دہلی سے باہر نکلتے ہی، قومی شاہراہ ۴ پر سنجے گاندھی ٹرانسپورٹ نگر ڈپو واقع ہے، جو ٹرک اور اس سے متعلقہ مرمت کا ایک مرکز ہے۔ یہ ایک دھول بھری جگہ ہے، جہاں زیادہ تر مردوں کا مجمع رہتا ہے۔ یہاں پر بھدی زبان میں بات کرنا یا کھلے میں پیشاب کرنا عام بات ہے۔ یہاں پر تیزی سے ایک دوسرے کو سامان (آلات) پاس کرتے، ٹائر بدلتے یا پنکچر جوڑتے بہت سے لمبے اور کالے سیاہ ہاتھوں کے درمیان ناخن پالش کیا ہوا اور چوڑیاں پہنے ایک ایسا ہاتھ بھی نظر آ جائے گا، جو یہ سارے کام کر رہا ہوگا۔ ۷۰ سالہ شانتی دیوی، ہندوستان کی شاید پہلی خاتون میکینک ہیں جو اِس ڈپو پر تقریباً دو دہائیوں سے کام کر رہی ہیں۔ وہ اپنے ۵۵ سالہ شوہر رام بہادر کے ساتھ یہاں کام کرتی ہیں۔ ان کی بیوی نے گزشتہ برسوں میں جو نام کمایا ہے، اس پر انھیں ناز ہے۔

آبائی طور پر گوالیر سے تعلق رکھنے والی دیوی کے لیے مردوں کے گڑھ میں گھُسنا کوئی نہیں بات نہیں ہے۔ پاس کے ہی سوروپ نگر کی رہنےو الی شانتی دیوی ۴۵ سال پہلے دہلی آئی تھیں، اور ۴،۵۰۰ روپے کی اپنی بچت سے پہلی شادی کی تھی۔ ’’ہماری فیملی غریب تھی۔ مجھے پالنے کے لیے میری ماں کو کافی محنت و مشقت سے گزرنا پڑا۔ میں تب چھوٹے موٹے کام کیا کرتی تھی، جیسے سلائی کرنا اور بیڑی بنانا۔ میں نے تھوڑا تھوڑا کرکے کچھ پیسے بچائے اور اس طرح شادی کرکے وہاں سے نکل آئی۔‘‘

دیوی اور بہادر نے اپنے کام کی شروعات ڈِپو کی دکان نمبر اے ڈبلیو۔۷ کے سامنے ایک چائے کی دکان کھول کر کی تھی۔ وہ اب بھی اسی جگہ پر کام کرتے ہیں، لیکن ۲۵ برسوں کے بعد یہ دُکان ایک رپیئر شاپ (مرمت کی دکان) میں تبدیل ہو چکی ہے۔ دیوی بتاتی ہیں کہ انھوں نے یہ کام ایک مستری سے سیکھا تھا، جس نے انھیں ٹائروں کو بدلنا، پنچکر جوڑنا، انجن کی چھوٹی موٹی خرابیوں کو درست کرنا سکھایا، وہ بھی ایک مہینہ تک تھوڑا بہت کھانا کھلانے اور کچھ پیسے کے بدلے۔ ’’کوئی یہ کام مفت میں نہیں سیکھ سکتا! مجھے تھوڑے بہت پیسے اس کے لیے خرچ کرنے پڑے،‘‘ وہ مسکراتے ہوئی کہتی ہیں۔

چونکہ شوہر اور بیوی دونوں کے پاس اپنی پچھلی شادیوں سے ۳۔۵ بچے تھے، جن کی پرورش کے لیے انھیں اپنی چائے کی دکان سے جو آمدنی ہوتی تھی، اس سے کچھ زیادہ پیسوں کی ضرورت تھی۔ ’’ان کی بیوی کسی دوسرے آدمی کے ساتھ بھاگ گئی اور میرے پہلے شوہر کی موت ہو گئی تھی۔ لیکن وہ ایک بیکار آدمی تھا، میں جو پسیے بھی بچاتی، وہ اسے شراب اور جوئے میں اڑا دیتا تھا۔ اگر میں اسے پیسے دینے سے منع کرتی، تو وہ مجھے مارتا پیٹتا تھا۔ کئی سالوں کے بعد میرے بڑے بیٹے کی ایک حادثہ میں موت ہو گئی۔ لیکن زندگی تو چلتی ہی رہتی ہے۔‘‘

بینگنی ساڑی اور اسی رنگ کے بلاؤز، جسے انھوں نے خود سیا ہے، میں ملبوس شانتی دیوی آرامدہ کینوس جوتے اور موزے کے ساتھ ساتھ چاندی کا چھلّہ بھی پیر میں پہنتی ہیں۔ گرمی اور دھول سے بچنے کے لیے ان کا سر ہمیشہ پلّو سے ڈھکا رہتا ہے۔ اپنی پیٹھ کو سیدھا رکھے ہوئے وہ جب کھیت میں ایک پکی ہوئی فصل کے بجائے کسی ٹائر پر جھکی ہوتی ہیں، تو انھیں دیکھ کر آپ کو کھیت میں کام کرنے والی ایک کسان کا احساس ہو سکتا ہے۔ وہ ٹیوب کو نکال کر اسے پاؤڈر سے ڈھانپ دیتی ہیں۔ ’’یہ اس لیے کیا جاتا ہے، تاکہ گرم ہونے پر ٹیوب، ٹائر سے چپک نہ جائے،‘‘ وہ تفصیل بتاتے ہوئے کہتی ہیں، اور پھر اس کے سوراخ کو ڈھونڈنے لگتی ہیں۔ ان کے شوہر کافی فخر محسوس کرتے ہیں، جب وہ انھیں یہ کہتی ہیں کہ اب کیا کرنا ہے۔ ’’ہم ایک دوست کی طرح ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ہم اپنے درمیان ۵۰ گز ایریا میں ایک گھر بناکر اپنے سبھی بچوں کو وہاں جمع کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔‘‘

اس علاقہ کے لوگ انھیں کس طرح دیکھتے ہیں؟ ’’یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کا برتاؤ کیسا ہے۔ وہ اس بات سے خوش ہیں کہ میں بھی انھیں جیسا کام کرتی ہوں، خاص کر تب، جب برسوں سے پریس میں میرے بارے میں لکھا جاتا رہا ہے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔

دیوی کو رنگوں سے بہت پیار ہے۔ انھوں نے اپنے ناخنوں پر ریگولر پینٹ یا پالش کی بجائے، ناخن کے کناروں پر مختلف رنگ کی پالش لگا رکھی ہے، جو بقول اُن کے رات میں چمکتی ہے۔ اپنے کام کو دیکھتے ہوئے انھوں نے شیشے کے بجائے پلاسٹک کی چوڑیاں پہن رکھی ہیں۔ ’’ایک بار، جب میں ایک بڑا اوزار ایک ورکر کو دے رہی تھی، تو وہ میری چوڑیوں میں پھنس گیا، جس کی وجہ سے کلائی پر ہی میری چوڑی ٹوٹ گئی۔ اس کی تیز نوک میری جلد میں دھنس گئی اور ایک زخم بن گیا۔ مجھے چوڑیاں پسند ہیں، اس لیے میں نے وہ چوڑیاں پہن رکھی ہیں جو آسانی سے ٹوٹیں نہیں۔‘‘


02-shanti-devi5-SS-A Pragmatic Mechanic.jpg

شانتی دیوی: ’’۔۔۔۔ زندگی تو چلتی ہی رہتی ہے‘‘ (تصویر: اروِند جین)


شانتی دیوی جیسی بہت سی عورتوں کے لیے روایت کو توڑنا مرضی سے نہیں ہوا ہے یا پھر اس کا مقصد نام کمانا نہیں ہے۔ بلکہ یہ سب ضرورت اور مجبوری کی بدولت کرنا پڑا ہے۔

 

یہ اسٹوری سب سے پہلے دی ویک میں ۷ مارچ، ۲۰۱۶ کو شائع ہوئی تھی۔

 

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Shalini Singh

شالی سنگھ دی ویک میگزین سے وابستہ صحافی ہیں اور دہلی میں رہتی ہیں۔ وہ عورت و مرد کے مسائل، ثقافت، سماجی تبدیلیوں اور حالاتِ حاضرہ پر لکھتی ہیں۔ وہ ’پاری‘ کی بانی ٹیم کا حصہ ہیں۔

Other stories by Shalini Singh