میری پیدائش بھیلوں کے وساوا خاندان میں نرمدا ضلع کے مہوپاڑہ گاؤں میں ہوئی تھی۔ میرا گاؤں مہاراشٹر کی سرحد (اُس وقت بامبے صوبہ کا حصہ) پر آباد اُن ۲۱ گاؤوں میں سے ایک تھا۔ مہا گجرات تحریک (۱۹۶۰-۱۹۵۶) کے بعد جب گجرات کا قیام زبان کی بنیاد پر ایک الگ ریاست کے طور پر ہوا، تو ہمارے اس گاؤں کو گجرات میں شامل کر لیا گیا تھا۔ اس لیے، میرے والدین مراٹھی جانتے اور بولتے تھے۔ تاپی اور نرمدا ندیوں کے درمیان کا علاقہ بھیل برادریوں کا گھر ہے، جو دیہوَلی بھیلی بولتے ہیں۔ تاپی کی دوسری طرف سے مہاراشٹر میں جلگاؤں تک لوگ، کسی نہ کسی شکل میں دیہولی بولتے ہیں اور ستپوڑا پہاڑیوں میں بسے گجرات کے مولگی اور دھاڑ گاؤں تک کے لوگ اس زبان کو بولتے ہیں۔ یہ گجرات اور مہاراشٹر کا ایک بڑا علاقہ ہے۔
میں دیہولی بھیلی میں لکھتا ہوں، اور جو لوگ ہمارے بارے میں زیادہ نہیں جانتے ہیں وہ اکثر ہماری برادریوں کے ذریعے ہماری زبانوں کی پہچان کرتے ہیں۔ لہٰذا، کبھی کبھی وہ کہتے ہیں کہ میں وساوی میں لکھتا ہوں، کیوں کہ میری فیملی وساوا خاندان کی ہے۔ گجرات کے آدیواسی جو زبانیں بولتے ہیں، یہ انہی میں سے ایک ہے۔ گجرات کے ڈانگ میں بھیل، وارلی بولتے ہیں۔ علاقے کے اصلی باشندے، بھیل یہاں کونکن سے آئے ہیں اور وہ بھیلی بولتے ہیں۔ ولساڑ میں وہ وارلی اور ڈھوڈیا بولتے ہیں۔ ویارا اور سورت میں گامِت بولتے ہیں؛ اُچھّل کی طرف چودھری؛ نیزار میں وہ ماوچی بولتے ہیں؛ نیزار اور ساگبارہ کے درمیان بھیل، دیہولی بولتے ہیں۔ اسی طرح، آمبوڈی، کتھالی وساوی، تڑوی، ڈونگرا بھیلی، راٹھوی، پنچ محلی بھیلی، ڈونگری گراسیا بولیاں ہیں…
ہر زبان میں چھپے خزانے کا تصور کیجئے، جیسے ایک بیج میں چھپا پورا جنگل۔ اُن میں ادب کا ذخیرہ، علم کے ذرائع، عالمی منظرنامے جھانکتے ہیں۔ میں اپنی تحریر کے ذریعے اس خزانے کو درج کرنے اور دنیا کے سامنے لانے کے لیے کوشاں ہوں۔


