یہ دوپہر بعد کا وقت ہے، جب کچھ کاریں ناڈسور کاتکری واڑی کے کمیونٹی مندر کے باہر آکر رکتی ہیں۔ وشنو واگھمارے باہر جھانک کر دیکھتے ہیں کہ کون آیا ہے، اور کاتکری بولی میں کچھ کہتے ہیں۔ تقریباً ۱۵ مرد و خواتین کا ایک گروپ مہمانوں کا استقبال کرنے کے لیے باہر نکلتا ہے۔
’’وہ ’بڑی تعداد‘ میں مزدوں کو لینے آئے ہیں۔ وہ سبھی اب بات چیت کے لیے بیٹھیں گے۔ ہمارے زیادہ تر لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ انھیں ان مقدموں [ٹھیکہ داروں] کے ذریعے بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔ وہ ہمارا استحصال کرتے ہیں پھر بھی ہم ان کے لیے کام کرنے جاتے ہیں۔ میں بھٹی میں کبھی نہیں جاتا،‘‘ ۲۱ سالہ وشنو کہتے ہیں، جو آس پاس کے گاؤوں میں کبھی کبھار چھوٹا موٹا کام کرتے ہیں۔
ناڈسور کاتکری واڑی مہاراشٹر کے رائے گڑھ ضلع میں سدھا گڑھ بلاک کی ناڈسور پنچایت کی ایک بستی ہے۔ یہاں ۳۶۰ کاتکری آدیواسیوں میں سے کئی – جو خاص طور سے کمزور جماعت کے طور پر درج فہرست برادریاں ہیں – ہر سال دیوالی کے بعد، عام طور پر نومبر کے وسط میں ہجرت کرتے ہیں۔ وہ آندھرا پردیش اور کرناٹک کی بھٹیوں میں، اور مہاراشٹر کے چپلون، امراوتی اور کچھ دیگر مقامات پر کام کرتے ہیں۔ جون کے شروع میں، وہ اپنی بستی میں لوٹ آتے ہیں۔ ان بھٹیوں میں ببول کی لکڑی سے کوئلہ بنایا جاتا ہے، جس کا استعمال ریستوراں کے باربیکیو اور تندور میں ہوتا ہے۔
مزدوروں کو لے جانے والے ٹرک تقریباً ۱۸ گھنٹے بعد مہاراشٹر کے اندر، بھٹیوں تک پہنچتے ہیں، جب کہ دیگر ریاستوں تک پہنچنے میں ۳۸ گھنٹے لگتے ہیں۔ ان مقامات پر کاتکری رہنے کے لیے گھاس پھوس، بانس اور گنّے کے چھلکے کا استعمال کرکے کھلے میدانوں میں عارضی گھر بناتے ہیں۔ وہ ان گھروں میں بجلی یا بیت الخلا کے بغیر رہتے ہیں، جہاں انھیں جنگلی جانوروں اور سانپوں کا لگاتار خطرہ بنا رہتا ہے۔






