مغربی بنگال کے پرولیا کا بھانگڑ ڈیہہ، ریاست کے زیادہ روایتی سنتال گاؤوں میں سے ایک ہے۔ کانکنی ابھی اس علاقے تک نہیں پہنچی ہے، جس کی وجہ سے گاؤوں والوں کو آس پاس کے کھیتوں، جنگلات اور تالابوں تک رسائی حاصل ہے، اور وہ اپنے کھانے کا زیادہ تر اناج خود ہی اُگاتے ہیں۔
دن کی شروعات ہو چکی ہے، حالانکہ صبح کے کہرے میں سرخ رنگ کا سورج باہر نکلنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ نوجوان عورتیں اپنی جھونپڑیوں کے دروازے کھول دیتی ہیں، الٹی ٹوکریوں کو اپنے پیروں سے اٹھا کر ان میں بند مرغیوں اور ان کے بچوں کو باہر نکالتی ہیں، جہاں انہوں نے رات گزاری تھی۔ نومبر کے آخری دن چل رہے ہیں، اور گھر کے کام کاج سے فارغ ہو چکی عورتیں اب کھیتوں کی طرف نکل پڑی ہیں، جہاں وہ فصل کاٹنے میں مردوں کی مدد کریں گی۔ دیگر عورتیں جلدی سے بکریوں کو اندرونی کمرے سے نکال کر جھونپڑی کے سامنے کھونٹے سے باندھ دیتی ہیں اور ان کے چھوٹے بچوں کو ماں کے آس پاس ہی اچھل کود کرنے کے لیے آزاد چھوڑ تی ہیں، اور بھیڑوں اور بھینسوں کو بھی ان کے باڑے سے باہر نکالتی ہیں۔ اگر فیملی میں کوئی دادی یا دادا ہے، تو وہ اِن مویشیوں کو چرانے کے لیے گھاس کے میدانوں کی طرف لے جاتے ہیں۔
















