01-P1020133-PS-Ode to Doctor.jpg

ٹھیک ہے، تو یہ شائع ہونے سے رہ گیا تھا۔ پاری کے قارئین اور ناظرین سے میں معافی چاہتا ہوں۔ پاری کے تمام قارئین و ناظرین کو دل سے ہمارے ٹاپ چارٹ بسٹر کے بارے میں معلوم ہے: پوٹیٹو سانگ، یعنی آلو والا گانا۔ اس گانے کو کیرل کے سب سے دور دراز اور ایڈوکی ہلز کی واحد قبائلی پنچایت: ایڈمالا کوڈی میں واقع چھوٹے سے ٹرائبل ڈیولپمنٹ پروجیکٹ اسکول (ایک سے لے کر چوتھی کلاس تک) کی ۸ سے ۱۱ سال تک کی عمر کی لڑکیوں کے ایک گروپ نے گایا تھا۔

وہاں پہنچنے والے ہم آٹھ لوگوں نے ان طالبات سے پوچھا تھا کہ ان کا پسندیدہ سبجیکٹ کون سا ہے۔ ’’انگریزی‘‘ انھوں نے جواب دیا تھا، ایک ایسے علاقے میں، جہاں ہم نے کسی بھی سائن بورڈ پر اس زبان میں ایک بھی لفظ لکھا ہوا نہیں دیکھا۔ جب ہم نے انھیں انگریزی کی ان کی معلومات کے بارے میں چیلنج کیا، تو انھوں نے یہ گانا گانا شروع کر دیا تھا۔

یہ پاری کا سب سے پسندیدہ گانا بن گیا۔ لیکن کچھ ایسا بھی تھا، جسے ہم نے چھوڑ دیا تھا، جسے اب ہم آپ کے لیے پیش کر رہے ہیں۔ جب لڑکیوں نے ’پوٹیٹو سانگ‘ کو پوری درستگی کے ساتھ پیش کر دیا، تو پھر ہم نے اپنا رخ لڑکوں کی طرف کیا۔ ہم نے سوچا کہ وہ شاندار مظاہرہ کریں گے، لہٰذا ہم نے جب مطالبہ کیا تو انھوں نے جواب دیا اور اپنی انگریزی دکھائی۔

وہ جان رہے تھے کہ پانچ لڑکیوں کے گروپ کی نقل کرنا مشکل کام ہے، لیکن انھوں نے کوشش کی۔ گانے کی کوالٹی، یا یہ کہیں کہ پیش کش کے معاملے میں، لڑکیوں سے ان کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ لیکن، موسیقیت کے تئیں اپنے جنون کا مظاہرہ کرنے کے لیے وہ کھڑے ہوئے۔

لڑکیوں نے آلو سے متعلق ایک گانا گایا تھا، جسے وہ اس گاؤں میں نہیں کھاتے، جہاں انگریزی نہیں بولی جاتی۔ لڑکوں نے ڈاکٹر کے بارے میں گایا (یا پڑھ کر سنایا)۔ (ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے وہاں کے پرائمری ہیلتھ سنٹر میں کوئی بھی فل ٹائم ڈاکٹر نہیں تھا)۔ جیسا کہ زیادہ تر ہندوستان میں ہوتا ہے، گاؤں اور شہر میں، ’ڈاکٹر‘ فزیشین اور سرجن دونوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ انھیں اکثر ایک آدمی ہی سمجھا جاتا ہے۔ اس گانے میں بھی یہ عکاسی کی گئی ہے کہ ماڈرن ایلوپیتھک میڈیکل سائنس میں لوگوں کا کتنا بھروسہ ہے۔



گڈ مارننگ، ڈاکٹر

میرا پیٹ درد کر رہا ہے، ڈاکٹر

میرا پیٹ درد کر رہا ہے، ڈاکٹر

مجھے سنبھالیے، ڈاکٹر

مجھے سنبھالیے، ڈاکٹر

آپریشن

آپریشن

آپریشن، ڈاکٹر

شکریہ، ڈاکٹر

شکریہ، ڈاکٹر

شکریہ، ڈاکٹر

بائی بائی، ڈاکٹر

بائی بائی، ڈاکٹر

بائی بائی، ڈاکٹر

بائی بائی، ڈاکٹر

لیجنڈری ’پوٹیٹو سانگ‘ کی طرح ہی، اس چھوٹی فلم کو بھی پاری کے ٹیکنیکل ایڈیٹر سدھارتھ اڈیلکر نے بغیر نیٹ ورک والے سیل فون سے، ایک ایسی جگہ پر شوٹ کیا تھا، جہاں پر آلو نہ تو اُگایا جاتا ہے اور نہ ہی کھایا جاتا ہے، ایسے گاؤں میں جہاں کوئی انگریزی نہیں بولتا، اور ایک ایسی پنچایت میں، جہاں طویل عرصے سے ڈاکٹر غیر حاضر رہے ہیں۔ لیکن جی ہاں ۔ ملک میں زیادہ تر جگہوں پر انگریزی ایسے ہی پڑھائی جاتی ہے۔ اور ہمیں ابھی تک یہ پتہ نہیں چل پایا ہے کہ درج بالا دونوں گروہوں نے جزیرہ نما ہندوستان کی سب سے ویران اور دور دراز پنچایت میں اس گانے کو کہاں سے حاصل کیا۔

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org You can contact the author here: