اس سال ۱۱ اگست کو، وسط کشمیر کے بڈگام ضلع کے ژوگو کھیرین کے ۲۱ سالہ واجد احمد آہنگر دیگر نوجوانوں کے ساتھ توسہ میدان میں انوکھا تین روزہ جشن منانے نکل پڑے۔ اس خوبصورت میدان کی گھاس میں ایک (آتشیں) گولہ پڑا تھا، جس میں اچانک دھماکہ ہو گیا۔ واجد، جن کے والد نے بعد میں مقامی میڈیا کو بتایا کہ وہ ’’گھوڑے پر سوار شہزادے کی طرح‘‘ اپنے گھر سے نیا کپڑا پہن کر نکلے تھے، لیکن ان کی لاش گھر واپس آئی۔ تین دیگر افراد بھی زخمی ہوئے تھے۔

جشن ماتم میں تبدیل ہو گیا۔ یہ ایک اور مثال ہے کہ کیسے ماضی کشمیر کو ستا رہا ہے۔

ایک سال پہلے اگست کے مہینہ میں ہی، بڈگام کے کھاگ بلاک کے شُنگلی پورہ گاؤں کے محمد اکرم شیخ نے مجھے اس چراگاہ سے جڑے تہوار، جشنِ توسہ کی اہمیت کے بارے میں بتایا تھا، جس کی شروعات ۲۰۱۵ میں ہوئی تھی۔ سیاحتی تقریب کے طور پر جموں و کشمیر حکومت بھی اس جشن کو فروغ دیتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ جشن کمیونٹی کو کھلے میدان واپس کرنے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ فوج نے پانچ دہائیوں سے اس میدان پر قبضہ کر رکھا تھا، اسے فائرنگ رینج کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، لیکن طویل جدوجہد کے بعد فوج نے ۲۰۱۴ میں اسے خالی کر دیا۔

گاؤں والوں نے اس کا جشن منایا کہ دیہاتی برادریوں کی شکل میں اب وہ موت، زخم یا دھمکی سے ڈرے بغیر اپنے معاش کے لیے آزادی سے گھوم سکیں گے۔ انھوں نے واضح طور پر کہا کہ چراگاہ کے خالی ہونے سے ان لوگوں نے راحت کی سانس لی تھی۔

لیکن اگست ۲۰۱۸ کے واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ آزادی کتنی گمراہ کن ہو سکتی ہے، فوج کی تعیناتی کیسے منظرنامہ کو بدل سکتی ہے، اور اس طرح اپنی زندگی اور معاش کے لیے پوری طرح سے زمین پر منحصر لوگوں کو کتنا متاثر کر سکتی ہے۔

PHOTO • Freny Manecksha

شُنگلی پورہ کے محمد اکرم شیخ (بائیں) نے چراگاہ پر گولی باری میں ایک بھائی کو کھو دیا تھا، اور بعد میں ایک دیگر دھماکہ میں اپنے ہی پیر کو زخمی کر لیا

توسہ میدان تقریباً ۱۰ ہزار فٹ کی اونچائی پر ایک خوبصورت پہاڑی میدان ہے، جو پیر پنجال پہاڑی سلسلہ اور گھنے جنگلوں سے گھرا ہوا ہے۔ کسی زمانے میں گوجر، بکروال اور چوپن جیسے خانہ بدوش اور گڈریہ برادریاں اسے گرمیوں کے مہینے میں چراگاہ کے طور پر استعمال کرتی تھیں۔ یہاں تک کہ مقامی کہانیوں کے مطابق، مغل بھی ۱۳ ہزار فٹ کی اونچائی پر واقع بسمئی گلی درّہ پار کرکے پونچھ کی وادی تک جانے کے لیے، اسی میدان کا استعمال کیا کرتے تھے۔

جموں و کشمیر حکومت نے ۱۹۶۴ میں ایک پٹّہ پر دستخط کرکے، فوج کو ۶۹ مربع کلومیٹر کے گھاس کے اس میدان کو فائرنگ رینج اور توپ خانہ کی ڈرِل منعقد کرنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ اس بات پر کوئی دھیان نہیں دیا گیا کہ لوگوں اور ماحولیات کو اس سے کتنا نقصان ہوگا۔

ہر سال مارچ اپریل کے آس پاس جب برف پگھلنی شروع ہوتی ہے، جو کہ موسمِ بہار کا اشارہ بھی ہے، اور گڈریہ برادری چراگاہ کی ڈھلانوں کی طرف جانے لگتی ہے، تبھی فوج کے توپ خانہ کی سالانہ مشق بھی شروع ہو جاتی تھی۔ راکٹ لانچر، گرینیڈ اور مورٹار گن کا استعمال ایک پہاڑ کی ڈھلان سے دوسرے تک فائرنگ کی مشق کے لیے کیا جاتا تھا۔ میدان کو چھوڑتے وقت یہاں ایسے سینکڑوں آلات چھوٹ جاتے تھے جو مشق کے دوران پھٹے نہیں۔

پہاڑ کی ڈھلانوں اور سرسبز میدانوں کے ٹھیک سامنے، کھاگ بلاک کے سیتا ہرن گاؤں میں بھی لوگ ایسی کئی مثالیں دیتے ہیں جس سے ان کی برادری کو ریاست کے اس فیصلہ کا خمیازہ اٹھانا پڑا۔ سرپنچ غلام محی الدین شیخ، جن کی بیوی اپنے ڈھوک (مٹی اور لکڑی کی رہائش گاہ) میں مقیم تھیں، نے مجھے دوپہر کے کھانے کے وقت بتایا کہ کیسے وہ اور دیگر گاؤں والے موت اور آمد و رفت کی بندشوں کے درمیان بڑے ہوئے۔ ’’ہم باہری لوگ نہیں ہیں، پھر بھی ہم جب کبھی اپنے مویشیوں کو چرانے لے جاتے، یا ہماری عورتیں جلانے کے لیے لکڑیاں جمع کرتیں، تو فوج کے ذریعے ہمیں روکا جاتا اور ہماری تلاشی لی جاتی۔‘‘

انھوں نے کہا کہ اپنے معاش کے لیے پوری طرح سے گھاس کے اس میدان پر منحصر رہنے والے لوگوں کی موت، مِس فائرنگ اور ہدف سے چوک گئے گولوں سے ہوئی۔ کئی بار وہ بغیر پھٹے گولوں کے رابطہ میں آئے، جس میں دھماکہ ہوتے ہی وہ اڑ گئے یا جھلس گئے۔ ایک لکڑی کاٹنے والے نے اپنا ہاتھ کھو دیا کیوں کہ کاٹتے وقت اس کی کلہاڑی بارود کے ایک گولہ سے ٹکرا گئی تھی۔ اسی طرح ایک آدمی نے تب اپنی انگلیاں کھو دیں، جب وہ جڑی بوٹیوں کے لیے کھدائی کر رہا تھا۔ گولے داغنے سے مویشیوں پر بھی بھاری اثر پڑا۔ شیخ نے بتایا کہ کس طرح ایک چرواہے کو اپنی ۶۰ بھیڑوں کو دھماکہ میں اڑتے ہوئے دیکھنا پڑا تھا۔

’’اس گاؤں سے چار قتل ہوئے – دو عورتیں جن کی لاشیں جنگلوں میں ملی تھیں، شاید اس لیے کہ وہ نہ پھٹنے والے گولے کے رابطہ میں آ گئیں، اور دو نوجوان جو فائرنگ کی مشق کے دوران مارے گئے تھے،‘‘ شیخ نے بتایا۔

PHOTO • Freny Manecksha

سیتا ہرن گاؤں میں، فائرنگ رینج کے لیے فوج کو زمین پٹّہ پر دینے سے گڈریوں کا ذریعہ معاش بری طرح متاثر ہوا اور ان کی زندگی بھی خطرے میں پڑ گئی

حق اطلاع قانون کے تحت حاصل کیے گئے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ توسہ میدان میں گزشتہ برسوں میں کم از کم ۶۸ لوگ مارے گئے اور ۴۳ معذور ہوئے۔ متاثر ہونے والے سب سے زیادہ – ۳۷ سے زیادہ – شُنگلی پورہ گاؤں سے تھے، جہاں کی آبادی تقریباً ۴۸۰۰ ہے۔

