تاعمر خمیدگی


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel2/edited_ap008_27.jpg


وہ رکی، وجیا نگرم میں دوپہر کی شدید دھوپ سے اسے کافی غصہ آ رہا تھا۔ لیکن، جھکی ہی رہی۔ وہ جانتی تھی کہ چند لمحوں میں ہی اسے اپنا کام دوبارہ شروع کرنا ہے ۔۔۔ اسی طرح جھکے ہوئے۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel2/edited_orissa-07_23.jpg


کاجو کے انہیں کھیتوں پر اس کے گاؤں کی عورتوں دو الگ گروپ میں کام کر رہی تھیں۔ پہلے گروپ کی عورتیں کھیت سے دو کلومیٹر دور اپنے اپنے گھروں سے دوپہر کا کھانا اور پانی ساتھ لائی تھیں۔ دوسرا گروپ مخالف سمت سے کام کر رہا تھا۔ سبھی عورتیں جھکی ہوئی تھیں۔

اڑیسہ کے رائے گڑھ میں، کھیت میں مرد بھی موجود تھے۔ لینس سے، یہ نظارہ قابل دید تھا۔ سبھی مرد کھڑے ہوئے تھے۔ تمام عورتیں، جھکی ہوئی۔ اڑیسہ کے نواپاڑہ میں، بارش اس عورت کو نرائی سے نہیں روک پائی تھی۔ وہ کام کرتی رہی، کمر سے جھک کر۔ ایک چھاتہ کے نیچے۔

ہاتھ سے شجرکاری، بوائی اور نرائی حد سے زیادہ مشکل کام ہے۔ ان تمام کاموں کو گھنٹوں جھک کر کرنا پڑتا ہے، جس سے جسم میں درد ہوتا ہے۔

ہندوستان کی ۸۱ فیصد عورتیں کاشت کار، مزدور، جنگلی جڑی بوٹیاں جمع کرنے والی اور چھوٹی تعداد میں مویشی چرانے والی ہیں۔ زرعی کام کاج میں بڑا جنسی امتیاز ہے۔ عورتوں کے ہل جوتنے پر پابندی ہے۔ لیکن وہ خصوصی طور پر پودے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پر لگانے، نرائی، کٹائی، اناج کی صفائی اور فصل کی کٹائی کے بعد والے کام کرتی ہیں۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel2/edited_orissa-03_08.jpg


ایک تجزیہ کے مطابق:

۳۲ فیصد عورتیں اُس کامگاری طاقت کا حصہ ہیں، جو کھیتی کے لیے زمین کو تیار کرتی ہے

۷۶ فیصد عورتیں بیج بوتی ہیں

۹۰ فیصد عورتیں پودے کو ایک جگہ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ پر لگاتی ہیں

۸۲ فیصد عورتیں اناج کے بوجھ کو کھیت سے ڈھوکر گھر تک لے جاتی ہیں

۱۰۰ فیصد عورتیں کھانا بنانے کا کام کرتی ہیں، اور

۶۹ فیصد عورتیں دودھ نکالنے اور اس سے وابستہ دیگر کام کرتی ہیں


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel2/edited_orissa-07_32.jpg


ان میں سے زیادہ تر کام کو جھک کر یا آلتی پالتی بیٹھ کر کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، کھیتی باڑی کے کاموں میں استعمال ہونے والے زیادہ تر اوزار عورتوں کی سہولت کے حساب سے نہیں بنائے گئے ہیں۔

عورتیں جو کام کھیتوں میں کرتی ہیں، ان میں وہ مسلسل جھکے ہوئے یا بیٹھے ہوئے آگے کو بڑھتی رہتی ہیں۔ اس لیے، ان کی پیٹھوں اور ٹانگوں میں اکثر شدید درد رہتا ہے۔ اکثر پنڈلی تک گہرے پانی میں کھڑے ہو کر پودے لگانے سے انھیں جلد سے متعلق بیماریاں ہو جاتی ہیں۔

اوپر سے اُن اوزاروں سے ہونے والے زخم جو مردوں کے لیے بنائے جاتے ہیں اور انھیں عورتوں کے لائق نہیں بنایا جاتا۔ ہنسیا اور خنجر سے ہونے والے زخم عام ہیں، جس کا علاج بھی نہیں کرایا جاتا۔ ٹیٹنس کا خطرہ ہمیشہ بنا رہتا ہے۔

زراعت میں اس قسم کے کام سے بچوں کی اعلیٰ شرحِ موت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ مثال کے طور پر پودکاری کے دوران، عورتیں دن کے زیادہ تر وقت جھکی رہتی ہیں یا آلتی پارتی مار کر بیٹھی رہتی ہیں۔ مہاراشٹر میں کیے گئے ایک مطالعہ سے پتہ چلا ہے کہ یہی وہ زمانہ ہے، جس میں عورتوں میں اسقاطِ حمل اور بچوں کی موت کے واقعات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ دیر تک گھٹنوں کے بل بیٹھنے سے موچ پڑتی ہے یا تناؤ پیدا ہوتا ہے، جس سے اکثر وقت سے پہلے بچے کی پیدائش ہوجاتی ہے۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel2/edited_ap008_17.jpg


اس کے علاوہ، اس قسم کے کام کرنے والی عورتوں کو ٹھیک سے کھانا بھی نہیں ملتا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر یہ عورتیں غریب ہوتی ہیں۔ اور اوپر سے یہ روایت کہ فیملی کو پہلے کھانا کھلا نا ہے، خود بعد میں کھانا ہے، حالات کو مزید خستہ بنا دیتا ہے۔ حاملہ عورتوں کو کوئی اچھا کھانا کھانے کو نہیں ملتا، حالانکہ انھیں اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ چونکہ مائیں خود ہی کم غذائیت کی شکار ہوتی ہیں، اس لیے وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچے بھی اتنے کمزور ہوتے ہیں کہ وہ زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہ پاتے۔

لہٰذا خواتین کاشت کار بار بار حاملہ ہوتی ہیں اور اکثر بچوں کی موت ہو جاتی ہے، جو اُن کی صحت کو برباد کرکے رکھ دیتا ہے۔ زیادہ تر عورتیں حمل یا بچے کی پیدائش کے وقت موت کی شکار ہو جاتی ہیں۔


uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel2/edited_hac003_14.jpg


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel2/ap018_20.jpg

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

P. Sainath
[email protected]

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath