گدھے کا ایک لیٹر دودھ ۷ ہزار روپے میں؟ کسی بھی چیز کے ایک لیٹر کی اتنی قیمت؟ عجیب لگتا ہے، لیکن گجرات کے سوراشٹر کے ہلاری گدھوں کے دودھ کے بارے میں ستمبر ۲۰۲۰ میں اخباروں نے یہی سرخیاں لگائیں۔ اور یہ سچ بھی نکلا – بھلے ہی اس کے صرف ایک معاملہ کی ہی تصدیق ہو سکی۔ اور گجرات کی ہلاری گدھے پالنے والی برادریاں آپ کو دیکھتے ہی ہنسنا شروع کر دیں گی اگر آپ ان سے یہ کہیں گے کہ انہیں اتنی قیمت ہمیشہ ملتی ہے۔
مبینہ طور پر نایاب ادویاتی خصوصیات سے بھرپور، اس قسم کے دودھ کی قیمت گجرات میں زیادہ سے زیادہ ۱۲۵ روپے فی لیٹر رہی ہے۔ اور یہ قیمت اس تنظیم نے ادا کی تھی، جس نے اپنی تحقیق کے لیے محدود مقدار میں دودھ خریدا تھا۔
اور اس طرح، اخبار کی سرخیوں کا پیچھا کرتے ہوئے، میں سوراشٹر پہنچ گیا۔ راجکوٹ ضلع کے بنجر کپاس کے کھیتوں میں میری ملاقات کھولا بھائی جوجو بھائی بھارواڑ سے ہوئی، جن کی عمر تقریباً ۶۰ سال ہے اور وہ دیو بھومی دوراکا ضلع کے بھنواڑ بلاک کے جمپار گاؤں کے رہنے والے ہیں، جو اس وقت اپنی فیملی کے ہمراہ سالانہ مہاجرت کے راستے پر تھے۔ ان کے پاس بکریوں اور بھیڑوں کا ریوڑ، اور پانچ ہلاری گدھے تھے۔
’’ہلاری گدھے صرف ریباری اور بھرواڑ برادریوں کے پاس ہوتے ہیں،‘‘ کھولا بھائی نے بتایا۔ اور ان کے درمیان بھی، کچھ ہی کنبے ’’اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہ جانور خوبصورت ہیں لیکن ہمارے معاش کے لیے مستحکم نہیں ہیں۔ ان سے صفر آمدنی ہوتی ہے۔‘‘ کھولا بھائی اور ان کے پانچ بھائیوں کے پاس مشترکہ طور پر ۴۵ گدھے ہیں۔
خانہ بدوش مویشی پروروں کی آمدنی کا حساب لگانا غلط فہمیوں سے بھرا ہو سکتا ہے۔ ان کی آمدنی نہ تو مستحکم ہوتی ہے اور نہ ہی متعین۔ اور دوسرے لوگوں کی طرح انہیں ایندھن اور بجلی پر بھی ماہانہ خرچ نہیں کرنا پڑتا۔ لیکن ’سہجیون‘ این جی کے بھُج میں واقع مویشی پروری مرکز کے محققین بتاتے ہیں کہ پانچ لوگوں کی فیملی کی سالانہ آمدنی مجموعی طور پر ۳-۵ لاکھ روپے کے درمیان ہو سکتی ہے (جو ان کے ریوڑ کے سائز پر منحصر ہے) اور (تمام اخراجات کو گھٹانے کے بعد) کل آمدنی سالانہ ۱-۳ لاکھ روپے کے درمیان ہو سکتی ہے، لیکن اس آمدنی کو عمومی نہیں کہا جا سکتا۔ یہ آمدنی انہیں بکریوں اور بھیڑ کے اون اور دودھ کو فروخت کرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے۔
گدھوں سے انہیں بہت ہی معمولی آمدنی حاصل ہوتی ہے یا بالکل بھی نہیں ہوتی۔ مویشی چرانے والوں کی آمدنی اب چونکہ ہر سال کم ہوتی جا رہی ہے، اس لیے ہلاری گدھوں کی پرورش کرنا ان کے لیے مشکل ہو رہا ہے۔



















