’’اب ہم ان کے کھیتوں میں داخل نہیں ہوتے ہیں۔ ہم اپنا اناج اور اپنے جانوروں کا چارہ خود اگاتے ہیں۔ جہاں تک آپ کی نظر جاتی ہے وہ زمین ہماری ہے،‘‘ پھیلے ہوئے ہاتھ کے ساتھ راجندر کور تقریباً ۱۲۵ ایکڑ کے ایک وسیع قطعہ زمین کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جسے اس گاؤں کے دلتوں نے آزادی کے ۶۷ سال بعد ۲۰۱۴ میں یہاں کی طاقتور ذاتوں سے دوبارہ حاصل کیا تھا۔
بَلَد کلاں گاؤں کی تقریباً ہر بے زمین دلت عورت کے پاس سنانے کے لیے ایسی ایک کہانی ضرور ہوتی ہے، جب اونچی ذات کے مردوں نے ان کے کھیتوں میں قدم رکھنے پر ’ان کی حیثیت بتائی تھی‘۔ اگرچہ انہیں جن ذلتوں کا سامنا کرنا پڑا وہ اب بھی یاد ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان کی عظیم جدوجہد نے ان سب کو قصہ پارینہ بنا دیا ہے۔
دلت تحریک نے پنچایت کی زمینوں کے ایک تہائی حصے پر اپنا حق واپس لینے کے لیے بھرپور جدوجہد کی ہے۔ یہ حق پنجاب ولیج کامن لینڈز (ریگولیشن) ایکٹ، ۱۹۶۱ کے تحت دیا گیا ہے۔ ان کی جدوجہد کی وجہ سے ۲۰۱۴ سے اب تک جنوبی پنجاب کے ۱۶۲ گاؤوں میں۲۰ ہزار بیگھہ (تقریباً ۴۲۱۰ ایکڑ) زمین کی بازیافت ہوئی ہے۔ اور اب دلت ایک بار پھر اپنی مزاحمت کی توسیع کر رہے ہیں۔ وہ طاقتور ذاتوں کے زیر قبضہ ان زمینوں پر دعویٰ کر رہے ہیں جو لینڈ سیلنگ ایکٹ، ۱۹۷۲ میں طے شدہ حدود سے زیادہ ہیں۔
بلد کلاں، سنگرور اور پٹیالہ کے درمیان نیشنل ہائی وے ۷ پر واقع ہے۔ یہ وہ مقام ہے، جہاں اس تحریک کو اپنے سب سے فیصلہ کن لمحے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آج راجندر کور جیسی عورتیں خوشی خوشی اور کھل کر بات کرتی ہیں کہ کس طرح اُن کی اجتماعی جدوجہد نے حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کیں۔ بلد کلاں میں انصاف کی لڑائی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ گاؤں کی سرحد پر وہ یادگاریں موجود ہیں جو ایک منصفانہ سماج کے خواب کے لیے لڑتے ہوئے شہید ہونے والوں کے نام پر بنی ہیں، اور اُس مزاحمت کی تاریخ کی خاموش گواہی دیتی ہیں۔













