زمین کے مالک کو اس بات پر فخر تھا کہ اس کی تصویر کھینچی جا رہی ہے۔ وہ شان سے کھڑا ہوا تھا، جب کہ ۹ عورتوں کی قطار، اس کے کھیت کی بوائی میں لگی ہوئی تھیں۔ اس نے بتایا کہ ان عورتوں کو اس نے ایک دن کے کام کی اجرت ۴۰ روپے (۸۲ سینٹ) دی ہے۔ لیکن، بعد میں ان عورتوں نے ہمیں بتایا کہ اس نے انھیں صرف ۲۵ روپے (۵۱ سینٹ) دیے تھے۔ یہ تمام عورتیں اڑیسہ کے رائے گڑھ کی بے زمین کامگار عورتیں ہیں۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel3/edited_orissa-06_08.jpg


ہندوستان میں، جن خاندانوں کے پاس اپنی زمینیں ہیں، ان کی عورتوں کے پاس بھی زمین کا مالکانہ حق نہیں ہے۔ نہ تو اپنے ماں باپ کے گھروں میں ہے۔ نہ ہی اپنے شوہر اور ساس سسر کے گھروں میں۔ اکیلی، بیوہ یا مطلقہ عورتیں اپنے رشتہ داروں کے کھیتوں پر مزدوری کرتے کرتے مر جاتی ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ہندوستان میں چھ کروڑ تیس لاکھ خواتین کامگار ہیں۔ ان میں سے دو کروڑ ۸۰ لاکھ یا ۴۵ فیصد زرعی مزدور ہیں۔ حالانکہ یہ لڑکھڑاتی تعداد بھی گمراہ کن ہے۔ اس میں وہ خواتین شامل نہیں ہیں، جنھیں چھ مہینوں یا اس سے زیادہ دنوں تک روزگار نہیں ملا۔ ایسی عورتیں بے شمار ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لاکھوں عورتوں کو شمار نہیں کیا جا رہا ہے، جو قومی اقتصادیات میں اپنا ہاتھ بٹا رہی ہیں۔ براہِ راست کھیتی کرنے کے علاوہ، گاؤوں کی اُن عورتوں کو بھی شمار نہیں کیا جاتا، جو ’گھر کے کام کاج‘ کرتی ہیں۔


  


یہاں تک کہ اس کام میں بھی جسے سرکار ’اقتصادی سرگرمی‘ کہتی ہے، کم تر اجرت والی زرعی مزدوری ہی واحد سب سے بڑا شعبہ ہے، جو عورتوں کے لیے کھلا ہوا ہے۔ اور اب بے زمین مزدوروں کو پہلے جتنے دنوں تک کام مل جاتا تھا، اُن کام کے دنوں کی تعداد گھٹ رہی ہے۔ اقتصادی پالیسیاں ہی اس کے لیے ذمہ دار ہیں۔ مشینوں کا بڑھتا دور اس میں مزید تیزی لا رہا ہے۔ نقدی فصلوں کا رجحان اس میں شدت پیدا کر رہا ہے۔ نیا ٹھیکہ نظام اسے مزید خراب کر رہا ہے۔


/static/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/thumbs/Panel3/edited_hac003_11.jpg


اننتا پو، آندھرا پردیش کے ایک کھیت میں یہ دو چھوٹی لڑکیاں کیڑوں کا شکار کر رہی ہیں۔ یہاں پر وہ لال بال والے چھوٹے پتنگوں کو ڈھونڈ رہی ہیں۔ ان کے گاؤں میں اجرت والے کام یہی سب ہیں۔ انھیں ایک کلوگرام چھوٹے پتنگوں کو پکڑنے کے بدلے ۱۰ روپے (۲۰ سینٹ) کھیت مالک سے ملتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں ایک کلو پورا کرنے کے لیے ہزاروں کیڑے پکڑنے پکڑنے پڑتے ہیں۔

زمین جیسے وسائل پر سیدھا کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے غریبوں اور تمام عورتوں کی حالت مزید کمزور ہو رہی ہے۔ مالکانہ حق اور سوشل اسٹیٹس کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ بہت کم عورتیں ایسی ہیں جن کے پاس زمین کا مالکانہ حق ہے یا وہ اسے کنٹرول کرتی ہیں۔ اور یہاں تک کہ پنچایتی راج سسٹم میں ان کی حصہ داری تبھی بہتر ہو سکتی ہے، جب ان کے زمین سے متعلق حقوق کو یقینی بنایا جائے۔

یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ اس قسم کے بے زمین مزدوروں میں اکثریت دلتوں (جنھیں ذات پات کے نظام کے تحت ’اچھوت‘ سمجھا جاتا ہے) کی ہے۔ خواتین زرعی مزدوروں میں سے ۶۷ فیصد عورتیں دلت ہیں۔ سب سے زیادہ استحصال کا شکار یہ طبقہ تین جگہوں پر بدتر حالت میں ہے: جماعت، ذات اور جنس۔

زمین سے متعلق حقوق غریب اور نچلی ذات کی عورتوں کے درجات کو بہتر کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد بھی اگر انھیں دوسروں کے کھیتوں پر کام کرنے کی ضرورت پڑی، تب بھی اسے انھیں اچھی مزدوری حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ اور انھیں زیادہ پیسہ کمانے کا موقع مل سکتا ہے۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel3/edited_j007_18.jpg


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel3/edited_ap001_36.jpg


اس سے نہ صرف خود ان کی غریبی کم ہوگی، بلکہ ان کے کنبوں کی بھی غریبی دور ہوگی۔ مرد اپنی آمدنی کا زیادہ تر حصہ خود اپنے اوپر خرچ کرتے ہیں۔ جب کہ عورتیں جو کچھ کماتی ہیں، وہ سارا کا سارا اپنے گھر پر خرچ کرتی ہیں۔ اور اس میں سب سے زیادہ فائدہ بچوں کا ہوتا ہے۔

یہ اس کے لیے بھی اچھا ہے، یہ ان کے بچوں کے لیے بھی اور خود ان کی فیملی کے لیے بھی اچھا ہے۔ مختصراً یوں کہا جا سکتا ہے کہ اگر ہندوستان میں غریبی کے خلاف کوئی بھی سنجیدہ کوشش تبھی کامیاب ہو سکتی ہے، جب عورتوں کو زمین سے متعلق حقوق عطا کر دیے جائیں۔ مغربی بنگال جیسی ریاستوں نے اس کی شروعات کر دی ہے، جہاں زمین کی از سرنو تقسیم کے ۴ لاکھ معاملوں میں مشترکہ پٹّے دیے گئے ہیں۔ لیکن اب بھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔

چونکہ عورتوں کو کھیت جوتنے کی اجازت نہیں ہے، ایسے میں ’’کھیت اسی کا ہے، جو اسے جوتے‘‘ جیسے پرانے نعرہ پر پھر سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اب اس کی جگہ نعرہ یہ ہونا چاہیے، ’’زمین ان کی ہے جو اس پر کام کریں‘‘۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath