اس نے اپنی بہترین ساڑی جیتی ہے، یہاں آکر سائیکل چلانا سیکھنے کے لیے۔ پڈوکوٹئی، تمل ناڈو کے اس ’سائیکلنگ ٹریننگ کیمپ‘ میں۔ ایک اچھے کام کے لیے وہ کافی خوش دکھائی دے رہی تھی۔ اس کے ضلع کی تقریباً ۴ ہزار غریب عورتیں پتھر کی اس کان پر اپنا قبضہ جمانے آئی تھیں، جہاں وہ پہلے بندھوا مزدور کے طور پر کام کرتی تھیں۔ ان کی منظم جدوجہد، جس میں سیاسی طور پر بیدار خواندگی کی مہم بھی شامل تھی، نے پڈوکوٹئی کو ایک بہتر مقام بنا دیا ہے۔


/home/ubuntu/pari/media/uploads/Visible_Work_Invisible_Women/Panel10/edited_pk006_19.jpg


وسائل پر مالکانہ حق اور کنٹرول پہلے بھی مرکز کے پاس تھا اور اب بھی ہے۔ اگر دیہات میں رہنے والی لاکھوں، کروڑوں عورتوں کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے، تو انھیں یہ حقوق بھی عطا کرنے ہوں گے۔

مدھیہ پردیش کے جھابوا کا یہ گروپ پوری طرح عورتوں کی پنچایت ہے۔ مقامی نظامِ حکومت میں شامل ہونے سے یقینی طور پر ان کے مقام اور خود اعتمادی میں بہتری آئی ہے۔ لیکن اپنے ہی گاؤوں میں ان کا اثر محدود ہے۔ بہت کم ایسی چیزیں ہیں جن پر ان کا مالکانہ حق یا کنٹرول ہے۔ مثال کے طور پر ان کے پاس زمین کا کوئی مالکانہ حق نہیں ہے۔ اور زیادہ تر شعبوں میں ان کے حقوق کو تسلیم نہیں کیا جاتا، بھلے اس کے متعلق قانون ہی کیوں نہ موجود ہو۔ اگر کوئی دلت عورت سرپنچ ہو اور  اسے پتہ چلے کہ اس کے مالک اراضی کو اس کا نائب بنا دیا گیا ہے، تب کیا ہوتا ہے؟ کیا ایسی حالت میں وہ اپنے نائب پر اپنا حکم چلا سکتی ہے؟ یا وہ اس کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرتا ہے، جیسا کہ اس کا اپنے مزدوروں کے ساتھ رویہ ہے؟ یا پھر اس مرد جیسا جو عورت پر رعب جماتا ہے؟ خواتین سرپنچ اور پنچایت ممبران کو ننگا کیا گیا ہے، پیٹا گیا ہے، ان کی عزت لوٹی گئی ہے اور ان کے اوپر جھوٹے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ اس کے باوجود پنچایتوں میں کام کرنے والی عورتوں کی حیران کن حصولیابیاں ہیں۔ اگر زمینداری کو ختم کر دیا جائے تو کیا نہیں حاصل کر سکتیں؟


Visible Work, Invisible Women - And getting a grip on things (Panel 10)- Collage1.jpg


پڈوکوٹئی میں بڑے پیمانے پر تبدیلی ہونے کے بعد خواندہ طبقہ یہاں آکر آباد ہوا۔ بنیادی تبدیلیوں نے انھیں پتھر کی کانوں کا انچارج بنا دیا، جہاں وہ کبھی بندھوا مزدور ہوا کرتے تھے۔ حالانکہ ان کے اس قبضہ پر حملے ہو چکے ہیں، لیکن اب وہ اپنے حقوق کے لیے لڑنا سیکھ چکے ہیں۔

کروڑوں دیہی عوام کی طرح، عورتیں بھی چاہتی ہیں کہ زمین کی اصلاح ہو۔ اس کے اندر ان کے زمین، پانی اور جنگلات سے متعلق حقوق کو پہنچانا اور تسلیم کیا جائے۔ جہاں کہیں بھی زمینوں کی از سر نو تقسیم ہو رہی ہے، وہاں انھیں مالکانہ حق کے لیے مشترکہ پٹّے کی ضرورت ہے۔ اور تمام زمینوں پر ملکیت کے برابر حقوق کی۔ گاؤوں کے مشترکہ مقامات پر غریبوں کے حقوق کو نافذ کیا جانا چاہیے؛ ان مشترکہ مقامات کو بیچا نہیں جانا چاہیے۔


Visible Work, Invisible Women - And getting a grip on things (Panel 10)- Collage 2.jpg


جہاں پر قانون میں اس قسم کے حقوق کا ذکر نہیں ہے، وہاں نئے قوانین کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ جہاں پر قوانین موجود ہیں، ان کا نفاذ ضروری ہے۔ وسائل کی پوری طرح سے از سر نو تقسیم کے ساتھ ساتھ بہت سی چیزوں کی تعریف دوبارہ پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر ’ہنر مند‘ اور ’بے ہنر‘ یا ’بھاری‘ اور ’ہلکا‘ کام۔ ہمیں ان کمیٹیوں میں خواتین زرعی مزدوروں کی بھی ضرورت ہے، جو کم از کم اجرت کا فیصلہ لیتی ہیں۔

اسے کرنے کے لیے عوامی مہم کی ضرورت ہے۔ منظم عوامی قدم کی۔ سیاسی عمل میں مداخلت کی۔ اور اس بات کو تسلیم کرنے کی کہ دیہی عورتوں کے مسائل بھی ہندوستانی عورتوں کی زندگی کو بہتر بنانے کی جدوجہد کا ایک بنیادی حصہ ہیں۔

عوام کے حقوق کو مضبوط کرنے کے لیے اچھے اچھے ترقیاتی کام کرنا کوئی متبادل نہیں ہے۔ دیگر غریب لوگوں کی طرح ہی دیہی عورتوں کو خیرات کی ضرورت نہیں ہے۔ انھیں ان کا حق ملنا چاہیے۔ اور اسی کے لیے ہندوستان کی لاکھوں، کروڑوں عورتیں جدوجہد کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath