جب ہم نے ان سے ان کا نام پوچھا تو انہوں نے تمل میں جواب دیا، ’ویندا‘۔ چند لمحوں کی الجھن کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ یہ واقعی ان کا نام ہے، اور وہ جواب دینے سے انکار نہیں کر رہی تھیں۔ تمل زبان میں لفظ ’ویندا’، جو ’ویندم‘ کا مخفف ہے، کا مطلب ہے ’نہیں چاہیے / ناپسندیدہ‘۔
این ویندم کی عمر ۳۹ سال ہے اور وہ نرسِمّن اور آنجہانی راجمّل کی بیٹی ہیں۔ وہ اپنے ماں باپ کی پانچویں اولاد ہیں اور ایک ایسی ماں کے ہاں پیدا ہوئیں جو بار بار حمل کی وجہ سے کمزور ہو چکی تھیں – ان کے بطن سے تین لڑکے اور دو لڑکیاں پہلے ہی پیدا ہو چکے تھے۔ ان کے والدین نے ان کا نام ’ویندا‘ اس دعا کے طور پر رکھا تھا کہ اب مزید بچے پیدا نہ ہوں۔ آدھار کارڈ پر ان کا نام ’ویندم‘ درج ہے۔
کئی سال پہلے کی ایک گفتگو میں، جب راجمّل زندہ تھیں، انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ اگر لڑکا پیدا ہوا ہوتا تو اس کا نام ’ویندا‘ ہرگز نہیں رکھا جاتا۔ لیکن چونکہ ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی، اس لیے اس کا مستقبل پیدائش کے سرٹیفکیٹ کے ساتھ ہی طے ہو گیا۔
تاہم، آنجہانی راجمّل نے افسوس کا اظہار بھی کیا تھا: ’’اگر ہم نے تمہیں کوئی اچھا اور بابرکت نام دیا ہوتا، اور بار بار ’ویندا ویندا‘ نہ کہا ہوتا تو شاید تمہاری زندگی زیادہ خوش قسمت ہوتی،‘‘ انہوں نے اپنی بیٹی سے کہا تھا۔
ویندا کا اندازہ ہے کہ تمل ناڈو کے تیرو ولّور ضلع میں واقع ان کے گاؤں، مدّور میں کم از کم ۱۰ اور خواتین ایسی ہیں جن کا نام ویندا ہے۔ وہ پاری کو بتاتی ہیں، ’’یہ نام ہمارے سماج میں اور تیرُتّانی بلاک کے آس پاس کے کئی گاؤوں میں عام ہوا کرتا تھا۔‘‘





