں، استعمال کر سکتے ہیں۔ ملک میں جو عورتیں گوبر جمع کرتی ہیں ۔ ۔ اور یہ ’عورتوں کا کام‘ ہے ۔ ۔ اس سے ہر سال ہندوستان کی لاکھوں، بلکہ کروڑوں ڈالر کی بچت ہوتی ہے۔ لیکن، چونکہ گوبر اسٹاک ایکسچینج پر رجسٹرڈ نہیں ہے، اور شاید چونکہ وہ اسے جمع کرنے والی عورتوں کی زندگیوں کے بارے میں کم جانتے ہیں یا پروا نہیں کرتے، اس لیے مین اسٹریم کے ماہرین اقتصادیات اسے اپنی سمجھ بوجھ کا حصہ کبھی نہیں بناتے۔ وہ اس قسم کی مزدوری کو نہ تو دیکھ پاتے ہیں اور نہ ہی اس کا احترام کرتے ہیں۔

عورتیں وہ چارہ جمع کرتی ہیں، جو گائیں اور بھینسیں کھاتی ہیں۔ وہ گوبر میں بھوسا یا پوال ملاکر اسے کھانا پکانے کا ایندھن بناتی ہیں۔ وہ بھی اپنے خرچ پر اور مرضی کے بغیر۔ گوبر جمع کرنا اور اسے استعمال کرنا ایک مشکل اور محنت بھرا کام ہے۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel9/edited_ap017_03a.jpg


لاکھوں عورتیں ہندوستان کو دودھ پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بنانے میں بھی بڑے پیمانے پر اپنا تعاون دے رہی ہیں۔ اور صرف اس لیے نہیں کہ وہ ہندوستان کی ۱۰ کروڑ گایوں اور بھینسوں کا دودھ نکالنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ آندھرا پردیش کے وجیا نگرم کی اس عورت کے لیے اس گائے کا دودھ نکالنا اس کے دن بھر کے کام کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ وہ اس کے لیے چارہ جمع کرکے لائے گی، اسے کھلائے گی، نہلائے گی، گائے کی جھونپڑی کو صاف کرے گی اور گوبر جمع کرے گی۔ اس کے پڑوسی اس کی گائے کے دودھ کے ساتھ پہلے سے ہی مِلک سوسائٹی میں موجود ہیں، جہاں وہ تمام لین دین کو سنبھالیں گے۔ دودھ سے متعلق کاروبار میں کام کرنے والی عورتوں کی تعداد ۶۹ فیصد سے ۹۳ فیصد کے درمیان ہے۔ وہ دودھ سے بننے والی مختلف اشیاء بھی تیار کرتی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عورتیں مویشی پروری میں ایک بڑا اور اہم رول ادا کر رہی ہیں۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel9/edited_ap018_29a.jpg


ایک دوسری پڑوسن کھیتوں سے بھینس کو واپس لے کر آ رہی ہے۔ یہ تھوڑی تناؤ میں ہے، کیوں کہ اس نے اپنے سے چھوٹے لیکن بڑے حملہ آور، یعنی ایک کتے کو دور سے ہی دیکھ لیا ہے، جو اس کے پیر کو کاٹنے کا انتظار کر رہا ہے۔ عورت نے بھی دونو جانوروں کے من کو بھانپ لیا ہے، لیکن وہ حالات پر قابو رکھے ہوئی ہے۔ وہ بھینس کی دیکھ بھال کرے گی اور اسے بحفاظت گھر تک لے جائے گی۔ جیسا کہ وہ اپنی زندگی میں ہر روز کرتی رہی ہے۔

مویشی اپنے دودھ اور گوشت سے انسانوں کو صرف پیسہ ہی نہیں فراہم کرتے، بلکہ یہ لاکھوں غریب ہندوستانیوں کے لیے ضروری بیمہ کور کا بھی کام کرتے ہیں۔ زبردست بحران کی حالت میں، جب آمدنی کے تمام ذرائع ختم ہوجاتے ہیں، تو غریب آدمی زندہ رہنے کے لیے اپنے ایک یا دو جانوروں کو بیچ دیتا ہے۔ اس لیے بہت سے غریب ہندوستانیوں کی اچھی زندگی کا راز ملک کے جانوروں کی اچھی صحت پر منحصر ہے۔ اور مویشیوں کی صحت کا خیال رکھنا عورتوں کے ہاتھ میں ہے۔ باوجود اس کے، ایسی کم ہی عورتیں ہیں جن کے پاس اپنے مویشی ہوں اور جن پر صرف ان کا قبضہ ہو۔ ہندوستان میں گاؤوں کی سطح پر جو ۷۰ ہزار ڈیئری کوآپریٹو سوسائٹیز (ڈی سیز) ہیں، ان پر مردوں کا غلبہ ہے۔ تمام سوسائٹیوں کے صرف ۱۸ فیصد ممبران عورتیں ہیں۔ وہ تمام ڈی سی بورڈ ممبران کا بھی تین فیصد سے کم حصہ ہیں۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org You can contact the author here: