مرکزی حکومت کے ذریعے ستمبر میں پارلیمنٹ کے توسط سے قانون تھوپنے (جب کہ زراعت ریاستی موضوع ہے) کے خلاف کسانوں کے زبردست احتجاج نے ملک بھر کے شاعروں اور فنکاروں کو متاثر کیا ہے۔ یہ خوبصورت نظم پنجاب سے ہے، جو ایک چھوٹے کسان کی روزمرہ کی جدوجہد پر شاعر کی تکلیف کو بیان کرتی ہے۔ نظم سے متاثر خاکہ نگاری بنگلورو کی ایک بہت ہی نوجوان فنکار کی ہے۔


Amritsar, Punjab
|SUN, NOV 08, 2020
’قرض چُکانے کے لیے کچھ ایکڑ زمین‘
وبائی مرض اور لاک ڈاؤن کے باوجود، تین نئے زرعی قوانین کے خلاف ہزاروں کسانوں نے ۲۵ ستمبر سے پورے ہندوستان میں سڑکوں پر احتجاج کیا۔ یہ نظم ان کی جدوجہد کو بیان کرتی ہے
Author
Translator

ایک کسان کی داستان
جوتنا، بونا، اُگانا اور کاٹنا
انہی وعدوں پر میں قائم ہوں
جو کیا میں نے اپنے پیروں کے نیچے کی زمین سے
ایسی ہے میری زندگی...
جسم کے آخری سانس لینے تک
جس مٹی کو میں نے اپنے پیسنے سے سینچا
طوفانوں کو اپنے سینے پر برداشت کیا
کڑاکے کی سردی ہو یا شدید گرمی
میری روح کو پیچھے نہیں ہٹا سکی
ایسی ہے میری یہ زندگی....
جسم کے آخری سانس لینے تک
قدرت جو نہیں کر سکی، حاکم نے کیا
میری روح کا پُتلا لگایا
جیسے پرندوں کو ڈرانے کیلیے کھیت میں لگا پتلا
اس کی خوشی اور ہنسی مذاق کے لیے
ایسی ہے میری یہ زندگی....
جسم کے آخری سانس لینے تک
گزرے دنوں میں، پھیلے ہوئے تھے میرے کھیت
جہاں ہوتا تھا جنت اور زمین کا ملن
لیکن افسوس! اب میرے پاس بچی ہے
قرض چُکانے کے لیے کچھ ایکڑ زمین
ایسی ہے میری یہ زندگی....
میرے آخری سانس لینے تک
میری فصل سنہری، سفید اور ہری
لاتا ہوں بازار میں بے شمار امیدوں کے ساتھ
ٹوٹی امیدیں اور خالی ہاتھ
یہی ہیں میری زمینوں کے تحفے
ایسی ہے میری یہ زندگی.... جب تک موت متفق ہے
اس تکلیف سے مجھے باہر نکالنے کے لیے
چیختے، بھوکے، ان پڑھ بچے
بکھرے پڑے ہیں جن کے خواب
چھت کے نیچے، بس ملبہ
ٹوٹے ہوئے جسم، منتشر روح
ایسی ہے میری یہ زندگی.....
جسم کے آخری سانس لینے تک
چھن گئے تمام زیورات، جواہرات
خالی پیٹ، بے سہارا روح
لیکن پورے کرنے ہیں مجھے اپنے وعدے
مٹانے کے لیے بھوک اور لالچ
ایسی ہے میری یہ زندگی.....
جسم کے آخری سانس لینے تک
سنہری فصل جو میں کاٹوں
نہیں تیار لینے کو کوئی تاجر
قرض میں ڈوبا، تناؤ سے گھرا
مشکل سے دھڑکتا میرا دل
ایسی ہے میری یہ زندگی.....
جسم کے آخری سانس لینے تک
ہو سکتا ہے کوئی علاج؟
پھانسی ہو یا پھر انقلاب
ہنسیا اور درانتی نہیں رہے اوزار
لیکن بن گئے ہیں اب وہ ہتھیار
ایسی ہے میری یہ زندگی....
جسم کے آخری سانس لینے تک
امرتسر کے ایک آرکی ٹیکٹ، جینا سنگھ کے ذریعے پنجابی زبان میں لکھی گئی نظم کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا۔
خاکہ نگار انترا رمن، سرشٹی انسٹی ٹیوٹ آف آرٹ، ڈیزائن اینڈ ٹیکنالوجی، بنگلور سے وژوئل کمیونی کیشن میں حالیہ گریجویٹ ہیں۔ ان کی خاکہ نگاری پر تصوراتی فن اور بیانیہ کی تمام شکلوں کا گہرا اثر ہے۔
انگریزی میں آڈیو: سدھنوا دیش پانڈے، جن ناٹیہ منچ کے ایک اداکار اور ڈائرکٹر اور لیفٹ ورڈ بکس کے ایڈیٹر ہیں۔
مترجم: محمد قمر تبریز
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
Donate to PARI
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/قرض-چُکانے-کے-لیے-کچھ-ایکڑ-زمین

