سنکیت لوکھنڈے اداس لہجہ میں کہتے ہیں، ’’ریاستی بورڈ کے ۱۲ویں جماعت کے میرے امتحانات ختم چکے تھے۔ آرٹس اسٹریم کے نتائج جون میں آنے والے تھے۔ مجھے بالکل نہیں معلوم تھا کہ اس کے بعد کیا ہوگا، لیکن میں کالج جانا چاہتا تھا، ڈگری حاصل کرنا چاہتا تھا۔‘‘ یہ۲۰۲۱ کا سال تھا۔ وہ کسی بھی دوسرے ۱۸ سالہ طالب علم کی طرح جوش و ولولہ سے بھرے ہوئے تھے۔ اب بات کرتے ہوئے بھی ان کے لہجہ سے تھکان ظاہر ہو جاتی ہے۔ اپنے گھٹنوں پر کہنیاں ٹکائے جب وہ صحن میں بچھی ہوئی چارپی پر بیٹھتے ہیں، تو ان کے جسم کی تھکن صاف دکھائی دینے لگتی ہے۔ اس ہفتہ کی ڈائیلاسس ہوئے چار دن ہو چکے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں، ’’بورڈ کے امتحانات کے چند ہفتوں بعد ہی سانس لینے میں دشواری ہونے لگی تھی۔ محض چند قدم چلنے کے بعد ہی میں بالکل نڈھال ہو جاتا تھا۔‘‘ ان کے والدین بہتر علاج کی امید میں انہیں اپنے گاؤں نِمگاؤں بھوگی سے تقریباً ۶۴ کلومیٹر دور اہلیہ نگر (سابقہ احمد نگر) کے ایک نجی ہسپتال میں لے گئے۔ لیکن جب تک سنکیت کے امتحانات کا نتیجہ آتا، ان کے گردے مکمل طور پر ناکارہ ہو چکے تھے اور وہ اپنے گھر تک محدود ہو کر رہ گئے تھے۔
سنکیت کی والدہ منیشا (۴۷) بتاتی ہیں، ’’ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ہم جو پانی پیتے ہیں، ہو سکتا ہے وہی اس (بیماری) کا سبب ہو۔ ہم سب جھیل کا پانی پیا کرتے تھے، جو یقینی طور پر آلودہ ہو چکا تھا۔ ہمیں اس بات کا اس وقت تک احساس ہی نہیں ہوا جب تک کہ ہمارا بیٹا بیمار نہیں پڑ گیا۔‘‘
وہ پاجھر تالاو کا حوالہ دے رہی ہیں۔ یہ تالاب ایک تراوش ٹینک یا پانی جمع کرنے کا مٹی کا ایک مصنوعی ڈھانچہ ہے، جسے نصف صدی قبل پانی کی قدرتی نکاسی کے نالے پر بنایا گیا تھا۔ گاؤں کے ۳۳۰ کنبے اپنی گھریلو اور زرعی ضروریات کے لیے اس جھیل پر انحصار کرتے ہیں۔ لیکن گزشتہ ۱۲ سے ۱۵ سالوں میں پورے گاؤں میں کینسر اور گردے کی خرابی کے معاملات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
منیشا کہتی ہیں، ’’طویل عرصے تک آلودہ پانی پینے سے گردوں کو نقصان پہنچتا ہے، ڈاکٹروں نے ہمیں خبردار کیا تھا۔ ہمارے گاؤں میں بہت سے لوگ گردے کی خرابی کا شکار ہیں۔‘‘ اپنی رپورٹنگ کے صرف ایک سفر کے دوران میری ملاقات تقریباً پانچ ایسے کنبوں سے ہوئی، جن میں کم از کم ایک شخص ڈائیلاسس پر ہے۔






















