وہ پہاڑی کی ڈھلان سے اوپر آ رہی تھی، اس کے سر پر لدا ہوا بڑا سا بوجھ اس کے چہرے کو چھپائے ہوئے تھا۔ ظاہر کام، پوشیدہ عورت۔ ملکان گیری، اڑیسہ کے اس بے زمین شخص کے لیے یہ آج دن بھر کی مزدوری ہے۔ پانی نکالنا، ایندھن اور چارے کا انتظام کرنا۔ یہ تینوں کام ایک عورت کی ایک تہائی زندگی لے لیتے ہیں۔ ملک کے کچھ حصوں میں، عورتیں اپنی فیملی کے لیے پانی اور جلانے کے ایندھن کا انتظام کرنے میں ایک دن میں سات سات گھنٹے لگا دیتی ہیں۔ چارہ جمع کرنے میں بھی کافی وقت لگتا ہے۔ ان تینوں چیزوں کو اکٹھا کرنے کے لیے دیہی ہندوستان کی لاکھوں عورتیں کئی کئی کلومیٹر پیدل چلتی ہیں۔


uploads/category/images/edited_n001_05.jpg


بوجھ بہت بھاری ہیں۔ یہ آدیواسی عورت، جو ملکان گیری میں ایک ڈھلان سے اوپر چڑھ رہی ہے، اس کے سر پر ۳۰ کلوگرام جلانے کا ایندھن لدا ہوا ہے۔ اور اسے ابھی تین کلومیٹر اور آگے جانا ہے۔ بہت سی عورتیں اپنے گھروں پر پانی لانے کے لیے اتنی ہی یا اس سے بھی زیادہ دوری طے کرتی ہیں۔

مدھیہ پردیش کے جھابوا میں لکڑی کے تختے پر کھڑی ہوئی یہ عورت بغیر دیوار والے کنویں سے پانی نکال رہی ہے۔ لکڑی کے ان ٹکڑوں سے کنویں کا منھ اس لیے ڈھکا ہوا ہے، تاکہ اس میں کیچڑ اور غبار نہ آئے۔ لکڑی کے یہ ٹکڑے آپس میں بندھے ہوئے بھی نہیں ہیں۔ اگر یہ عورت اپنا توازن کھو بیٹھتی ہے، تو وہ اس ۲۰ فٹ گہرے کنویں میں گر سکتی ہے۔ اگر وہ اس کے کنارے گرتی ہے، تو لکڑی کے یہ ٹکڑی اس کے پاؤں کو زخمی کر سکتے ہیں۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel5/edited_j009_06.jpg


جنگل سے ویران ہو چکے یا پانی کی کمی والے علاقوں میں، یہ مشقت اور بھی سخت ہوتی ہے۔ فاصلہ کافی لمبا ہوتا ہے۔ اس لیے یہ عورت ایک بار میں اتنا بڑا بوجھ ڈھونے کی کوشش کر رہی ہے۔

اچھے سے اچھے وقت میں اس قسم کے کام بہت مشکل ہوتے ہیں۔ لیکن چونکہ لاکھوں لوگوں کو گاؤں کی مشترکہ زمینوں پر رسائی حاصل نہیں ہے، اس لیے مشکل اور بڑھ جاتی ہے۔ ملک کی زیادہ تر ریاستوں میں گاؤں کی مشترکہ زمینوں کو تیزی سے پرائیویٹائز کیا جا رہا ہے۔ اس سے غریبوں کو نقصان ہو رہا ہے، خاص کر زرعی مزدوروں کو۔ زمانۂ قدیم سے ہی، مشترکہ زمینیں ان لوگوں کو کھانے پینے کی بیشتر چیزیں مہیا کراتی تھیں۔ مشترکہ چیزوں کے چھین لیے جانے کا مطلب ہے، کئی چیزوں کے ساتھ ساتھ تالابوں اور راستوں کا چھِن جانا، چراگاہوں، جلانے کی لکڑیوں، چاروں اور مویشیوں کے لیے پانی کا چھن جانا۔ اس کا مطلب ہے اُن درختوں اور پودوں کی غیر موجودگی، جہاں سے وہ پھل حاصل کر سکتے تھے۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel5/edited_j012_02.jpg


مشترکہ چیزوں کا پرائیویٹائزیشن اور کمرشیلائزیشن غریبوں اور عورتوں کو ایک جیسا نقصان پہنچاتا ہے۔ لیکن، یہ عورتیں ہیں جو اِن مشترکہ مقامات سے ضرورت کی چیزیں زیادہ اکٹھا کرتی ہیں۔ اس سے سب سے زیادہ نقصان دلتوں (جن کے ساتھ ذات پات کے نظام کے تحت ’اچھوتوں‘ جیسا سلوک کیا جاتا ہے) اور بے زمین مزدوروں کے پس ماندہ طبقوں کو ہوا ہے۔ ہریانہ جیسی ریاستوں میں اونچی ذات کے ماتحت پنچایتوں نے مشترکہ زمینیں فیکٹریوں، ہوٹلوں، پانی صاف کرنے والے کارخانوں، عیش و نشاط والے فارم ہاؤسوں اور کالونیاں بنانے والوں کو دے دی ہیں۔

کاشت کاری میں مشینوں کے استعمال سے، اگر صرف ٹریکٹر کو ہی لے لیں تو، اب زمین مالکوں کو بہت کم مزدوروں کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لیے اب وہ سوچتے ہیں کہ ان مشترکہ زمینوں کو آسانی سے بیچا جا سکتا ہے، جن کی وجہ سے غریب مزدور کبھی گاؤں میں ٹھہرا کرتے تھے۔ غریب لوگ اکثر و بیشتر جب اس کی مخالفت کرتے ہیں، تو زمین مالکان ذات پات کی بنیاد پر ان پر حملہ کر دیتے ہیں یا پھر ان کا اقتصادی بائیکاٹ کر دیتے ہیں۔ مشترکہ جگہوں کے چھین لیے جانے اور بائیکاٹ کی وجہ سے کئی جگہوں پر عورتوں کے ساتھ یہ ہوا ہے کہ ان کے پاس اب بیت الخلاء کے لیے بھی جگہ نہیں بچی ہے۔ اب یہ ان کا بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔


09-edited_m011_18-PS-Balance & Bend(SLIDESHOW).jpg


ایندھن، چارہ اور پانی لانے کی وجہ سے لاکھوں گھر چل رہے ہیں۔ لیکن جو لوگ ان کاموں کو کر رہے ہیں، انھیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

P. Sainath
[email protected]

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath