’’وہ فصل کاٹنے کا موسم تھا۔ کلکٹر نے ہمارے سبھی گاؤوں کے نمائندوں کو اپنے دفتر میں بلایا اور تین مہینے کا الٹی میٹم دیا۔ ’دسمبر سے پہلے جگہ خالی کردو ورنہ ہم پولس کو بلائیں گے اور تم سب کو یہاں سے کھدیڑ دیں گے‘ اس نے کہا تھا،‘‘ ۶۸ سالہ وِٹھل گَنو وِڑے اس دن کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں۔

Portrait of a man (Vitthal Ganu Vide)
PHOTO • Jyoti Shinoli

۴۶ سال پہلے بے گھر ہوئی وِٹھل گنو وِڑے کی فیملی کی ابھی بھی ’باز آبادکاری‘ نہیں ہوئی ہے

یہ اکتوبر ۱۹۷۰ میں ہوا تھا۔

وِڑے ہم سے سارنگپوری گاؤں میں بات کر رہے ہیں، جو ممبئی شہر سے ۸۴ کلومیٹر دور، مہاراشٹر کے تھانے ضلع کے شہاپور تعلقہ کا ایک دور افتادہ علاقہ ہے۔ بھاتسا آبپاشی پروجیکٹ نے ۴۶ سال پہلے، اس ضلع کے پانچ گاؤوں اور آدیواسی پاڈے کے ۱۲۷ کنبوں کو بے گھر کر دیا۔ راحت اور بازآبادکاری – اس قسم کی باتیں تقریباً دو عشرے قبل چلتی تھیں۔ باندھ کی وجہ سے بے گھر کیے گئے ان کنبوں کو اپنا انتظام خود ہی کرنا پڑا، رہنے کے لیے اس جنگلی علاقہ میں دوسری جگہیں تلاش کرنی پڑیں۔ کچھ لوگوں کو تھوڑے بہت پیسے بھی ملے – فی ایکڑ کے ۲۳۰ روپے – لیکن، اسے کہیں ریکارڈ نہیں کیا گیا، کہیں درج نہیں کیا گیا۔ زیادہ تر لوگوں کو کچھ بھی نہیں ملا – صرف ڈسٹرکٹ کلکٹر کے دفتر سے سرٹیفکیٹ تھما دیا گیا کہ یہ بے گھر کیے گئے لوگ ہیں۔ وہ بھی، احتجاج کے بعد۔

’’ہم ۱۵ دنوں تک لگاتار چلتے رہے۔ گاڑی کے بغیر، اپنے سارے سامانوں کے ساتھ ایک ہی بار میں دوسری جگہ منتقل ہونا ممکن نہیں تھا۔ مردوں، چھوٹے بچوں کو ساتھ لے جا رہی عورتوں، اور دیگر نوجوانوں کی ایک لمبی قطار تھی جو گھر کے برتن، کھیتی باڑی کے اوزار، اناجوں کے گھٹر، مکئی، اناج، مویشی اور مرغ وغیرہ اپنے ہاتھوں میں پکڑے اور سر پر لادے ہوئے کہیں اور جا رہے تھے۔ لوگ اپنی مرغیوں اور گایوں کو اپنے پیچھے مرنے کے لیے چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے تھے۔ پھاٹک، دیواروں کی بڑی کُنڈی، برتن کا ٹوٹا ہوا ٹکڑا – انھوں نے اپنے پرانے گھروں سے ہر ممکن سامان کو بچانے کی کوشش کی، تاکہ کہیں اور جا کر ایک نئے گھر کی تعمیر میں ان کا استعمال کر سکیں،‘‘ وِڑے بتاتے ہیں۔

ان کی فیملی پانچ مصیبت زدہ گاؤوں اور بستیوں کی ۱۲۷ فیملوں میں شامل تھی۔ وکیچا پاڈہ، پلاس پاڈہ اور گوڈھے پڈل آدیواسی بستیاں تھیں۔ پلھیری اور پچی واڑے گاؤوں میں رہنے والے کنبے زیادہ تر دیگر پس ماندہ طبقات (او بی سی) کے تھے۔ یہ سبھی بھاتسا باندھ پروجیکٹ کی وجہ سے۷۲-۱۹۷۰ کے دوران پانی میں پوری طرح ڈوب گئے۔

’’میرا گاؤں پلھیری تھا۔ اور اس کے آس پاس اور بھی بہت سی آدیواسی بستیاں آباد تھیں۔ یہ پورا علاقہ اندھیرے جنگل اور ندی سے گھرا ہوا تھا،‘‘ وِڑے بتاتے ہیں۔

Bhatsa dam
PHOTO • Jyoti Shinoli

بھاتسا باندھ پروجیکٹ نے ۲۷-۱۹۷۰میں پانچ گاؤوں اور بستیوں کو پانی میں ڈبو دیا جس کی وجہ سے ۱۲۷ کنبے بے گھر ہو گئے

’کلکٹر نے ہمارے سبھی گاؤوں کے نمائندوں کو اپنے دفتر میں بلایا اور الٹی میٹم دیا: دسمبر سے پہلے اس جگہ کو خالی کردو ورنہ ہم پولس کو بلائیں گے اور تم سب کو یہاں سے کھدیڑ دیں گے،‘‘ وِڑے بتاتے ہیں

سرکار نے بھاتسا پروجیکٹ کے لیے ۳۲۷۸ ہیکٹیئر اراضی تحویل میں لے لی۔ ان میں سے ۶۵۳ ہیکٹیئر پرائیوٹ زمین تھی، باقی سرکاری ملکیت والا جنگل تھا۔ بے گھر ہونے والے ۱۲۷ کنبوں میں ۹۷ گھر ما ٹھاکر قبیلہ اور ۳۰ او بی سی کنبوں کے شامل تھے۔ نتیجہ: نصف صدی گزر جانے کے باوجود، ۵۷۸ لوگوں کو اب بھی اپنی ’’بازآبادکاری‘‘ کا انتظار ہے۔

’’سال ۱۹۷۰ جو ہماری فصل کٹائی کا آخری موسم تھا، اس میں کوئی روایتی جشن نہیں منایا گیا۔ وہ تین مہینے (اکتوبر سے دسمبر تک) کافی مشکل تھے۔ ہم اپنی دھرتی ماں کا شکریہ ادا نہیں کر سکے۔ اس سال کوئی دسہرہ، کوئی دیوالی نہیں ہوئی،‘‘ وِڑے یاد کرتے ہیں۔

ان کے گاؤں سے صرف دو کلومیٹر دور، مُربیچا پاڈہ میں ۳۵ آدیواسی کنبے ہیں، جو ۲۷-۱۹۷۱ کے دوران باندھ کی وجہ سے گوڈھے پڈل سے بے گھر ہوئے تھے۔ جَیتو بھاؤ کیوڑی کی عمر تب ۱۶ سال تھی۔ انھوں نے اپنے والدین اور چار بھائی بہنوں کے ساتھ گاؤں چھوڑا تھا۔

’’ایسا پہلی بار تھا، جب ہم نے اپنے روایتی ڈھول اور ڈانس سے فصل کا شکریہ نہیں ادا کیا۔ ہر کوئی خوفزدہ تھا اور سوچ رہا تھا: ہم ان کے ’معاوضہ‘ پر کتنے دنوں تک زندہ رہیں گے،‘‘ کیوڑی بتاتے ہیں۔

Tribal families self-settled in Murbicha Pada, during 1971-72
PHOTO • Paresh Bhujbal
Tribal families self-settled in Murbicha Pada
PHOTO • Paresh Bhujbal

گوڈھے پڈل کے ۳۵ کنبوں کو مُربیچاپاڈہ میں دوبارہ بسایا گیا، لیکن انھوں نے اس سال فصل کٹائی کے موسم میں ڈھول اور ڈانس پر مبنی روایتی جشن نہیں منایا

’’کچھ لوگوں نے اپنے رشتہ داروں کے گاؤوں جا کر پناہ لے لی۔ دیگر لوگ آس پاس کے گاؤوں اور پاڈے میں چلے گئے جیسے سارنگپوری، آٹ گاؤں، کھُٹ گھر، کھیرے، مُربیچا پاڈہ۔ کئی کنبے غائب ہو گئے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں گئے،‘‘ وہ مزید بتاتے ہیں۔

’’اس سے پہلے، ہماری زندگی پرسکون تھی اور ہمیں کسی کے سہارے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ ہم نہایت زرخیز زمین پر کبھی دھان کی فصل اُگاتے تھے اور کبھی غلّے۔ ایندھن کے لیے لکڑی، پھل اور جڑی بوٹیاں، متعدد بیماریوں کے علاج کے لیے پودے – یہ تمام چیزیں ہم جنگل سے حاصل کرتے۔ ہمارے پاس چھ گائیں تھیں، جس کی وجہ سے دودھ کی کوئی کمی نہیں تھی۔ اب، ہم دودھ کا نظارہ کرنے سے بھی ترس گئے ہیں،‘‘ کیوڑی کہتے ہیں۔

ویٹا پاڈہ کی رامی کیوڑی کی شادی جب پلاس پاڈہ کے بابو بھاؤ کیوڑی سے ہوئی تھی، تب وہ مشکل سے ۱۵ سال کی تھیں۔ ’’ہمیں اپنی دنیا چلانے کے لیے جن چیزوں کی بھی ضرورت ہوتی، وہ ہمیں اپنے آس پاس سے مل جاتا۔ ہمارے پاس دھان کے کھیت اور گائیں تھیں۔ کچھ لوگ سبزیاں اور دالیں اُگاتے تھے جیسے اُڑڈ، ارہر، مونگ اور مٹر۔ جس دال کی ہمیں کبھی کمی نہیں ہوتی تھی اور مفت میں مل جاتی تھی، اب ہم اس کے لیے ترس رہے ہیں۔ کھانے کے لیے پہلے ہمیں کبھی پیسہ نہیں خرچ کرنا پڑا، لیکن اب کرنا پڑ رہا ہے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔

Portrait of a woman (Rami Kevari)
PHOTO • Paresh Bhujbal
Group of men in a room. Gopal Dattu Kevari – one in a white vest
PHOTO • Paresh Bhujbal

رامی کیوڑی (بائیں) اور گوپال کیوڑی (دائیں سے تیسرے)

رامی کیوڑی، جن کے پاس بی پی ایل راشن کارڈ ہے، آج انھیں ۸۰ روپے کلو دال خریدنے کے لیے ۱۵ کلومیٹر دور شہاپور جانا پڑتا ہے۔ ان کے جیسے دوسرے لوگوں کو بھی ایسا ہی کرنا پڑ رہا ہے۔

نقل مکانی کے بعد جو نسل پیدا ہوئی، اسے بدتر صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس علاقے میں کوئی انڈسٹری نہیں ہے۔ یہاں مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کا بھی کوئی کام نہیں ہے۔ آمدنی کے جو چند ذرائع یہاں دستیاب ہیں ان میں شامل ہے زرعی مزدوری، مستری کا کام، مچھلی پکڑنا، یا پھر جنگل کی پیداوار کو بیچنا۔

گوپال دتو کیوڑی (۳۵)، اپنے ہم عمروں کی طرح ہی، زرعی مزدور کا کام کرتے ہیں۔ ان کی فیملی میں کل ۱۶ ممبر ہیں۔ ’’میں ایک دن میں ۲۵۰-۲۰۰ روپے کماتا ہوں۔ لیکن ایک سال میں مجھے ۱۵۰ دنوں سے زیادہ کام نہیں مل پاتا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔

گوپال کے کندھوں پر چھ بیٹیوں اور ایک بیٹے کی ذمہ داری ہے۔ ان کے پانچ چھوٹے بھائی بھی ہیں، جن کے پاس کوئی مستقل نوکری نہیں ہے۔ ’’ہم تمام لوگ مل کر ایک مہینہ میں ۵۰۰۰ سے ۶۰۰۰ روپے سے زیادہ نہیں کما پاتے۔‘‘

مُربیچاپاڈہ میں ایک پرائمری اسکول ہے، لیکن نزدیکی ہائی اسکول وہاں سے چھ کلومیٹر دور، کوٹھارے گاؤں میں ہے۔ ’’دسویں کلاس کے بعد، تمام پاڈے سے طلبہ کو شہاپور جانا پڑتا ہے، جہاں کالج اور ہاسٹل ہیں۔ ایسا سب کے بس کی بات نہیں ہے، اسی لیے اسکول کے بعد پڑھائی چھوڑنے والوں کی تعداد زیادہ ہے،‘‘ ایک مقامی ٹیچر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔

Children in a classroom in a primary school in Murbichapada
PHOTO • Paresh Bhujbal
Group of boys (Sachin Kevari with his friends)
PHOTO • Paresh Bhujbal

