وجیا نگرم کے بے زمین مزدوروں کے ساتھ میٹنگ صبح ۷ بجے سے پہلے طے ہو چکی تھی۔ خیال یہ تھا کہ ان کے دن بھر کے کام کی نگرانی کی جائے۔ حالانکہ ہم دیر سے پہنچے۔ اُس وقت تک عورتیں تین گھنٹے کا کام کر چکی تھیں۔ جیسے کہ کھجور کے درختوں سے ہوتے ہوئے یہ عورتیں کھیتوں کی طرف آ رہی ہیں۔ یا پھر ان کی سہیلیاں، جو پہلے سے ہی وہاں موجود ہیں، گاد والے ٹینک سے کیچڑ نکال رہی ہیں۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel4/edited_ap001_21.jpg


ان میں سے زیادہ تر عورتیں کھانا پکانے، برتن اور کپڑے دھونے اور دیگر کام نمٹا کر یہاں آئی ہیں۔ انھوں نے اپنے بچوں کو تیار کرکے اسکول بھی روانہ کر دیا ہے۔ گھر کے تمام افراد کو انھوں نے کھانا بھی کھلا دیا ہے۔ ظاہر ہے، عورتوں سب سے اخیر میں کھانا کھاتی ہیں۔ سرکار کے روزگار گارنٹی والے مقام پر، یہ صاف ہے کہ عورتوں کو مردوں کے مقابلے کم اجرت دی جاتی ہے۔

یہ بھی صاف ہے کہ یہاں پر کم از کم مزدوری کے قانون کی خلاف ورزی مرد اور عورت دونوں کے معاملے میں کی جاتی ہے۔ کیرل اور مغربی بنگال جیسی ریاستوں کو چھوڑ کر، ایسا ملک میں تمام جگہوں پر ہوتا ہے۔ پھر بھی، عورتوں کو ہر جگہ مردوں کے مقابلے آدھا یا دو تہائی پیسہ ہی ملتا ہے۔


Panel-4 Mud, mothers & ‘man hours’.jpg


خواتین زرعی مزدوروں کی تعداد چونکہ لگاتار بڑھ رہی ہے، اس لیے ان کی کم مزدوری کی وجہ سے زمین کے مالکوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ان کی مزدوری کا بل ہمیشہ کم رہتا ہے۔

 ٹھیکہ داروں اور زمین مالکوں کی دلیل یہ ہے کہ عورتیں کم محنت والے کام کرتی ہیں، اسی لیے انھیں مزدوری کم ملتی ہے۔

اس کے باوجود، پودکاری ایک مشکل اور پیچیدہ کام ہے۔ فصل کی کٹائی کا بھی یہی حال ہے۔ ان دونوں کاموں کی وجہ سے عورتوں کو متعدد قسم کی بیماریاں ہو جاتی ہیں۔

پودکاری دراصل ایک ہنرمندی کا کام ہے۔ پودوں کو اگر مناسب گہرائی پر نہ لگایا جائے یا غلط دوری پر لگا دیا جائے، تو وہ پودا یا بیج گر سکتا ہے۔ اگر زمین کو ٹھیک سے ہموار نہیں کیا گیا، تو پودے بڑھ نہیں پائیں گے۔ پودے یا بیج کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لگاتے وقت گھنٹوں پنڈلی بھر پانی میں جھکے رہنا پڑتا ہے۔ پھر بھی، اسے غیر ہنرمندی والا کام سمجھا جاتا ہے اور اس کی مزدوری بھی کم دی جاتی ہے۔ صرف اس لیے کہ اس کام کو عورتیں کرتی ہیں۔

عورتوں کو کم مزدوری دینے کی دوسری دلیل یہ ہے کہ وہ اتنے کام نہیں کر سکتیں، جتنے کہ مرد کرتے ہیں۔ لیکن اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے کہ عورتوں نے جتنے دھان لگائے ہیں، وہ مردوں سے کم ہیں۔ ان جگہوں پر بھی، جہاں عورتیں مردوں کے برابر کام کرتی ہیں، وہاں بھی انھیں مزدوری کم ہی ملتی ہے۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel4/edited_ap002_05.jpg


اگر عورتیں کم ہنرمند ہوتیں، تو کیا زمین کا مالک اتنی تعداد میں انھیں اپنے یہاں کام پر رکھتا؟

سال ۱۹۹۶ میں، آندھرا پردیش سرکار نے مالی، تمباکو نکالنے والوں، اور کاٹن چننے والوں کے لیے کم از کم مزدوری طے کی تھی۔ یہ مزدوری ان لوگوں سے کہیں زیادہ تھی، جو پودکاری اور کاشت کاری کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔ یعنی جانب داری اکثر ہوتی ہے، لیکن خفیہ طریقہ اور ’سرکاری‘ طور پر۔

اجرت کی شرح کا تب پیداوار سے بہت زیادہ لینا دینا نہیں ہےہ۔ یہ اکثر طویل مدتی خیال آرائی پر مبنی ہوتی ہے۔ جانبداری کے پرانے طریقوں پر۔ اور انھیں قبول کرناا عام بات ہے۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel4/edited_m006_039.jpg


کھیتوں میں اور دوسری جگہوں پر عورتیں اپنی پیٹھ کی ہڈی کو توڑنے کا جو کام کرتی ہیں، وہ ہر جگہ نظر آتا ہے۔ ان تمام کاموں کو کرنے کے باوجود انھیں اپنے بچوں کی ذمہ داریاں نبھانے سے بھی کوئی چھوٹ نہیں ملتی۔ ایک آدیواسی عورت اپنے دو بچوں کو دکھانے کے لیے ملکان گیری، اڑیسہ کے ہیلتھ سنٹر لے کر آئی ہے۔ یہاں تک پہنچنے کے لیے اسے کئی کلومیٹر لمبے دشوار گزار راستوں سے چل کر آنا پڑا ہے۔ وہ بھی، مشکل اور ڈھلوان والی پہاڑی پر گھنٹوں کڑی محنت والے کام کرنے کے بعد۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

P. Sainath
[email protected]

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath