/media/uploads/Articles/P. Sainath/Biswas and the bamboos on his bike/biswas1_cropped.jpg

’مشکل سے پانچ فیٹ لمبی سائیکل پر آپ اتنے وزنی اور اتنے لمبے بانسوں کا بیلنس (توازن) کیسے بناتے ہیں؟



ہم نے اسے دیکھا - لیکن ہمیں اس پر یقین نہیں ہوا۔ ہم اس کے قریب پہنچے، اپنی گاڑی سے نیچے اترے اور اسے غور سے دیکھنے لگے۔ یہ سچ تھا، کوئی جھوٹ نہیں تھا۔ ہم کو اب بھی اس پر یقین نہیں آیا۔ رتن بسواس کے پاس پانچ بانس تھے، ان میں سے ہر ایک کی لمبائی ۴۰۔۴۵ فیٹ تھی، جو پورے توازن کے ساتھ اس کی سائیکل سے بندھے ہوئے تھے۔ اور وہ اس بوجھ کو اپنے گاؤں سے ۱۷ کلومیٹر دور تریپورہ کی راجدھانی اگرتلہ کے ایک بازار تک سڑک کے راستے کھینچ کر لیے جا رہا تھا۔ اگر اس بانس کے کسی بھی کنارے سے کوئی پتھر یا کوئی اور چیز ٹکرا جاتی، تو سائیکل، سائیکل کا مالک اور بانس، سبھی زمین پر گر پڑتے اور بری طرح زخمی ہوتے۔ بانس کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ دیکھنے میں تو وہ بہت ہلکے لگتے ہیں، لیکن ہوتے بہت بھاری ہیں۔ بانس تو کل پانچ تھے، لیکن دیکھنے میں چار ہی لگ رہے تھے، کیوں کہ ان میں سے دو آپس میں اس طرح بندھے ہوئے تھے گویا ایک ہی ہوں۔ اِن پانچوں کا وزن کل ملا کر ۲۰۰ کلوگرام تھا۔ بسواس یہ جانتا تھا۔ ہم سے بات کرکے وہ خوش ہوگیا اور اس نے اپنی اس سواری کا فوٹو کھینچنے کی بھی ہمیں اجازت دے دی۔ لیکن، اس نے ہمیں اس سائیکل کو کھینچنے کی اجازت نہیں دی، کیو ں کہ وہ اس کے خطرات سے بخوبی واقف تھا۔

’مشکل سے پانچ فیٹ لمبی سائیکل پر آپ اتنے وزنی اور اتنے لمبے بانسوں کا بیلنس (توازن) کیسے بناتے ہیں؟‘ یہ سوال سن کر وہ مسکراتا ہے اور ہمیں وہ تختہ دکھاتا ہے، جو خود بانسوں کا بنا ہوا ہے۔ ان میں سے دو کو تو اس نے سائیکل کے آگے کی طرف کھڑا کرکے لگا رکھے ہیں۔ یہ تختے نیچے کی طرف سائیکل میں چین کے اوپر والے راڈ (زاویائی بار) سے بندھے ہوئے ہیں، جب کہ ان کا اوپری سرا افقی بار سے بندھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، پیچھے کیریئر پر بھی بانس کے ہی بنے ہوئے دو تختے افقی طور پر بندھے ہوئے ہیں۔


/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Biswas and the bamboos on his bike/biswas2_cropped.jpg


اس طرح، اس کے دو بانس افقی بار سے بندھے ہوئے ہیں، جو اگلے تختے پر ٹکے ہوئے ہیں، جب کہ پیچھے کی طرف کیریئر سے بندھے بانس کے تختے پر ٹکے ہوئے ہیں۔ بقیہ بڑے بانس سامنے کی طرف ہینڈل بار اور سیٹ پر رکھے ہوئے ہیں اور دونوں ہی جوڑ پر بندھے ہوئے ہیں۔ یہ بانسوں کو آپس میں جوڑ کر رکھ سکتے ہیں۔ اس کی وجہ سے سڑک پر یہ بانس آسانی سے ہِل ڈؑل نہیں سکتے۔ یہ کمر توڑ محنت ہے۔ بسواس روزی روٹی کمانے اور چار اراکین پر مبنی اپنے کنبہ کو چلانے کے لیے جو متعدد کام کرتا ہے، یہ ان میں سے ایک ہے۔ وہ بتاتا ہے، ’’میں ہوں، میری بیوی ہے اور دو بیٹے ہیں۔ میرا گاؤں جیرانیا بلاک (مغربی تریپورہ ضلع) میں ہے۔ میں روزانہ کام کرنے والا ایک محنت کش ہوں۔ اگر کسی عمارت کی تعمیر ہو رہی ہو، تو میں اس میں ایک مزدور کے طور پر بھی کام کر لیتا ہوں۔‘‘ اور جب کوئی کام نہیں ملتا، تو وہ کھیتی کے موسم میں کاشت کار مزدور بن جاتا ہے، یا پھر مٹی کے برتن بنانے والا کمھار۔

/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Biswas and the bamboos on his bike/p1020736.jpgبانسوں کی لمبائی کے ایک چوتھائی حصہ سے بھی کم سائیکل کے آگے لٹکا ہوا ہے، جب کہ اس کا بھاری بھرکم حصہ سائیکل کے پیچھے ہے۔ ہمیں ابھی تک یہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ بانس کا پچھلا سرا زمین سے ٹکرا کیوں نہیں رہا ہے۔ ہماری حیرانی کو دیکھ کر بسواس ہولے سے مسکرانے لگا۔

’’نہیں،‘‘ اس نے کہا۔ ’’میں نے اِن بانسوں کو خود سے نہیں کاٹا۔ میرے لیے وہ کام بہت مشکل ہوتا۔ میں یہ بانس اُن لوگوں سے خریدتا ہوں، جو اسے لے کر میرے گاؤں آتے ہیں۔‘‘ اور اگر اس کے یہ بانس اگرتلہ کے بازار میں بِک جائیں، تو اس سے اسے ۲۰۰ روپے کا منافع ہو سکتا ہے۔ اُس وقت میرے ساتھ سنیل کلائی سفر کر رہے تھے، جو تریپورہ سنٹرل یونیورسٹی کے جرنلزم اینڈ ماس کمیونی کیشن ڈپارٹمنٹ میں لکچرر ہیں۔ وہ مجھے بتانے لگے کہ بسواس چاہتا تو بازار تک پہنچنے کے لیے وہاں موجود بہت سے چھوٹے راستوں کا انتخاب کر سکتا تھا۔ لیکن، اس نے شاید ایسا اس لیے نہیں کیا، کیوں کہ اُن راستوں پر اسے بانس کی لمبائی کے مطابق جگہ نہیں مل پاتی۔ یہ دیکھنے کے بعد ہم لوگ اپنی کار میں بیٹھے اور اگلے ضلع، اَمباسا کی طرف چل پڑے۔ بسواس مخالف سمت میں چلا جا رہا ہے، اس کے سائیکل کی ۴۰ فیٹ لمبی پونچھ اس کے پیچھے ہوا میں لہرا رہی ہے۔



/static/media/uploads/Articles/P. Sainath/Biswas and the bamboos on his bike/biswas_3_cropped.jpg


(مترجم: ڈاکٹر قمر تبریز)

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath