گوداوری مَراوی کہتی ہیں، ’’چند سال قبل اگر ہم گاؤں میں تالاب کھودنے یا کسی اور مسئلے پر گرام سبھا میں بات کرنا چاہتے تھے، تو ہم خواتین کو سرپنچ یا گاؤں کی کونسل کے ادھیکش [صدر] کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔‘‘
اس کے بعد سے حالات میں کافی حد تک تبدیلی آئی ہے۔ لیکن یہ تبدیلی ان خواتین کی ہمت اور استقامت کی وجہ سے آئی ہے، جن سے پاری نے جولائی۲۰۲۴ میں برسات کے موسم میں ایک دن مدھیہ پردیش کے برگا گاؤں میں ملاقات کی تھی۔
گوداوری اور کلی طور پر خواتین ممبران پر مشتمل ہلچلیت مہیلا کسان ویمن پروڈیوسر کمپنی لمیٹڈ (ایچ ایم کے ڈبلو پی سی) کی چھ دیگراراکین یہاں صبح صبح پہنچی تھیں۔ انہیں ٹین کی چھت اور دیواروں والے ایک بڑے شیڈ نما گودام میں بنے دفتر میں بیٹھایا گیا تھا۔ یہ جگہ ڈنڈوری ضلع کے سمناپور بلاک میں واقع ہے۔ گودام کے داخلی دروازہ کی ایک جانب ایک کرسی رکھی ہے اور وہیں ایک میز بھی ہے جس پر کمپوٹر رکھا ہوا ہے، چند الماریاں ہیں اور ایک ایئر کولر بھی موجود ہے۔ یہ چیزیں بتاتی ہیں کہ یہاں کوئی دفتر ہے۔
پروڈیوسر کمپنی کا نام خواتین کی بطور کسان اپنی فخریہ شناخت سے وجود میں آیا۔ چونکہ ہل چلانا روایتی طور پر مردوں کا کام سمجھا جاتا ہے، اس لیے انہوں نے خود کو ہل چلانے (ہل چلت) والی خواتین کے طور پر ظاہر کر کے اس عقیدہ کو چیلنج کیا۔ اس طرح ہلچلیت مہیلا کسان ویمن پروڈیوسر کمپنی وجود میں آئی۔ آج ان کی ۱۴۰۰ رجسٹرڈ اراکین ہیں جو کمپنی کی شیئر ہولڈر بھی ہیں۔
کمیٹی کی دو اراکین، ۴۴ سالہ گوداوری مراوی اور ۴۷ سالہ دیوکی واگلے، برگا گاؤں (جسے برگا ولیج بھی کہا جاتا ہے) میں رہتی ہیں اور پیدل چل کر دفتر آئی ہیں۔ دیگر خواتین نے سمناپور بلاک میں واقع اپنے گھروں سے آٹو رکشہ کے ذریعہ یہاں تک کا سفر کیا ہے، یا اپنی فیملی کے کسی فرد کے ساتھ موٹرسائیکل پر سوار ہوکر آئی ہیں۔
گوداوری مراوی اب چیئرپرسن ہیں۔ وہ ہمیں یہ بتاتے ہوئے اپنی بات شروع کرتی ہیں کہ روایتی طور پر یہاں کے کسانوں نے کیمیکل ان پٹ کا استعمال نہیں کیا ہے، لیکن۲۰۱۰ کے بعد سے آہستہ آہستہ زراعت میں کیمیائی کھادوں اور کیڑے مار ادویات کا استعمال معمول بنتا گیا۔ تاہم ۲۰۲۲ سے ڈنڈوری ضلع میں بہت سے کسان نامیاتی یا قدرتی کاشتکاری، یا دونوں کے امتزاج کو اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ غیرکیمیائی زراعت کو فروغ دینے کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی طرف سے ان کی حمایت اور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
’’ہم کسانوں کو نامیاتی بیج فراہم کرتے ہیں۔ جب کھیت کو گھاس، خس و خاشاک اور کھر پتوار کے ساتھ جوتا جاتا ہے، تو یہ مٹی میں مل جاتے ہیں اور اولین قدرتی کھاد بنتے ہیں،‘‘ گوداوری ہمیں بتاتی ہیں۔


