The Prohibition of Employment as Manual Scavengers and their Rehabilitation Act, 2013
This Act, as compared to an earlier law related to manual scavengers, emphasises restoring the workers’ dignity and rights, and provides for rehabilitation

SANGUR, PUNJAB
|SUN, NOV 20, 2022
Author
Translator
کووڈ- ۱۹ کی علامات کے باوجود، ممبئی کے ایک صفائی ملازم اشوک تارے کو بغیر کسی تحفظاتی آلات کے کام کرنے پر مجبور کیا گیا اور چھٹی دینے سے منع کر دیا گیا۔ ان کی فیملی مدد کے لیے ادھر ادھر بھاگتی رہی، اور ۳۰ مئی کو ان کی موت کے مہینوں بعد معاوضہ کا انتظار کر رہی ہے
لاک ڈاؤن کے دوران کام پر جانے کے لیے چنئی کے صفائی ملازمین پیدل ہی لمبی دوری طے کر رہے ہیں یا کچرے کی لاریوں میں سفر کر رہے ہیں۔ اس دوران ایک دن کی بھی چھٹی لینے پر جرمانہ دینا پڑ سکتا ہے، برخاست بھی کیا جا سکتا ہے
یہ ممبئی کے صفائی ملازمین کی کہانی ہے، جو کووِڈ- ۱۹ کے خلاف لڑائی میں سب سے آگے کھڑے ہیں۔ دیر سے مزدوری ملنے، اور حفاظتی لباس کی کمی کے باوجود وہ ماہُل علاقے کی زہریلی ہوا میں ابھی بھی کچرا صاف کر رہے ہیں
مدورئی کی جھگی بستی میں ایک ٹیچر ایسی ہیں جو تین نوکریاں کرنے کے بعد بھی ہاتھ سے میلا ڈھونے کو مجبور لوگوں اور دیگر صفائی ملازمین کے بچوں کو ٹیوشن پڑھانے کے لیے وقت نکال لیتی ہیں۔ وہ انہیں ان کے ماں باپ کے کام سے دور، نئے خواب دیکھنے کا حوصلہ فراہم کر رہی ہیں
ادنیٰ حفاظتی سازوسامان، بڑا خطرہ، تعطیل نہیں، تنخواہ نہیں، ہمہ وقت بیماری اور موت کا سایہ۔ یہ ہے کرناٹک کے تُمکور ضلع میں واقع پاواگڑا کے صفائی کرمچاریوں کا حال
روہتک سے تعلق رکھنے والی ۹۰ سالہ ممبئی کر، بھٹیری دیوی زندگی بھر غیر انسانی مزدوری، ذات پر مبنی ظلم اور خاندانی مصیبتیں برداشت کرنے کے باوجود غمگین نہیں ہیں، بلکہ آزاد اور کافی خوش مزاج ہیں
ارجن سنگھ جب ۱۰ سال کا تھا تبھی اس کے والد، راجیشور کی موت دہلی میں ایک سیور کی صفائی کے دوران ہو گئی تھی۔ اب ۱۴ سال کی عمر میں اسکول جانے والا یہ لڑکا اپنا اور اپنی ماں کا گزارہ چلانے کے لیے اسنیکس بیچتا ہے، اور بینک منیجر اور شیف بننے کا خواب دیکھ رہا ہے
اتراکھنڈ کے گُنجی گاؤں میں ۱۹۴ فیملیز رہائش پذیر ہیں، جنہیں پہاڑوں کی سخت سردیوں میں رفع حاجت کے لیے جھاڑیوں کے پیچھے جانا پڑتا ہے، لیکن اس کے باوجود سووچھ بھارت مشن کا دعویٰ ہے کہ یہ خطہ کھلے میں رفع حاجت سے پاک ہوگیا ہے
منی تقریباً ۳۰ برسوں سے بند نالوں کی صفائی کرتے رہے ہیں، اپنے کام اور ذات کی رسوائی کو دائمی بناتے ہوئے۔ اور جب جب وہ ننگے جسم کے ساتھ کیچڑ اور انسانی فضلہ میں غوطہ لگاتے ہیں، تب تب انھیں یہ تشویش ہوتی ہے کہ وہ زندہ واپس آئیں گے یا نہیں
کے ناگمّا، ایک صفائی ملازم کی بیوی جن کی موت سیپٹک ٹینک میں ہو گئی تھی، اور ان کی بیٹیاں – شَیلا اور آنندی اس نظام کے خلاف اپنی لڑائی کو یاد کرتی ہیں جس نے انھیں نالے تک محدود کر دیا ہے
نومبر 2016 میں، دہلی کے ایک مال میں سیپٹک ٹینک کی صفائی کرتے وقت چندن دلوئی کی موت ہو گئی۔ ’سیور کی صفائی کے لیے صرف ہماری ذات کو ہی کیوں تعینات کیا گیا ہے، اور لوگ اب بھی اس کے اندر کیوں مر رہے ہیں‘، ان کی بیوی، پُتُل پوچھتی ہیں
This Act, as compared to an earlier law related to manual scavengers, emphasises restoring the workers’ dignity and rights, and provides for rehabilitation
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/ہندوستان-میں-انسانی-فضلہ-صاف-کرنے-والوں-کا-حال