کھومنیا کو بطور سرپنچ منتخب ہوئے دو سال سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے، لیکن گاؤں کے زیادہ تر لوگ یہ نہیں جانتے کہ وہ سرپنچ ہیں۔ اس ضروری عہدہ پر منتخب ہونے کے باوجود، پنچایت بھی ان کی اندیکھی کرتی ہے۔
’’ہمیں نہ کوؤ بولات، نہ کچھو بتات، نہ ہم جات [نہ کوئی ہمیں پنچایت میں بلاتا ہے، نہ کچھ بتاتا ہے، نہ ہم جاتے ہیں]،‘‘ اپنے کچے مکان کے سامنے کھڑی کھومنیا آدیواسی کہتی ہیں۔ وہ ہم سے گفتگو کے دوران گھبرائی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ان کے ۶۵ سالہ شوہر نتھو پردھان ہر بات کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ، پنچایت سے جڑے سوالوں کے جواب نتھو کے پاس بھی نہیں ہیں۔
کھومنیا بتاتی ہیں، ’’سب ان کو [نتھو آدیواسی کو] ہی سرپنچ سمجھتے ہیں۔‘‘
جن پنچایتی انتخابات میں کھومنیا منتخب ہوئیں وہ آئین کے (۷۳ویں ترمیمی) قانون، ۱۹۹۲ کے تحت کرائے گئے ہیں، جس میں پنچایتی راج (مقامی سیلف گورننس) میں ’’آبادی کے تناسب میں درج فہرست ذات (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے لیے سیٹیں محفوظ رکھی گئیں۔ کل محفوظ سیٹوں میں سے ایک تہائی سیٹیں ایس سی اور ایس ٹی برادری کی خواتین کے لیے محفوظ تھیں۔ انتخابات کی کل سیٹوں میں سے بھی خواتین کے لیے ایک تہائی سیٹیں محفوظ رکھی گئی تھیں۔‘‘
سال ۲۰۲۲ میں، مدھیہ پردیش میں ۴۵۵ خواتین سرپنچ بلا مقابلہ منتخب کی گئیں، جن میں سے تقریباً ۶۴ فیصد کا تعلق دلت اور آدیواسی برادریوں سے تھا۔
اس سال پنچایتی انتخابات میں مدھیہ پردیش کے شیو پوری ضلع میں واقع اس گاؤں میں بھی سرپنچ کی سیٹ درج فہرست قبائل کے لیے محفوظ تھی، اور سہریا آدیواسی برادری سے تعلق رکھنے والی کھومنیا کو یہاں سے منتخب کیا گیا۔ کفار گاؤں کی آبادی ۱۹۳۵ (مردم شماری ۲۰۱۱) ہے اور سہریا آدیواسیوں کی تعداد تقریباً ۲۰۰ ہے۔
حالانکہ، میاں بیوی کو اس بات کا احساس ہے کہ ان کے نام سے سیل سائن (ربر اسٹامپ) کوئی دوسرا کر رہا ہے، لیکن مبینہ اونچی ذات کے لوگوں کے سامنے وہ اپنے حق اور برابری کی بات نہیں کہہ پاتے ہیں۔ ’’ہم چھوٹے لوگوں کو کون پوچھتا ہے؟‘‘ وہ رپورٹر سے سوال کرتی ہیں۔