یہ عورت کھانا پکانے کا کام پہلے ہی کر چکی ہے۔ اس کا تعلق تمل ناڈو کی اس فیملی سے ہے، جو کھجور کے گڑ بناکر بیچتی ہے اور یہی ان کا ذریعہ معاش ہے۔ وہ جس بڑے برتن میں اسے پکا رہی ہے، وہ چیز یہی ہے۔ اگر اس سے تھوڑی سی بھی غلطی ہو گئی، تو اس سے فیملی کی اگلے کئی دنوں کی آمدنی چلی جائے گی۔ اس میں اسے ابھی تھوڑا وقت لگے گا۔ پکانے میں وقت لگتا ہی ہے۔ اسے دن میں اپنا کام کرتے ہوئے کئی گھنٹوں تک دھنواں پینا پڑتا ہے۔ اور ایک عورت کے طور پر اس کے ذمے دن بھر کے جتنے کام ہیں، ان میں سے یہ سب سے اوپر ہے۔ چونکہ اس پر یہ ذمہ داری بچپن سے ہی تھوپ دی گئی ہے، اس لیے یہ اور اس جیسی لاکھوں عورتوں کو کم عمری میں ہی اسکول چھوڑنا پڑتا ہے۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel8/edited_r005_23a.jpg


گھر سے جڑے ہوئے بہت سے کام ہیں جو روزانہ کرنے پڑتے ہیں۔ وہ نوجوان عورت جو آندھرا پردیش کے وجیانگرم میں اپنے سر پر ٹوکری لے کر جا رہی ہے، اسے ابھی کھانا پکانا شروع کرنا ہے۔ اس کے لیے اس نے ایندھن جمع کیا ہے اور ساتھ ہی کئی گھنٹوں تک اس نے کھیت میں بھی دوسرے کام کیے ہیں۔ گاؤں میں اس کی پڑوسن نے اس سے پہلے کھانا پکانا شروع کر دیا ہے، حالانکہ وہ جس جگہ کھانا بنا رہی ہے، وہ کچھ زیادہ ہی کھلی ہوئی جگہ ہے۔


Visible Work, Invisible Women - Home again, home again… (Panel 8)- Collage 1.jpg


پڑوسن تھوڑی خوش قسمت ہے۔ بہت سی عورتیں نہایت ہی چھوٹی اور بغیر کھڑکیوں والی جگہوں پر کھانا پکاتی ہیں۔ اور انھیں ان عورتوں سے بھی زیادہ ایندھن کے دھوئیں کا شکار ہونا پڑتا ہے، جو آلودہ فیکٹریوں میں صنعتی کامگار کے طور پر کام کرتی ہیں۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel8/edited_ap018_34a.jpg


اتر پردیش کے غازی پور میں یہ عورت جو کوٹنے کا کام کر رہی ہے، اس میں جو کچھ پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہے، اس سے کہیں زیادہ محنت و مشقت کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ کھانا تیار کرنے اور اس سے متعلق متعدد کاموں میں سے ایک ہے، جو وہ کرتی ہے۔ کھانا تیار کرنے سے متعلق تمام کام عورتیں اکیلے کرتی ہیں۔ بچوں کی دیکھ بھال اور ان تمام کاموں کے علاوہ، انھیں مویشیوں کی بھی دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel8/edited_ap019_18a.jpg


گھر کے دیگر کاموں میں شامل ہے کپڑے دھونا، پیسنا، سبزیاں کاٹنا، برتن دھونا، اور مختلف اوقات میں گھر کے مختلف ارکان کو کھانا کھلانا۔ بیمار رشتہ داروں کی دیکھ بھال کرنا بھی ہمیشہ ان ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہ تمام ایسا لگتا ہے کہ صرف عورتوں کے لیے مخصوص ہیں، جس کی انھیں اجرت بھی نہیں ملتی۔ اس معاملے میں دیہی عورتیں، شہری عورتوں سے الگ نہیں ہیں۔ البتہ دیہی عورتوں کے اوپر مزید کام کے بوجھ ہوتے ہیں دور تک پیدل چل کر پانی اور جلانے کی لکڑیاں وغیرہ چن کر لانا اور کھیت میں مختلف قسم کے کام کرنا۔


Visible Work, Invisible Women - Home again, home again… (Panel 8)- Collage 2.jpg


جیسے کہ یہ آدیواسی عورت، جو جھارکھنڈ کے پلامو میں پکانے کے لیے گیٹی کی جڑ کو تیار کر رہی ہے۔ خسک سالی کے زمانہ میں ان جڑوں کو اکٹھا کرنا آسان کام نہیں ہوتا۔ اس کو جمع کرنے کے لیے اس نے اپنی زیادہ تر صبحیں جنگل میں گزاری ہیں۔ اس نے پانی لانے میں اپنا زیادہ تر وقت پہلے ہی صرف کر دیا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اسے اس کے لیے اور بھی چکّر لگانے پڑیں گے۔ ان تمام کاموں کو کرتے وقت، اسے اپنے گاؤں کے قریب موجود بالومٹھ جنگل میں جنگلی جانوروں کے راستے سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔

عورتیں سب سے اخیر میں کھانا کھاتی ہیں اور کم کھاتی ہیں، کیوں کہ انھیں بہت کم بچا ہوا کھانا ملتا ہے۔ لہٰذا اس قسم کے محنتی کام کرنے سے ان کی صحت برباد ہو چکی ہے۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: You can contact the translator here:

P. Sainath
[email protected]

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other Stories by P. Sainath