ان میں سے زیادہ تر کاریگر قحط کے سبب وسئی آنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
’’مناسب بارش اور آبپاشی کے بغیر کھیتی کس کام کی؟‘‘ پوار، جو اپنی عمر کے ۵۰ ویں سال میں چل رہے ہیں، سوال کرتے ہیں۔ جام کھیڑ گاؤں میں پوار کی دو ایکڑ زمین ہے۔ سال کے چھ مہینے جب وہ تاریخی عمارتوں کی مرمت کے لیے گھر سے باہر رہتے ہیں، تو ان کی غیر موجودگی میں ان کی بیوی اور بیٹے فیملی کے ذریعے اگائی گئی معمولی فصل کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔
احمد نگر میں زیر زمین پانی کی ویسے ہی کمی ہے، اوپر سے اس کا زیادہ تر حصہ گنے کے کھیت چوس لیتے ہیں، جس کی وجہ سے اچھی بارش کے باوجود اس ضلع میں کئی بار قحط جیسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
گاؤوں میں مقامی ٹھیکہ دار، پوار اور پتھر توڑنے والے دیگر کاریگروں کو – جن میں سے زیادہ تر کھیتی چھوڑنے کے لیے مجبور کیے گئے کسان ہیں – مزدوری پر اٹھاتا ہے اور پھر انھیں اے ایس آئی کی نگرانی والے تاریخی مقامات پر مرمت کے کام کے لیے بھیج دیتا ہے۔ پوار اے ایس آئی کے متعدد پروجیکٹوں پر کام کر چکے ہیں، جیسے مہاراشٹر کی ایلفینٹا غاریں اور اترپردیش میں واقع جھانسی کا قلعہ۔
وَسئی قلعہ میں پتھر توڑنے والے کاریگروں کی روزانہ کی آمدنی ہے 600 روپے، یعنی تقریباً 15 ہزار روپے ماہانہ۔ اس میں سے وہ تقریباً آدھا پیسہ اپنے کھانے اور دواؤں جیسی ضروریات پر خرچ کر دیتے ہیں۔ باقی پیسہ وہ گھر بھیج دیتے ہیں۔
اس آمدنی کے لیے، وہ روزانہ آٹھ گھنٹے جی توڑ محنت کرتے ہیں، دوپہر میں کھانے کے لیے صرف ایک گھنٹہ کی چھٹی ملتی ہے۔ وہ پسینے والی دھوپ میں بھی ہتھوڑے چلاتے رہتے ہیں، اور پتھروں سے نکلنے والی دھول میں لگاتار کام کرنے کی وجہ سے ان کے ہاتھ اور پیر پھٹ جاتے ہیں۔ ’’پتھر توڑنا کوئی آسان کام نہیں ہے،‘‘ لکشمن شیتِبا ڈُکرے کہتے ہیں۔ ’’پتھر گرم ہیں، زمین گرم ہے، چلچلاتی دھوپ ہے۔‘‘