لاجو دیوی تجسس بھری نگاہوں سے اس ڈائری کو دیکھ رہی ہیں جس میں یہ رپورٹر تفصیلات نوٹ کر رہا ہے۔ چند منٹوں میں ان کا تجسس خوف میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
’’ای سب لکھ کے تھنوا میں دیبہو کا [کیا آپ یہ سب لکھ کر تھانے میں دینے جا رہے ہیں]؟‘‘ وہ مگہی میں پوچھتی ہیں۔ مگہی بہار کے مگدھ علاقہ کی ایک بولی ہے۔ وہ بتا رہی ہیں کہ کس طرح ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ مہوا (مدھوکا لانگیفولیا قسم لاٹیفولیا) کے پھولوں سے بنائی گئی شراب ان کی زندگی کا سہارا بنی ہے۔
اگرچہ شروعات میں وہ شراب کی بات کو تسلیم کرنے سے گریزاں تھیں، لیکن ان کے کچے مکان کے ایک کونے میں دو کنستروں میں رکھےآٹھ کلو سڑے ہوئےگڑ ان کا راز فاش کر دیتے ہیں۔ اس رپورٹر کی نگاہیں کنستروں پر جمی دیکھ کرانہوں نے فوراً انہیں سیاہ پولی تھین کی چادروں سے ڈھانپ لیا۔ ’’میں اسے (شراب) صرف ہولی کے دوران فروخت کرنے کے لیے بنا رہی ہوں،‘‘ وہ جلدی جلدی وضاحت کرتی ہیں۔
گھر میں شراب کشید کرنے سے متعلق لاجو دیوی کا خوف اور پریشانی درست ہے۔ بہار پروہیبیشن اینڈ ایکسائز ایکٹ، ۲۰۱۶ شراب، جس میں مہوا سے بنی شراب شامل ہے، یا نشہ آور اشیاء کی تیاری، انہیں اپنی تحویل میں رکھنے، تقسیم یا استعمال کرنے پر پابندی عائد کرتا ہے۔ خلاف ورزی کی سزا قید، جو عمر قید تک بڑھ سکتی ہے، کے علاوہ ایک سے ۱۰ لاکھ روپے تک جرمانہ بھی ہے۔