اس میں بچے بھی شامل ہیں۔ ۱۹ مئی، ۲۰۱۴ کو سات سالہ سمرن پارے خوشی خوشی گھر آئی اور ایک بیگ کے ساتھ کھیلنے لگی، جو اسے گھاس کے میدان میں ملا تھا۔ اس میں گولے تھے، جو پھٹے نہیں تھے۔ دھماکہ سے اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے اور اس کے پانچ سال کے بھائی فیاض کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔

محمد اکرم شیخ جو پیشہ سے بڑھئی، شنگلی پورہ کے سابق سرپنچ اور فائرنگ رینج کی مخالفت میں شروع ہونے والی تحریک، توسہ میدان بچاؤ فرنٹ کے نائب صدر ہیں، انھوں نے بھی مجھے اپنے جذباتی اور جسمانی زخم کے بارے میں بتایا: ’’میں ایک نوجوان لڑکا تھا جب میں نے ۱۹۹۰ میں اپنے بڑے بھائی عبدالکریم کو کھو دیا۔ وہ ۲۳ سال کے تھے اور کچھ دنوں پہلے ہی ان کی سگائی ہوئی تھی۔ ہماری گرمی کی چھٹیاں چل رہی تھیں، اس لیے میں توسہ میدان گیا ہوا تھا۔ انھوں نے مجھے اسکول کی کتابیں لاکر دیں اور پھر مویشیوں کو دیکھنے چلے گئے۔‘‘

اچانک ہوئی گولی باری سے کریم کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ کھاگ پولس اسٹیشن نے یہ کہتے ہوئے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا کہ قتل فائرنگ رینج میں ہوا ہے۔ ’’ہم متاثر تھے۔ ہماری فیملی کا ایک رکن مارا گیا تھا، لیکن ہمیں اس قتل پر سوال اٹھانے کا کوئی حق نہیں تھا۔ ہمارے اوپر [پولس اور فوج کے ذریعے] اس طرح کا دباؤ تھا۔‘‘

۱۵ جولائی ۲۰۰۳ کو خود محمد اکرم، جو اب تقریباً ۴۰ سال کے ہیں، زخمی ہو گئے تھے۔ وہ اپنا پائجامہ اٹھا کر زانو کے اوپر ایک لمبے زخم کا نشان دکھاتے ہیں۔ ’’میری نئی نئی شادی ہوئی تھی اور میدان کی طرف گیا ہوا تھا۔ ایک ہیڈماسٹر اور دیگر لوگ ہم سے ملنے آئے تھے جن کے ساتھ ہم چائے پی رہے تھے، تبھی ماگام کے انڈو تبت بارڈر پولس کیمپ کی ایک ٹیم نے بغیر کسی اطلاع کے گولی باری شروع کر دی۔ ایک گولہ ہمارے قریب آکر پھٹ گیا...‘‘ محمد اکرم خوش قسمت تھے کہ انھیں وقت پر طبی مدد مل گئی، ورنہ ان کے پیر کو کاٹنا پڑتا۔

PHOTO • Tosamaidan Bachav Front
PHOTO • Tosamaidan Bachav Front

پہاڑ کی بلندی پر واقع اس گھاس کے میدان میں فائرنگ رینج کے خلاف لوگوں کی جدوجہد کو تب تقویت ملی جب جموں و کشمیر بار کاؤنسل، تجارتی تنظیموں اور کئی دیگر لوگوں نے انھیں اپنی حمایت دی۔ فائرنگ رینج سے متاثر گاؤوں کی عورتوں نے بھی اپنے گھاس کے میدان میں امن بحالی کے لیے توسہ میدان بچاؤ فرنٹ کے توسط سے کام کیا

شنگلی پورہ کے ایک گڈریہ، غلام احمد نے مجھے بتایا کہ ہلاکتوں اور معذوری کے علاوہ، بچوں اور بزرگوں کو ان مشقوں کے دوران بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ ’’تعلیم بری طرح متاثر ہوئی۔ اسکول کے وقت ہی فائرنگ ہوتی تھی۔ بوم بوم بوم... صبح ۱۰ بجے سے شام کے ۴ بجے تک بندوقیں گرجتیں اور گولے پھٹتے۔ بھاری مورٹار فائرنگ کی وجہ سے اسکول کی عمارتیں ہلنے لگتیں۔ بچے بحران میں پھنس گئے۔ کچھ کے کان پر اثر ہوا، جس سے انھیں سنائی کم دینے لگا۔ ایک بار ایک گولہ اپنے ہدف تک نہیں پہنچا اور چِل براس میں ایک اسکول کی عمارت کے پاس آ کر گرا۔ درانگ، کھاگ، سیتا ہرن گاؤوں کے گھروں میں دراڑیں پڑ گئیں یا کھڑکی کے شیشے ٹوٹ گئے۔‘‘

