موکامبیکا کے دادا نے جب انہیں یکش گان کی فنی پیشکش کے مختلف انداز کی نقل کرتے دیکھا، تو ’’وہ بہت ناراض ہوئے اور مجھے ڈانٹا۔‘‘ انہوں نے اس نوعمر لڑکی کو آگاہ کیا کہ ساحلی کرناٹک اور کیرالہ کے کاسرگوڑ میں رائج ڈرامے کی شکل والے اس مقامی رقص میں خواتین کو حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔
اب ۷۵ سال کی ہو چکیں موکامبیکا وارَم بَلّی بچپن سے ہی اُڈوپی ضلع کے اپنے گاؤں ماروی میں یکش گان کی پیشکش کی جانب متوجہ ہو گئی تھیں۔ رقص پر مبنی یہ ڈرامائی پیشکش وہاں اکثر شام سے صبح تک چلتی رہتی تھی۔ انہیں یاد ہے کہ انہیں دیکھنے کے لیے عورتوں، کنبوں اور پڑوسیوں کی بڑی جماعت کے ساتھ پیدل چل کر کافی دور جانا پڑتا تھا۔ اگلے دن وہ اپنے گھر کے سامنے، آنگن میں دوستوں کو جمع کرتیں اور ’پرسنگ‘ (ڈرامہ) کے لیے چادر یا تولیہ کو پوشاک کے طور پر استعمال کر کے رقص کے مختلف انداز کی نقل کیا کرتی تھیں۔
وہ بتاتی ہیں، ’’ہم گھر کے سامنے والے آنگن میں ڈرامے کھیلا کرتے تھے، مگر صرف تبھی جب میرے دادا آس پاس نہیں ہوتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ یکش گان لڑکیوں کے لیے نہیں ہے۔‘‘
یکش گان کا لفظی معنی ہے ’دیوتاؤں کے گیت‘ اور صدیوں سے ساحلی کرناٹک اور کیرالہ کے کاسرگوڑ ضلع میں اسے پیش کیا جاتا رہا ہے۔ یہ پیشکش دیو مالائی کہانیوں اور رامائن مہابھارت جیسے رزمیوں کو موسیقی، رقص، مکالموں اور بیانیوں کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ یکش گان میلوں کو اکثر اس علاقہ کے بڑے مندروں کی سرپرستی حاصل تھی۔
یہ جسمانی طور پر فن کی ایک طاقتور شکل ہے، جسے مقامی سطح پر ’گنڈو کلے‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے ’مردوں کے لیے فن کی ایک شکل‘۔ اس رقص میں اونچی چھلانگ اور گھماؤ کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لیے چستی اور تندرستی چاہیے، جسے عام طور پر مردوں کا میدان مانا جاتا ہے۔ خواتین کرداروں کا رول ادا کرنے کے لیے بھی مرد ہی ہوتے تھے۔
تجربہ کار یکش گان فنکار اور یکش گان اکیڈمی کے سابق صدر، ایم ایل سمگا کہتے ہیں، ’’ناظرین ڈراموں اور کہانیوں کے بارے میں پہلے سے ہی جانتے ہیں۔ مگر ہر پیشکش کے ساتھ وہ اسے ایک نئے نظریہ سے دیکھتے ہیں اور ہر بار اُس تجربہ کو پھر سے جیتے ہیں۔ انہیں جو چیز متوجہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ کوئی اداکار کسی کردار کو مختلف طریقے سے کیسے ادا کرتا ہے۔‘‘














