سونو کمار راوت اور ان کی فیملی کو آنند وہار ریلوے اسٹیشن پر آخرکار ایک پرسکون جگہ مل گئی ہے، حالانکہ یہاں پر لوگوں کی اس وقت بہت زیادہ بھیڑ ہے۔ ان کے اردگرد مسافر، خوانچہ فروش اور ٹرینیں آ جا رہی ہیں۔ سونو (۲۷) اپنے سامان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی بیوی ستارہ خاتون اپنے شیر خوار بچے کو گود میں لیے ہوئی ہیں۔ مگر ابھی دوپہر کے دو ہی بجے ہیں۔ انہیں اپنے گھر بہار جانے کے لیے لچھوی ایکسپریس ٹرین پکڑنی ہے، جو یہاں سے چار گھنٹے بعد چلے گی۔ تب تک انہیں اسی پرہجوم پلیٹ فارم پر اس گھٹن بھری گرمی میں انتظار کرنا ہوگا۔
سونو ایک راج مستری ہیں، جب کہ ستارہ تعمیراتی مقامات پر کام کرتی ہیں۔ دونوں ہر صبح غازی آباد کی لیبر منڈیوں میں قطار لگاتے ہیں، تاکہ کوئی کام مل سکے۔ سونو بتاتے ہیں کہ گزشتہ ہفتے ’’ہم نے پورا پورا دن لیبر چوک پر گزارا، لیکن دو یا تین دن تک ہمیں کوئی کام نہیں ملا۔‘‘
امریکہ اور اسرائیل کے ذریعہ ایران پر حملہ اور اس کے بعد آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے نتیجہ میں ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کے بعد راوت فیملی کے لیے دہلی میں رہنا معاشی طور پر ناممکن ہو گیا ہے۔
سونو کہتے ہیں، ’’پہلے ہم گیس سلنڈر پر ۱۲۰۰ روپے، مکان کے کرایے پر ۲۵۰۰ روپے اور بجلی پر ۵۰۰ روپے خرچ کرتے تھے۔ یعنی کھانے کے علاوہ ہر مہینے ۴۰۰۰ سے ۵۰۰۰ روپے خرچ ہو جاتے تھے۔‘‘ بنیادی ضروریات پوری نہ ہو سکنے کی وجہ سے اب ان کے پاس اپنے گاؤں واپس جانے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا ہے۔
لیکن ان کی واپسی شدید بے چینی سے بھری ہوئی ہے – یہ بین المذاہب جوڑا گھر سے بھاگ کر شادی کر کے آیا تھا۔ وہ ایک سال سے بھی کم عرصہ پہلے شناخت چھپانے اور کام کی تلاش میں دارالحکومت آئے تھے۔ اب انہیں واپس جانا پڑ رہا ہے۔ وہ ستارہ کے آبائی علاقہ، سیوان ضلع کے میرواں قصبہ جانے کی کوشش کریں گے، اس امید کے ساتھ کہ وہاں ان کا استقبال قدرے نرمی کے ساتھ ہوگا۔
دہلی میں یہ فیملی کنونی گاؤں کی ایک کچی بستی میں ایک کمرہ میں رہتی ہے۔ سونو مزید کہتے ہیں، ’’ہمیں مہینہ میں شاید ۲۰ دن کام ملتا ہے۔ اچھے مہینہ میں ہم میں سے ہر ایک ۱۰ ہزار [روپے] کما لیتا ہے۔‘‘ وہ افسوس کے ساتھ بتاتے ہیں کہ کس طرح ایل پی جی کے بحران نے ان کے محتاط گھریلو بجٹ کو درہم برہم کر دیا ہے۔