ماحولیات کو بھی بہت زیادہ نقصان ہوا۔ برف کے پگھلنے یا بھاری بارش کے دوران، گولے نالوں یا پہاڑی چشموں میں بہہ جاتے جو کہ بڈگام کے لیے پانی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ جھاڑیوں میں آگ لگ جاتی اور کھیتوں میں بڑے بڑے گڑھے بن جاتے۔

غلام احمد کو ایک اور نقصان کی پشیمانی ہے، جس کے لیے وہ دھماکہ خیزوں میں استعمال ہونے والے کیمیکل کو قصوروار بتاتے ہیں: ’’پرندوں کی کئی قسمیں ہوا کرتی تھیں – بگولے، بن مرغی، سارس – جو ماحولیاتی نقصان کے سبب غائب ہو گئی ہیں۔ بہت ساری ادویاتی جڑی بوٹیاں بھی گم ہو گئی ہیں۔‘‘

برسوں تک، گاؤں والوں نے قتل کے ان میدانوں کو ایک ناگزیر خطرے کی شکل میں تسلیم کیا اور باہری دنیا ان کی خستہ حالی کے لیے ذمہ دار بنی رہی۔ فائرنگ رینج کے سبب مویشیوں اور فصلوں کو ہوئے نقصان کو لے کر وہ معاوضہ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں یا نہیں، یہ واضح نہیں تھا۔ ۱۹۳۸ کے جنگی مشق کے لیے فیلڈ فائرنگ اور توپ مشق قانون کے تحت کسی بھی گائڈ لائن کی عدم موجودگی کا مطلب یہ تھا کہ کئی برسوں تک کوئی بھی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی اور نہ ہی معاوضہ کے لیے کارروائی کی جا سکی۔

یہ صرف ۲۰۱۳ میں ہوا جب گاؤں والوں نے مشترکہ طور پر لڑنے کے لیے توسہ میدان بچاؤ فرنٹ کی تشکیل کی۔ پیشہ سے ڈاکٹر، غلام رسول شیخ نے اس تحریک کی شروعات کی تھی۔ میں ان سے سری نگر میں ملی، جہاں انھوں نے مجھے بتایا کہ بڈگام کے فائرنگ رینج کی جانکاری انھیں پہلی بار تب ملی، جب وہ ایک نوجوان کے طور پر وہاں ٹریکنگ کے لیے گئے تھے، ’’میں نے دیکھا کہ کئی درخت گرے ہوئے تھے۔ میں نے لوگوں سے کہا کہ وہ درختوں کو کاٹنا بند کریں اور ماحولیات پر مبنی سیاحت کو فروغ دیں۔ لیکن مجھے یہ جان کر افسوس ہوا کہ اس نایاب خوبصورتی والے علاقے میں فائرنگ رینج کے سبب اس قسم کی سیاحت ممکن نہیں ہے۔‘‘

PHOTO • Tosamaidan Bachav Front
PHOTO • Tosamaidan Bachav Front

مس فائرنگ یا گولوں کے نہ پھٹنے کے سبب اپنے شوہروں کی موت سے بیوہ ہوجانے والی کئی خواتین زندگی میں پریشانیاں جھیل رہی ہیں، پھر بھی وہ اس جدوجہد میں بخوشی شامل ہوئیں

بعد میں، موبائل طبی خدمات میں ایک سرکاری میڈیکل افسر کے طور پر، ڈاکٹر رسول شنگلی پورہ میں بیواؤں کی تعداد کے بارے میں جان کر حیران رہ گئے، جن کے شوہروں کی موت فائرنگ رینج کے سبب ہوئی تھی۔ انھیں ایک ایسی فیملی کا پتہ چلا، جس کے تین مردوں کی موت اس فائرنگ رینج کے سبب ہوئی تھی۔ اس واقعہ نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔

