یہ بانس اس عورت سے تین گنا زیادہ لمبے ہیں، جو انھیں یہاں لے کر آئی ہے۔ گوڈّا، جھارکھنڈ کے اس ہفتہ وار ہاٹ (دیہی بازار) میں ہر عورت ایک یا ایک سے زیادہ بانس لے کر آئی ہے۔ یہاں تک پہنچنے کے لیے بعض نے ۱۲ کلومیٹر کی دوری پیدل طے کی ہے، وہ بھی بانسوں کو سر یا کندھے پر لاد کر۔ ظاہر ہے، اس سے پہلے انھوں نے جنگلوں میں بانسوں کے کاٹنے پر بھی گھنٹوں صرف کیے ہیں۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel7/edited_g007_25.jpg


ان تمام کوششوں کے بعد، اگر وہ خوش قسمت ہوئیں تو دن کے ختم ہونے پر انھیں ۲۰ روپے (۴۰ سینٹ) مل جائیں گے۔ دوسری ہاٹ میں جاتے ہوئے، گوڈا میں ہی، بعض دیگر عورتوں کو اس سے بھی کم پیسہ ملنے کی امید ہے۔ جو عورتوں اپنے سروں پر پتوں کے بڑے گٹھر کا بوجھ لادے ہوئے آ رہی ہیں، انھوں نے بھی پہلے ان پتوں کو جمع کیا، پھر انھیں ایک ساتھ باندھا۔ یہ عورتیں کھا کر پھینک دینے والی ’پلیٹیں‘ بنانے میں ماہر ہیں۔ چائے کی دکان، ہوٹل اور کینٹین والے انھیں سو سو روپے میں خریدتے ہیں۔ لیکن، ان عورتوں کو صرف ۱۵ سے ۲۰ روپے (۴۰۔۳۰ سینٹ) ہی ملتے ہیں۔ اگلی بار جب آپ کسی ریلوے اسٹیشن پر ان پلیٹوں میں کھائیں گے، تو آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ یہاں تک کیسے پہنچیں۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel7/edited_orissa-08_17.jpg


ان تمام عورتوں کو لمبی مسافت طے کرنی ہے اور گھر پر بھی ان کی بہت ساری ذمہ داریاں ہیں۔ بازار کے دن دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ہاٹ ہفتہ میں صرف ایک بار لگتا ہے۔ اس لیے چھوٹی موٹی پیداوار کرنے والے یا مال بنانے آج جو کچھ بھی بنا لیں گے، اسی سے اگلے سات دنوں تک انھیں اپنا گھر چلانے میں مدد ملے گی۔ انھیں دوسری قسم کے دباؤ بھی جھیلنے پڑتے ہیں۔ اکثر، گاؤں کے کنارے رہنے والے ساہوکاروں کے پاس انھیں دوڑنا پڑتا ہے، جو ان کی پیداوار کو کوڑی کے بھاؤ خرید لیتا ہے اور انھیں بیوقوف بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ بعض تو اس میں برباد بھی ہو جاتے ہیں۔


05-edited_pu02_3a-PS-Balance & Bend(SLIDESHOW).jpg


کچھ ایسے بھی ہیں، جو اپنا مال اپنے قرض دینے والے کے علاوہ کسی اور کو نہیں بیچ سکتے۔ آپ انھیں اکثر سوداگروں کی دکان پر انتظار کرتا ہوا پائیں گے۔ اڑیسہ کے رائے گڑھ میں ایک اسٹور کے باہر بیٹھی ہوئی اس آدیواسی عورت کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ لگتا ہے، جو اسٹور مالک کے جواب کا انتظار کر رہی ہے۔ اسے یہاں پر گھنٹوں انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ گاؤں کے باہر، اسی آدیواسی گروپ کے اور بھی لوگ بازار کی طرف جا رہے ہیں۔ چونکہ ان میں سے زیادہ تر لوگ سوداگر کے قرضدار ہیں، اس لیے بہت کم امید ہے کہ انھیں کچھ فائدہ ہو۔


Visible Work, Invisible Women - To market, to market…  (Panel 7) Collage1.jpg


دھوکہ دھڑی بھی عام ہے، جس میں جنسی استحصال بھی شامل ہے، جو عورتوں کو ہر جگہ سہنا پڑتا ہے۔ یہاں، ان کے ساتھ یہ ظلم صرف پولس کے ہاتھوں ہی نہیں ہوتا، بلکہ جنگل کے چوکیداروں کے ہاتھ بھی سہنا پڑتا ہے۔

اڑیسہ کے ملکانگیری کی بونڈا عورتوں کے لیے بازار میں آج کا دن مایوسی بھرا رہا۔ لیکن، وہ بھاری بھرکم بکسے کو بس کی چھت پر لاد رہی ہیں۔ چونکہ ان کے گاؤں سے سب سے قریب کا بس اسٹاپ کافی لمبا ہے، اس لیے انھیں اس بکسے کو بھی گھر تک لمبا ڈھونا پڑے گا۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel7/edited_g001_20.jpg


جھارکھنڈ کے پلامو میں ایک ہاٹ کی طرف جاتی ہوئی یہ عورت اپنے بچہ، بانسوں اور معمولی کھانے کو ساتھ لے کر جا رہی ہے۔ اس کا دوسرا بچہ بھی ہے۔


Visible Work, Invisible Women - To market, to market…  (Panel 7) collage 2.jpg

 

چھوٹی پروڈیوسر یا وینڈرس کے طور پر ملک میں کام کرنے والی لاکھوں عورتیں جو کچھ کماتی ہیں، وہ انفرادی طور پر بہت معمولی رقم ہوتی ہے، کیوں کہ اس کی قیمت صاف گوئی اور کوشش پر مبنی ہوتی ہے۔ لیکن، یہ ان کی فیملیز کے زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے۔

یہ لڑکی، جو آندھرا پردیش کے وجیا نگرم کے گاؤں کے ایک بازار میں مرغی کا گوشت بیچ رہی ہے، اس کی عمر محض تیرہ سال ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے اس کی پڑوسن اسی بازار میں سبزیاں بیچ رہی ہے۔ ان کی عمر کے لڑکے خوش قسمت ہیں کہ وہ اسکول جا سکتے ہیں۔ بازار میں اپنا مال بیچنے کے علاوہ، ان لڑکیوں کو گھر پر بہت سے ’عورتوں کے کام‘ بھی کرنے پڑتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath