اسکول کے چار چھوٹے بچے اس جگہ پر بے صبری سے بیٹھے ہوئے ہیں، جہاں ان کے ہیڈ ماسٹر نے جانے کے لیے کہا تھا۔ ان کا وظیفہ داؤ پر لگا ہوا ہے – جو کہ ان کی کارکردگی یا اس میں کمی کی وجہ سے نہیں ہوا۔ ہیڈماسٹر نے ان بچوں کو وہاں ان کی مدد کے لیے بھیجا تھا، سزا کے طور پر نہیں۔ اور یہ جگہ ان کے اسکول کا کلاس روم نہیں ہے۔ امداگُر، جو آندھرا پردیش کے اننتا پور ضلع کے سب سے غریب منڈلوں میں سے ایک ہے، میں اس ڈرامہ کے دوسرے حصہ میں ایک نیا منظر شامل ہونے والا تھا۔

پاری نے ۱۶ جنوری کو، اَمداگُر کے سرکاری پرائمری اسکول میں پانچویں کلاس کے چار طلبہ اور ۱۰ سالہ دلت لڑکی، جے اندو کے بارے میں ایک اسٹوری شائع کی تھی۔ یہ پانچوں بچے اس سال اپنے وظیفہ سے محروم رہنے والے تھے، کیوں کہ ان کے آدھار کارڈ پر ان کے ناموں کا املا صحیح نہیں لکھا گیا تھا۔ اِندو کا نام اس کے کارڈ پر ’ہندو‘ لکھ گیا تھا، بعد میں جب اس کے گھر والوں نے نام کو درست کرنے کے لیے درخواست دی، تب بھی یہ ٹھیک نہیں ہوا اور نئے جاری کیے گئے آدھار کارڈ میں بھی یہ نام ’ہندو‘ ہی رہا۔

A man writing at a desk in a classroom surrounded by two young boys and a girl
PHOTO • Rahul M.
Three young boys and a young girl in their school uniforms walking through an open area
PHOTO • Rahul M.

ہیڈماسٹر ایس روشیہ نے ان بچوں کو تصحیح شدہ سرٹیفکیٹ جاری کیے؛ اسے لے کر یہ بچے مقامی ’آپ کی خدمت میں‘ مرکز کی جانب روانہ ہو گئے

اس کی وجہ سے اندو کا اسکول اس کے لیے بینک کھاتہ نہیں کھلوا پا رہا تھا – کیوں کہ اس کے لیے صحیح اور میل کھاتے نام والا آدھار کارڈ ہونا ضروری ہے۔ چار دیگر طلبہ، سبھی لڑکے (ان میں سے تین دلت ہیں، جب کہ ایک مسلم ہے)، کو بھی اسی مسئلہ کا سامنا تھا۔ آندھرا پردیش میں درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل اور دیگر پس ماندہ طبقات کے طلبہ و طالبات پانچویں کلاس سے ۱۲۰۰ روپے سالانہ وظیفہ حاصل کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔

جب یہ اسٹوری پاری پر شائع ہوئی، اس کے اگلے دن ہی حیدرآباد کے یو آئی ڈی اے آئی (یونیک آئڈینٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا) کے علاقائی دفتر سے ایک اہلکار نے، اَمداگُر کے آدھار آپریٹر، کے ناگیندر کو فون کیا۔ ناگیندر نے اسکول کے ہیڈماسٹر ایس روشیہ (یہ بھی ایک دلت ہیں) سے رابطہ کیا اور کہا کہ اگر ممکن ہو تو وہ ایک گھنٹہ کے اندر آدھار کارڈوں کو درست کرنا چاہتے ہیں۔ روشیہ نے جواب دیا کہ اسکول بند ہے، کیوں کہ بچے پونگل کی چھٹیاں منا رہے ہیں۔ انھوں نے ناگیندر سے کہا کہ وہ چھٹیوں کے بعد ان بچوں کو ان کے ’می سیوا کیندر‘ (’آپ کی خدمت میں‘ مرکز) ضرور بھیجیں گے۔

A man sitting at an office desk surrounded by three young boys and a girl wearing school uniforms
PHOTO • Rahul M.

آپریٹر، کے ناگیندر، طالب علموں کے بایومیٹرک ڈیٹا پھر سے ریکارڈ کر رہے ہیں

اسکول ۲۲ جنوری کو جب دوبارہ کھلا، تو روشیہ نے بغیر بینک کھاتوں والے ان پانچوں بچوں کو اپنے پاس بلایا۔ ان میں سے ایک بی انیف، B. Aniff (جس کے آدھار کارڈ پر، نام کو درست کرانے کے بعد بھی اِملا Anife اور Anef لکھ دیا گیا تھا) نے بتایا کہ اس کی فیملی نے چھٹیوں سے ٹھیک پہلے نام درست کرانے کے لیے دوبارہ درخواست دی تھی۔ روشیہ، اِندو اور باقی چاروں بچوں کو اس کمرے میں لے گئے، جہاں اسکول کے سارے دستاویز رکھے ہوئے ہیں، انھوں نے حاضری کا رجسٹر اٹھایا، اور نئے اسکول سرٹیفکیٹ پر ان سبھی طالب علموں کی درست تفصیلات لکھیں۔ ناگیندر، اپنے می سیوا کیندر سے ان سرٹیفکیٹ کو آدھار کے سروَر پر اپلوڈ کریں گے، تاکہ ان بچوں کے نام درست کیے جا سکیں۔

اس کے بعد، ۲۳ جنوری کو صبح کے وقت یہ چاروں بچے اَمداگُر می سیوا کیندر کی طرف چل پڑے۔ وہاں پہنچ کر وہ تب تک بیٹھے ہوئے انتظار کرتے رہے، جب تک کہ ناگیندر نے ویب سائٹ کھول کر ان میں سے ہر ایک کے نام اور ان کی تاریخِ پیدائش کو درست نہ کر لی۔ کئی بچوں نے جب بعد میں اپنے بایو میٹرکس اَپڈیٹ کرائے، تو سسٹم میں خرابی کی وجہ سے ان کی تاریخِ پیدائش اپنے آپ ہی ۱ جنوری ہو گئی تھی۔

’’کیا تم سبھی کو اپنے والدین کے موبائل نمبر معلوم ہیں؟‘‘ آپریٹر نے بچوں سے پوچھا۔ ’’یہ او ٹی پی (وَن ٹائم پاس وَرڈ) کے لیے ہے، اگر تم اپنا آدھار دوبارہ پرنٹ کرنا چاہتے ہو۔‘‘ اندو کو اس کے چچا کا موبائل نمبر یاد تھا لہٰذا اس نے آپریٹر کو وہ نمبر دے دیا، جب کہ دو دیگر بچے، جڑواں بھائیوں نے اپنے والدین کے نمبر کسی طرح حاصل کرکے دیے۔ چوتھا بچہ اُس دن اپنے آدھار کارڈ کی کاپی لانا بھول گیا تھا، اس لیے اس کے کارڈ کی درستگی کا عمل ابھی زیر التوا ہے۔

A man sitting at a desk in an office taking a photograph of a young girl in a school uniform. She is holding her Aadhaar card.
PHOTO • Rahul M.
A man sitting at a desk in an office taking the biometrics of a young girl in a school uniform.
PHOTO • Rahul M.

بایومیٹرک اسکین کے بعد، اندو کو ہاتھ سے لکھی ایک رسید دی گئی۔ فی الحال یہ ڈیٹا آف لائن اسٹور کر دیا گیا ہے، جسے آدھار کی ویب سائٹ پر اَپلوڈ ہونے میں تھوڑا وقت لگے گا

اندو کی تفصیلات لینے کے بعد ناگیندر، اسے اس کی پرنٹیڈ رسید نہیں دے سکے، اس لیے انھوں نے ہاتھ سے لکھی رسید تھما دی۔ ’’پرنٹر کام نہیں کر رہا ہے،‘‘ انھوں نے کہا۔ ناگیندر نے ان بچوں کو بتایا کہ ڈیٹا کو اَپلوڈ ہونے میں ایک ہفتہ کا وقت لگے گا۔ ’’میں نے اسکین کو ابھی تک آدھار کی ویب سائٹ پر اپلوڈ نہیں کیا ہے۔ یہ فائلیں میرے لیپ ٹاپ پر (آف لائن) محفوظ کر لی گئی ہیں،‘‘ انھوں نے بتایا۔ ناگیندر نے اس دن جو درخواست موصول کی، اس کی تصدیق ایک دوسرا آپریٹر کرے گا، اس لیے انھیں اپنا لیپ ٹاپ اُس آپریٹر کے پاس لے کر جانا ہوگا۔

’’جو آدمی وظیفے کا انچارج ہے، اس کا کہنا ہے کہ (اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے سروَر کی وجہ سے)  بینک میں مسئلہ ہے اور اگلے مہینہ کی ۳ تاریخ تک کوئی بھی اپنا کھاتہ نہیں کھلوا پائے گا،‘‘ روشیہ بتاتے ہیں۔ لیکن انھیں پورا یقین ہے کہ پانچوں بچوں کو ان کا وظیفہ ضرور ملے گا، کیوں کہ ان کے آدھار کارڈ اَپڈیٹ ہو رہے ہیں۔ ’’بینک کھاتے کھلنے کے بعد، ایک گھنٹہ کے اندر ان کے نام وظیفے کے لیے رجسٹر ہو جائیں گے،‘‘ روشیہ کہتے ہیں۔ ’’ان بچوں کے وظیفے اس سال انھیں ضرور ملیں گے۔‘‘

آدھار سے متعلق غلطیاں جب ہزاروں کی تعداد میں ہو رہی ہیں، تب کیا وجہ رہی کہ اس پر اتنی تیزی سے عمل ہوا؟ ’’ہوسکتا ہے کہ اہلکار اس ایشو کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اتنی تیزی سے حرکت میں آ گئے ہوں، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یہ معاملہ فی الحال سپریم کورٹ کے سامنے زیر غور ہے،‘‘ اے چندر شیکھر کا کہنا ہے، جو کالج کے سابق پرنسپل ہیں اور آندھرا پردیش و تلنگانہ کی ایک تنظیم، ہیومن رائٹس فورم کی سنٹرل کوآرڈی نیشن کمیٹی کے ایک رکن بھی ہیں۔ ’’وہ (اہلکار) اس سسٹم پر لوگوں کا اعتماد مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا، اگر ایسے ایک لاکھ معاملے ہیں اور وہ ان میں سے ۱۰ ہزار معاملوں کو بھی ٹھیک کر دیتے ہیں، تو (آدھار) سسٹم میں لوگوں کا بھروسہ کچھ تو بحال ہوگا۔ ایک طرف وہ اس کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن دوسری طرف انھیں زمینی حقیقت کا بھی علم ہے۔‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

Rahul M.

راہل ایم اننتا پور، آندھرا پردیش میں مقیم ایک آزاد صحافی اور 2017 کے لیے پاری فیلو ہیں۔

Other stories by Rahul M.