ڈاکٹر رسول نے کشمیر میں حق اطلاع کی مہم بھی شروع کی ہے۔ انھوں نے سال ۱۹۶۹ سے فائرنگ رینج کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے آر ٹی آئی کے استعمال سے ہلاکت اور معذوری کے اعداد و شمار حاصل کیے، اور فوج کو دی گئی زمین کے پٹہّ کی تفصیلات معلوم کیں۔

فوج اور ریاست کے خوف سے لوگ شروع میں اپنا احتجاج درج کرانے سے ڈرتے تھے۔ ۲۰۱۰-۲۰۱۱ کے کشمیر کے پنچایت انتخابات کا اعلان ہونے پر ایک نئی حکمت عملی بنائی گئی۔ جو لوگ فائرنگ رینج کے زبردست مخالف تھے اور چاہتے تھے کہ میدان کو خالی کر دیا جائے، ان سے ان انتخابات میں کھڑا ہونے کی اپیل کی گئی۔ بعد میں، پنچایتوں نے توسہ میدان سے وابستہ ایشوز پر بیداری پیدا کرنے میں مدد کی۔

’’ایسی کئی بیوائیں تھیں جن کے شوہروں کی موت فائرنگ رینج کے سبب ہوئی تھی اور مشکل حالات کے درمیان انھیں اپنے بچوں کی اکیلے پرورش کرنی پڑی تھی۔ وہ بھیک مانگ کر اپنی آمدنی کا انتظام کرتیں اور اس کے لیے مسجدوں کے باہر بیٹھتیں۔ لیکن وہ فطرتاً مضبوط تھیں اور ہم نے ان میں سے کئی کو پنچایت انتخابات میں کھڑا کیا۔ وہ پختہ ذہن کی مالک ہیں اور ایسے کئی فیصلوں پر واضح دلیل دیتی ہیں، جو لیے جانے ہیں،‘‘ لُبنا سید قادری کہتی ہیں، جو توسہ میدان میں کمیونٹی پر مبنی سیاحت کو نافذ کرنے والے ادارہ، اسکول فار رورول ڈیولپمنٹ اینڈ انوائرمینٹ (ایس آر ڈی ای)، سری نگر کی ایگزیکٹو ڈائرکٹر ہیں۔ انھوں نے بکروال اور گوجر برادریوں کے ساتھ برسوں تک کام کیا ہے۔

توسہ میدان دیہی کمیٹیوں کی تشکیل کے بعد، ۶۴ گاؤوں کی نمائندگی کرنے والے ۵۲ سرپنچوں نے فائرنگ رینج کے خلاف ایک تجویز پر دستخط کیے، اور ایک ساتھ مل کر توسہ میدان بچاؤ فرنٹ کی تشکیل کی۔

ماحولیات کے متعدد ماہرین، کشمیر بار کاؤنسل کے ممبران اور مختلف تجارتی تنظیموں کے اس تحریک سے جڑنے سے مقامی انتظامیہ کو مضبوطی ملی۔ آر ٹی آئی کے توسط سے ایک اہم جانکاری یہ ملی کہ گھاس کے اس میدان کا پٹّہ ہر ۱۰ سال میں تجدید کے لیے آتا تھا اور یہ ۹۰ سال کے لیے نہیں ہے، جیسا کہ گاؤں والوں نے غلطی سے مان لیا تھا۔ تجدید کے لیے اگلا سال تھا ۲۰۱۴۔ زوردار مہم کے ذریعے اس وقت کی نیشنل کانفرنس حکومت پر دباؤ بنایا گیا کہ وہ اس پٹّہ کی تجدید نہ کرے۔ سری نگر میں مہینہ میں کم از کم دو بار احتجاجی مظاہرے ہوئے اور مقامی اور قومی میڈیا نے بھی اس ایشو کو اٹھایا۔

PHOTO • Tosamaidan Bachav Front

فائرنگ رینج کی وجہ سے جو لوگ زخمی اور معذور ہوئے تھے، وہ کھاگ اور سری نگر کے احتجاجی مظاہرے میں شامل ہوئے

