جسپال، رمن دیپ اور ان کی سہیلیاں ایک آواز میں اپنے کوچ سے شکایت کرتی ہیں، ’’ایہہ کسی ہور نوں جیتا رہے نے، ساڈے اگّے کوئی ہور کوڑی نہیں سی [یہ کسی اور کو جیتنے میں مدد کر رہے ہیں، ہم سے آگے دوسری کوئی لڑکی نہیں تھی]۔‘‘ امرتسر سے آئیں تقریباً درجن بھر ایتھلیٹ، جو میراتھن میں حصہ لینے کے لیے ۲۰۰ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے چنڈی گڑھ آئی تھیں، صاف طور پر غصے میں دکھائی دے رہی تھیں، جب کہ سامنے اسٹیج سے ۵ کلومیٹر کی اس دوڑ میں دوسرا انعام حاصل کرنے والی جسپال کور کے نام کا اعلان کیا جا رہا تھا۔ وہ جانتی تھیں کہ جسپال دوڑ ختم ہونے تک سب سے آگے تھیں، پھر بھی ۵۰۰۰ روپے کے پہلے نقد انعام کا اعلان کسی اور کے لیے کیا گیا۔
جسپال نے اسٹیج پر جا کر دوسرے مقام کا انعام لینے سے انکار کر دیا۔ اس کی بجائے وہ اور ان کے کوچ اسٹیج اور اسٹیج سے باہر کھڑے ہر شخص کے پاس گئے، منتظمین کے فیصلے پر سوال اٹھایا اور ان سے اپنی بات کہی۔ انہوں نے ان سے ویڈیو فوٹیج کی مدد سے صحیح فاتح کا پتہ لگانے اور ناانصافی ختم کرنے کی درخواست کی۔ آخر میں اپنے کوچ کے کہنے پر جسپال نے دوسرے مقام والا انعام قبول کر لیا، جو فوم بورڈ کا بنا ہوا ایک بڑا سا چیک تھا جس پر ۳۱۰۰ روپے کی رقم لکھی ہوئی تھی۔
ایک مہینہ کے بعد، اپریل ۲۰۲۳ میں وہ اس وقت حیران رہ گئیں جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے اکاؤنٹ میں ۵۰۰۰ روپے جمع کیے گئے ہیں۔ حالانکہ، جسپال کو اس بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا گیا، اور کسی مقامی اخبار میں اس کی اطلاع بھی نہیں دی گئی تھی۔ رنی جین کے نتائج کی ویب سائٹ پر ۵ کلومیٹر کی دوڑ کے فاتح کے طور پر ان کا نام دکھائی دیتا ہے، جنہوں نے اپنی دوڑ ۰۷ء۲۳ منٹ میں مکمل کی۔ وہ اس سال کی انعامی تقسیم کی تقریب کی تصویر میں نظر نہیں آتی ہیں۔ لیکن جسپال کے پاس اپنے کئی میڈلز کے ساتھ وہ بڑا سا چیک اب بھی پڑا ہوا ہے۔
سال ۲۰۲۴ میں، اگلے میراتھن میں لڑکیوں کے ساتھ جاتے وقت اس رپورٹر کو منتظمین سے پتہ چلا کہ انہوں نے ویڈیو کی فوٹیج کی جانچ کرنے کے بعد اس سال کی دوڑ میں جسپال کی مد مقابل کو نااہل قرار دے دیا تھا۔ انہیں پتہ چل گیا تھا کہ لڑکیاں صحیح کہہ رہی تھیں۔ مقابلہ کے دوران نمبر ٹیگ کے ساتھ کچھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔ یہ بات معلوم ہونے پر سمجھ میں آیا کہ کیوں جسپال کو پہلی فاتح کے انعام کی رقم بھیجی گئی تھی۔
جسپال کے لیے نقد انعام بہت ضروری ہیں۔ اگر انہوں نے مناسب پیسے بچا لیے، تو وہ دوبارہ کالج جا سکیں گی۔ دو سال پہلے، جسپال نے ایک پرائیویٹ یونیورسٹی سے آن لائن بی اے (آرٹس) میں داخلہ لیا تھا۔ وہ بتاتی ہیں، ’’لیکن میں اب تک ایک سیمسٹر سے آگے نہیں بڑھ پائی ہوں۔ مجھے امتحان میں بیٹھنے کے لیے ہر سیمسٹر میں تقریباً ۱۵ ہزار روپے جمع کرنے پڑتے ہیں۔ پہلے سیمسٹر میں، میں نے نقد انعام [گاؤں کے نمائندوں اور اسکول نے قومی سطح پر مقابلہ جیتنے پر جو نقد انعام دیے تھے] سے ملے پیسے کا استعمال فیس بھرنے کے لیے کیا۔ لیکن اس کے بعد دوسرا سیمسٹر پورا نہیں کر پائی، کیوں کہ میرے پاس پیسے نہیں تھے۔‘‘
جسپال (۲۲) اپنی فیملی میں کالج جانے والی پہلی نسل ہیں اور اپنے گاؤں میں مذہبی سکھ برادری کی ان چند خواتین میں سے ایک ہیں، جو کالج کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ مذہبی سکھ برادری پنجاب کی درج فہرست ذاتوں میں سب سے زیادہ حاشیہ پر ہیں۔ جسپال کی ماں، بلجندر کور (۴۷) نے پانچویں تک کی تعلیم حاصل کی ہے، وہیں ان کے والد بلکار سنگھ (۵۰) کبھی اسکول ہی نہیں جا پائے۔ ان کے بڑے بھائی امرت پال سنگھ (۲۴) کو بارہویں کے بعد اپنی تعلیم چھوڑنی پڑی تھی، تاکہ وہ اپنے والد کے کام میں ہاتھ بٹا سکیں۔ وہ فی الحال اپنے گاؤں کوہالی میں تعمیراتی مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں۔ جسپال کے چھوٹے بھائی آکاش دیپ سنگھ (۱۷) نے ۱۲ویں جماعت تک کی تعلیم مکمل کر لی ہے۔


















