نوٹ بُک بند پڑے ہیں، کان کھلے ہیں۔ اور ہمارے معاملے میں، دل بھی۔ میں دہلی میں جنسی کارکنان (سیکس ورکرز) کے ایک گروپ کا انٹرویو لے رہی تھی۔ ان کی باتوں کو، میں اپنی سیاہ ڈائری میں لکھ رہی تھی۔ وبائی مرض کا دور تھا اور ہم تحفظاتی ضابطوں کی تعمیل کر رہے تھے، لیکن ایک ایسا لمحہ بھی آیا جب سبھی کے ماسک اُتر گئے۔ انہوں نے اپنے ماسک اس لیے اتارے، تاکہ اپنی زندگی کی تفصیلات بیان کر سکیں، اور میں نے اس لیے اُتارا تاکہ انہیں مجھ پر اعتماد ہو سکے – کہ میں اُن کی زندگی کی کہانی کے بارے میں سنجیدہ ہوں۔
میرا لکھنا، ہمارے درمیان پُل بھی بنا رہا تھا، وہیں ہمارے بیچ کی دوری کا اشارہ بھی تھا۔
جب ملاقات مکمل ہو گئی، تو میٹنگ کا انتظام کرنے والے رابطہ کار نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں اُن میں سے ایک عورت کو گھر چھوڑ سکتی ہوں۔ اُس نے اُس عورت سے ملواتے ہوئے بتایا کہ اس کا گھر آپ کے راستے میں ہی پڑتا ہے۔ اُس عورت کے نام کا ایک مطلب ’سرحد‘ تھا۔ ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے۔ وہ اُس گروپ میں موجود نہیں تھی، جس سے میں نے بات چیت کی تھی۔ لیکن ہم دونوں جیسے ہی کار میں بیٹھے، اپنے اپنے پس منظر کے دائرے کو پار کرکے باہر نکل آئے۔ اس نے مجھے اُن امکانی گاہکوں کے بارے میں بتایا جو بُکنگ سے پہلے سیکس ورکر کا چہرہ دیکھنا چاہتے ہیں، اور تفصیل سے بتایا کہ آج کے تکنیکی دور میں یہ نظام کیسے کام کرتا ہے۔ میں نے اس کے کام سے متعلق کچھ اندرونی معلومات جاننے کی خواہش ظاہر کی، اور وہ سب کچھ بتاتی چلی گئی۔ ہم نے محبت کے بارے میں بات کی۔ میں نے گاڑی کی رفتار دھیمی کر لی تھی۔ اس کی آنکھیں بہت خوبصورت تھیں، لیکن دل چکنا چور ہو چکا تھا۔
میرے ہاتھ اسٹیئرنگ پر تھے۔ میں اس بار کچھ لکھ نہیں رہی تھی۔ اس نے مجھے اپنے عاشق کی پرانی تصویریں دکھائیں، جو اب تک اس کے فون میں موجود تھیں۔ میں یہ سب اسٹوری میں نہیں ڈال سکتی تھی – احساس ہوا کہ ایسا کرنا غلط ہوگا۔ اور فحاشی بھی۔ اس لیے، میں نے صرف یہ لکھا…


