باغبانی کے ماہر سائنسداں شنکرن کا کہنا ہے کہ آم کے بَور ۲۵-۲۰ ڈگری سیلسیس درجہ حرارت میں کھلتے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں، ’’فروری ۲۰۲۳ میں، دن اور رات کے درجہ حرارت میں بہت زیادہ فرق تھا۔ درخت اس لگاتار بدلتے درجہ حرارت کو برداشت نہیں کر سکتے۔‘‘
آم کی کھیتی کے لیے، لگاتار بگڑتے موسم کو دیکھ کر شری رام مورتی کو ۲۰۱۴ میں لیے گئے اپنے فیصلہ پر افسوس ہونے لگا ہے۔ اُس سال، انہوں نے اناکاپلی شہر کے پاس واقع ۹ء۰ ایکڑ زمین بیچ دی تھی اور اس سے ملے چھ لاکھ روپے کو آم کے باغ کے لیے پومولا بھیماورم میں پوٹّو بَڈی (سرمایہ کاری) کے طور پر خرچ کر دیا۔
اس فیصلہ کے بارے میں وہ کہتے ہیں، ’’ہر کسی کو آم پسند ہے اور بازار میں اس کی مانگ بھی ہے۔ مجھے امید تھی کہ آم کی کھیتی سے [آخرکار] میں اچھی کمائی کر پاؤں گا۔‘‘
حالانکہ، ان کا کہنا ہے کہ تب سے انہیں کوئی منافع نہیں ہوا ہے۔ شری رام مورتی کہتے ہیں، ’’سال ۲۰۱۴ اور ۲۰۲۲ کے درمیان، آم کی کھیتی سے میں [ان آٹھ برسوں میں] کل چھ لاکھ روپے سے زیادہ کی کمائی کر پایا۔‘‘ زمین بیچنے کے اپنے فیصلہ پر افسوس کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ’’میں نے جو زمین بیچی تھی، اس کی قیمت اب بہت زیادہ ہے۔ مجھے شاید آم کی کھیتی شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘‘
ہاں، اس بربادی کے لیے صرف موسم کی بے یقینی ذمہ دار نہیں ہے۔ آم کے درخت ساگو نیرو (سینچائی) پر منحصر ہیں، اور نہ تو ناگ راجو اور نہ ہی شری رام مورتی کے پاس کوئی بورویل ہے۔ سال ۲۰۱۸ میں، شری رام مورتی نے بورویل لگانے پر ڈھائی لاکھ روپے خرچ کیے، لیکن اس سے پانی کی ایک بوند بھی نہیں نکلی۔ ناگ راجو اور شری رام مورتی کے باغ جس بوچیہ پیٹا بلاک میں ہیں، وہاں آفیشل طور پر صرف ۳۵ بورویل اور ۳۰ کنویں ہیں۔
شری رام مورتی بتاتے ہیں کہ اگر درختوں کو لگاتار پانی ملے، تو بَور کے سوکھنے کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے، وہ ہفتے میں دو ٹینک پانی بھی خریدتے ہیں اور اس پر انہیں ہر مہینے ۱۰ ہزار روپے کا خرچ آتا ہے۔ شری رام مورتی کہتے ہیں، ’’ہر ایک درخت کو روزانہ کم از کم ایک لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن، میں انہیں ہفتہ میں صرف دو بار ہی پانی دے پاتا ہوں۔ میں اس سے زیادہ خرچ نہیں اٹھا پاؤں گا۔‘‘
آم کے درختوں کی سینچائی کے لیے، ناگ راجو ہفتہ میں پانی کے دو ٹینکر بلاتے ہیں اور ہر ایک ٹینک کے لیے وہ ۸ ہزار روپے ادا کرتے ہیں۔