مُربیچاپاڈہ کا پرائمری اسکول، جہاں سچن کیوڑی (دائیں سے چوتھے) جیسے بہت سے طلبہ نے نقل مکانی کے بعد تعلیم حاصل کی، لیکن ۱۰ویں کلاس کے بعد پڑھائی چھوڑ دی

مُربیچا پاڈہ کے ۲۳ سالہ سچن کیوڑی نے، زرعی مزدور کے طور پر کام کرتے ہوئے، تقریباً آٹھ سال پہلے ۱۰ویں کا امتحان پاس کر لیا تھا۔ ’’میں نہ تو ہاسٹل کی فیس برداشت کر سکتا تھا اور نہ ہی آنے جانے کا کرایہ۔ فیملی کے لیے پیسے کمانا زیادہ ضروری تھا،‘‘ وہ مایوس ہوکر بتاتے ہیں۔

۸۸ میٹر اونچے بھاتسا باندھ میں ۹۷۶ مکعب میٹر پانی ذخیرہ کرنے اور ۱۵ میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس سے ۲۳ ہزار ہیکٹیئر کھیت کی سینچائی ہوتی ہے۔ یہ ممبئی اور تھانے کو ہزاروں لیٹر پینے کا پانی بھی سپلائی کرتا ہے۔

Women in Murbichapada going to fetch water towards Mumari river which is 2 KM far
PHOTO • Paresh Bhujbal

باندھ سے ممبئی کو تو پانی سپلائی ہو رہا ہے، لیکن مُربیچا پاڈہ کی عورتوں کو اس کے لیے کئی کلومیٹر تک پیدل چلنا پڑتا ہے

’’یہ چراغ تلے اندھیرا جیسا ہے۔ ان لوگوں نے اس پروجیکٹ کے لیے اپنی آبائی زمین کو قربان کر دیا۔ اور ملا کچھ نہیں ... کوئی معاوضہ نہیں، کوئی نوکری نہیں، کوئی تعلیم نہیں،‘‘ ببن ہرنے بتاتے ہیں، جو ایک سماجی کارکن اور بھاتسا آبپاشی پروجیکٹ بازآبادکاری کمیٹی (بی آئی پی آر سی) کے کوآرڈی نیٹر ہیں، یہ کمیٹی ۱۹۸۶ میں قائم کی گئی تھی (حالانکہ بے گھر ہوئے لوگوں کی لڑائی اس سے کافی پہلے ہی شروع ہو گئی تھی)۔

بی آئی پی آر سی کے چیئرمین، ۶۳ سالہ بھاؤ بابو مہلونگے، خود اس پروجیکٹ سے متاثر ہونے والوں میں سے ایک ہیں۔ وہ ترمیم شدہ مہاراشٹر پروجیکٹ کے متاثر افراد کی بازآبادکاری قانون، ۱۹۹۹ کے تحت بے گھر کیے گئے لوگوں کے لیے انصاف کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔

’’ان کی قابل کاشت زمین کو ۷۱-۱۹۷۰ میں نہایت ہی کم قیمت پر، ۲۳۰ روپے فی ایکڑ کے حساب سے تحویل میں لے لیا گیا۔ قومی بازآبادکاری اور بحالی پالیسی، ۲۰۰۷ کے تحت ضروری ’سماجی اثر کا جائزہ‘ بھی آج تک نہیں لیا گیا ہے،‘‘ مہلونگے بتاتے ہیں۔

گاؤوں سے اجاڑے گئے آدیواسی اور او بی سی لوگ ۱۹۷۳ سے اب تک احتجاج، بھوک ہڑتال، دھرنا، میٹنگ، اور سرکاری اہلکاروں سے بات چیت (اور خط و کتابت) میں سو دن لگا چکے ہیں۔ اور موجودہ نسل زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

’’دسویں کلاس پاس کو شہر میں کیا نوکری ملے گی؟ کیا وہ اچھا کما پاتے ہیں؟‘‘ سچن کیوڑی سوال کرتے ہیں۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Jyoti Shinoli

جیوتی شِنولی ممبئی میں مقیم ایک صحافی اور پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کی کانٹینٹ کوآر ڈی نیٹر ہیں؛ وہ اس سے پہلے ’می مراٹھی‘ اور ’مہاراشٹر۱‘ جیسے نیوز چینلوں کے لیے کام کر چکی ہیں۔

Other stories by Jyoti Shinoli