دودھ سے بھرے پلاسٹک اور اور المونیم کے ڈبوں سے لدی، مشین سے چلنے والی دیسی کشتی روزانہ صبح کو برہم پتر ندی کے چلکورہ چار سے روانہ ہوتی ہے۔ یہ کشتی دھوبری شہر کے لیے دودھ لے جاتی ہے، جو مشکل سے ایک گھنٹہ کی دوری پر واقع ہے۔
آسام میں سیلابی عمل کی وجہ سے برہم پتر ندی کے ساتھ ساتھ بننے والے ریتیلے اور ناپائیدار جزیروں میں سے ایک چلکورہ چار بھی ہے (چار کے بارے میں پاری کی اسٹوریز پڑھیں، اس موضوع پر پہلی اسٹوری ہے جن کے گھر ریت پر ہوتے ہیں)۔ یہ کشتی دوپہر کو واپس لوٹتی ہے، اور دوپہر بعد مزید دودھ لے کر دھوبری جاتی ہے۔
یہ دودھ لوور آسام کے دھوبری ضلع کے چار پر واقع، منڈل فیملی کے ڈیئری فارم کا ہے، جہاں پر اس فیملی نے دودھ دینے والے ۵۰ مویشی رکھے ہوئے ہیں۔ یہاں روزانہ ۱۰۰ سے ۱۲۰ لیٹر دودھ نکلتا ہے۔ ’’جن دنوں میں ہماری گائیں اور بھینسیں سب سے زیادہ دودھ دینے کی مدت میں ہوتی ہیں، ان دنوں میں روزانہ ۱۸۰ سے ۲۰۰ لیٹر دودھ پیدا ہوتا ہے،‘‘ تین بچوں کے والد، ۴۳ سالہ تمیزالدین منڈل بتاتے ہیں۔ دھوبری شہر میں ہر ایک لیٹر کے انھیں ۴۰ روپے ملتے ہیں۔





