بیڑی کا کش لگاتے ہوئے فرید آباد کے مانگر گاؤں کی گوجر برادری کے چرواہے رتن سنگھ اپنی بکریوں پر نظر رکھ رہے ہیں۔ اراولی کی چڑھائی چڑھ کر گھاس والی زمین پر پہنچتے ہی وہ انہیں پانی پلانے کے ارادے سے آواز لگاتے ہیں۔ ’’ٹر، ٹر،‘‘ کی تیز اور بار بار آواز کے ساتھ وہ بلاتے ہیں، اور ان کی ۴۵ بکریاں اکٹھا ہونے لگتی ہیں۔
’’ہر پکار کی آواز، سُر اور لے الگ ہوتی ہے، اور ہر ایک آواز کا مطلب الگ ہوتا ہے۔ ریوڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے ایسی درجنوں آوازیں ہوتی ہیں،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔
’’آو، آو‘‘ – ایسی نرم آواز سے چرواہے بکریوں کو اپنے پاس بلاتے ہیں۔ پھر ’’لے لے لے‘‘ کرتے ہیں، جو بکریوں کے نمک کھانے کا وقت بتانے والی خاص آواز ہے۔
’’آولے، آولے – اونہہ اونہہ‘‘ یہ دوہرے مطلب والی آواز ہے: ریوڑ کو یہ یقین دلانا کہ چرواہا ان کے قریب ہی ہے، اور امکانی شکاریوں کو آگاہ کرنا کہ ریوڑ تنہا نہیں ہے۔
رتن سنگھ (۶۵) سُر اور تال کے معمولی فرق کو سمجھاتے ہوئے ہر ایک آواز کو ادا کر کے سمجھاتے اور دکھاتے ہیں، اور ساتھ ہی یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ آوازیں کیسے چرواہے اور ریوڑ کے درمیان موجود پرانے رشتے کو برقرار رکھتی ہیں۔
لمبے اور ہلکے بدن کے مالک رتن سنگھ کرتا پائجامہ اور پگڑی پہنتے ہیں۔ ان کے چمڑے کے جوتے وزنی ہیں اور وہ پہاڑیوں کی نکیلی چٹانوں اور کانٹوں پر چلنے کے لیے موزوں ہیں۔
رتن سنگھ کا تعلق دہلی و ہریانہ سرحد پر واقع اراولی سلسلہ کوہ میں آباد مانگر گاؤں سے ہے، جو اپنے بیش بہا حیاتیاتی تنوع کے لیے مشہور ہے۔

