آخرکار، ۱۸ اپریل ۲۰۱۴ کو فوج نے چراگاہ کو خالی کر دیا اور نہ پھٹنے والے گولے کو ہٹانے اور جگہ کو محفوظ بنانے کے لیے ۸۳ روزہ صفائی مہم شروع کی۔ اس وقت جیسا کہ میڈیا میں اس کی بہت تعریف کی گئی، لیکن یہ مشق اپنے دعووں کے مقابلے میں کم کامیاب رہی، اور اس سال اگست میں واجد احمد آہنگر کی موت کے بعد یہ مہم پھر سے شروع کرنی پڑی۔

جن ایشوز کو ابھی بھی حل کرنے کی ضرورت ہے، ان میں شامل ہے جان مال کے نقصان اور ماحولیاتی نقصان کے لیے وافر معاوضہ، اور توسہ میدان کے آس پاس کے گاؤوں میں دیہی سیاحت کے لیے ریاست کی حمایت۔

مارچ ۲۰۱۷ میں سری نگر کے ہائی کورٹ میں توسہ میدان بچاؤ فرنٹ اور ایس آر ڈی ای کے ذریعے معاوضہ کے لیے مفادِ عامہ کی ایک عرضی دائر کی گئی تھی۔ اس کے بعد، ریاستی حکومت کے ذریعے، معاوضہ کی رقم (یہ واضح نہیں ہے کہ یہ رقم کتنی ہے) طے کی گئی تھی، لیکن پیسہ ابھی تک تقسیم نہیں کیا گیا ہے۔

دیہی سیاحت کے لیے ایک خاکہ تیار کیا گیا ہے، اور قادری کا کہنا ہے کہ اس میں کشمیری معاشرہ کے روایتی عقیدوں کے تحت خواتین کے لیے معاش کے نئے مواقع کو شامل کیا گیا ہے۔ ’’عورتیں پونی والا (گھوڑے سے سامان ڈھونے والا) نہیں بن سکتی ہیں، اس لیے ہم انھیں دست کاری یا مقامی غذائی اشیاء وغیرہ بیچنے لائق بنانے کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔‘‘

محمد اکرم کہتے ہیں کہ گاؤں کے لوگ گل مرگ اور پہل گام جیسے سیاحتی طریقوں پر بھروسہ نہیں کرتے، جہاں بڑے ٹور آپریٹر زمین پٹّہ پر لیتے ہیں، بڑے ہوٹل بناتے ہیں اور منافع کماتے ہیں۔ ’’یہ ماڈل ہم دیہی باشندوں کو برتن دھونے والا مزدور بنانے کے علاوہ کہیں اور کا نہیں چھوڑیں گے، اور ماحولیات کو تو نقصان ہوگا ہی۔‘‘

لیکن وادی میں مجموعی طور پر سنگین حالات نے سیاحت کو بری طرح متاثر کیا ہےاور حالیہ اندیشہ کہ اس چراگاہ میں خطرہ ابھی بھی بنا ہوا ہے، حد سے زیادہ فوج کی تعیناتی والے اس علاقے کے چیلنجز کی یاد دلاتا ہے۔

کھاگ کے ایک چھوٹے سے ہوٹل میں، وہاں کا مالک مجھے پہاڑوں اور گھاس کے میدان کے خوبصورت نظارہ کو دیکھنے کے لیے سیڑھیوں سے اوپر جانے کی اپیل کرتا ہے۔ ’’میں نے اس عمارت میں توسیع کی اور اس جگہ کو خاص طور سے بنایا، اس امید میں کہ یہاں بہت سارے سیاح آئیں گے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’لیکن آنے والوں کی سب سے بڑی تعداد فوج کی ٹکڑی ہے، جو محاصرہ اور تلاشی مہم کے دوران یہاں آتی ہے...‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Freny Manecksha

فرینی مانک شا ممبئی میں مقیم ایک آزاد صحافی ہیں۔ وہ ترقی اور حقوق انسانی پر لکھتی ہیں، اور ۲۰۱۷ میں انگریزی میں شائع ہونے والی کتاب ’بیہولڈ، آئی شائن: نریٹوز آف کشمیرس ویمن اینڈ چلڈرین‘ کی مصنفہ ہیں۔

Other stories by Freny Manecksha