(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

SANGUR, PUNJAB
|SAT, JUL 14, 2018
آدھار: نظام کی جیت، عوام کی شکست
پاری پر اسٹوریز کا سلسلہ کہ کیسے عوام کو راشن، معذوری پنشن، منریگا مزدوری، وظائف وغیرہ دینے سے صرف اس لیے منع کر دیا گیا، کیوں کہ یو آئی ڈی اے آئی نے ان کے ناموں کا اِملا غلط لکھ دیا تھا، ان کے بایومیٹرکس میل نہیں کھا رہے تھے، اور اسی قسم کی دوسری خرابیاں تھیں
Author
Translator
7. ووٹ کے لیے کافی، آدھار کے لیے نہیں
پاروتی دیوی کی انگلیاں کوڑھ کی وجہ سے خراب ہو چکی ہیں۔ لہٰذا لکھنؤ میں کوڑا چننے والی یہ – اور شاید اس مرض میں مبتلا ایسی ہی ہزاروں دیگر – آدھار کارڈ حاصل نہیں کر سکتیں، اور اس کے بغیر معذوری کا اپنا پنشن یا راشن حاصل نہیں کر سکتیں
6. فرضی راشن کارڈ یا غلط آدھار ڈاٹا؟
بے میل والے نمبر، غلط تصویریں، مٹے ہوئے نام، انگلیوں کے نشان میں خامیاں – آندھرا پردیش کے اننت پور ضلع میں اس قسم کے آدھار بھرے پڑے ہیں۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان بی پی ایل کارڈ والوں کو ہو رہا ہے جنہیں مہینوں سے راشن دینے سے منع کیا جا رہا ہے
5. آدھار نے لکشمی کا پیسہ لوٹ لیا
محنت سے کمائی ہوئی مزدوری نہ ملنے سے، آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم ضلع کے منریگا مزدوروں کو اب یہ پتہ چلنے لگا ہے کہ دولت کی دیوی کا نام رکھنے کے باوجود آپ آدھار کی خامیوں سے بچ نہیں سکتے
4. ’مجھے جو کچھ بھی ملتا تھا، وہ سب آدھار لے گیا‘
اتراکھنڈ کے پہاڑی علاقوں میں آدھار مراکز تک جانے میں لگنے والے بھاری کرایہ، ناموں کے غلط اندراج اور دیگر غلطیوں کے سبب، چمپاوت ضلع کی متعدد بیواؤں، معذوروں اور بزرگوں کو مہینوں سے ان کی پنشن نہیں ملی ہے
3. جب آدمی آپ کو پہچانتا ہے، مشین نہیں
بنگلورو کی جھگیوں میں رہنے والے بزرگ، تارکین وطن، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے، یہاں تک کہ بچے بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جن کی انگلیوں کے نشان میل نہ کھانے کی وجہ سے انھیں ان کا ماہانہ راشن دینے سے منع کر دیا جاتا ہے – اور آدھار کے خلاف ان کی لڑائی میں، جیت ہمیشہ آدھار کی ہی ہوتی ہے
2. اِندو اور آدھار – ڈرامہ کا دوسرا حصہ، منظر ۲
پاری کی اسٹوری جس میں بتایا گیا تھا کہ آدھار کی غلطیوں کی وجہ سے اننتاپور، آندھرا پردیش میں اسکول کے چھوٹے دلت اور مسلم بچوں کو کن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، اب اس کا مثبت اثر دیکھنے کو مل رہا ہے

آدھار (مالیاتی اور دیگر سبسڈیز، فوائد اور خدمات کی ٹارگیٹڈ ڈلیوری) قانون، ۲۰۱۶
آدھار قانون کا مقصد ہے ہندوستانی شہریوں کو انوکھا شناختی نمبر دے کر انھیں سبسڈیز، فوائد اور خدمات کی ’’مؤثر اور شفاف‘‘ ڈلیوری فراہم کرنا۔ یونیک آئڈنٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا (یو آئی ڈی اے آئی)، جسے اس قانون کے تحت قائم کیا گیا، کی ذمہ داری ہے آدھار نمبروں کے لیے ’اینرول‘ یا سائن اَپ کرنے میں لوگوں کی مدد کرنا، ان کی شناختی معلومات کی تصدیق کرنا، آدھار نمبر جاری کرنا، اور سرکاری یا پرائیویٹ اداروں کی درخواست پر افراد کے ذریعے فراہم کی گئی معلومات کی تصدیق کرنا
۲۶ مارچ، ۲۰۱۶ | وزارت قانون وانصاف، حکومت ہند
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
Donate to PARI
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/آدھار-نظام-کی-جیت،-عوام-کی-شکست







