وایناڈ کی ڈھلانوں پر، جہاں سرسبز وادیوں میں بہت نیچے تک کہرا چھایا رہتا ہے اور پانی کے چشمے مکھریلی یا لیٹرائٹ پہاڑیوں سے گزرتے ہوئے میٹھی آوازیں پیدا کرتے ہیں، ایک مٹی کا گھر وقت کے مخالف مضبوطی سے کھڑا ہے۔ اس کی کچّی دیواریں گرمیوں میں گویا ٹھنڈی ہوا سے بھری سانسیں لیتی ہیں، بانس کے شہتیر ہوا میں ہلکے سے چرمراتے ہیں، اور بھاری بھرکم روز ووڈ کی بلّیاں ۱۵۰ مانسونوں کا وزن ڈھوتی ہیں۔ گھر کا فرش لال مٹی کا ہے، جسے ہر ہفتے گوبر سے لیپا جاتا ہے۔
کیرالہ کے مننت واڈی شہر کے پاس کمّنا گاؤں میں واقع یہ گھر وہ جگہ ہے، جہاں دھان کے بیج اپنے قصے خود سناتے ہیں۔
کُریچیا برادری (جسے ریاست میں درج فہرست قبیلہ کا درجہ حاصل ہے) کے چیرو وئل رامن ان بیجوں کے محافظ ہیں۔ کُریچیا برادری کبھی مالابار میں دھان کی کھیتی کی اپنی مہارت کے لیے مشہور تھی۔ تقریباً ۷۳ سال کے رامن نے مالی پریشانیوں، گرتی صحت اور حکومت اور دیگر اداروں کی اندیکھی کے باوجود کئی دہائیوں تک روایتی بیجوں کو محفوظ رکھا ہے۔
’’یہ [بیج] ہمارے زندہ اجداد ہیں،‘‘ رامن کہتے ہیں، جنہیں پیار اور عزت سے لوگ رامیٹّن بھی بلاتے ہیں۔ رامن، کیرالہ کی زرعی روح کے محافظ کے طور پر مشہور ہیں۔ یہ ایک ایسا علاقہ ہے، جہاں کسی فیملی کی خوشحالی کی پیمائش اس کے اناج گھر میں ذخیرہ کی گئی دھان کی قسموں سے کی جاتی تھی۔
رامن نے اپنی پُشتینی زمین کو تنوع کے ایک زندہ میوزیم میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان کے اناج گھر میں وایناڈ کی ۵۰ روایتی قسمیں اور کیرالہ کے دیگر حصوں سے جمع کی گئی ۱۴ قسمیں محفوظ ہیں۔ وہ ہر موسم میں انہیں اُگاتے ہیں، بیجوں کو بحفاظت رکھتے ہیں، اور روایتی کھیتی کرنے والے کسی بھی شخص – آدیواسی، کسانوں، ذاتی طور پر اناج اُگانے والوں، محققین، اور اداروں – کو مفت تقسیم کر دیتے ہیں۔ ’’ہر چاول کی ایک روح ہوتی ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’وہ مٹی، بارش، اور نسلوں کے لمس کو یاد رکھتا ہے۔ اگر ہم نے اسے کھو دیا، تو سمجھو اپنی تاریخ کھو دی۔‘‘
ان کے دیوان خانہ کی مدھم روشنی میں دھان کی نایاب قسموں سے بھری بوریاں ایک کے اوپر ایک کر کے رکھی ہوئی ہیں – جو دھان کی تاریخ کی پہریدار ہیں۔ ہر بوری پر ملیالم میں ایسے نام لکھے ہیں، جو لوریوں جیسے میٹھے لگتے ہیں: مثلاً چینّیلو، تونڈی، چیمبکم، ویلیئن، گندھک سالا، کئیما وغیرہ۔
رامن پاری کو بتاتے ہیں کہ کیسے بھاپ میں پکتے گندھک سالا کی خوشبو چینبیلی اور چندن کی یاد دلاتی ہے؛ کئیما، جسے جیرک سالا بھی کہا جاتا ہے، ہوا میں مکھن جیسی خوشبو بکھیر دیتا ہے جو مالابار بریانی کی پہچان ہے؛ اور چیمبکم کا ذائقہ میٹھا اور گداز ہوتا ہے، جو پائیسَم (ایک میٹھا پکوان) بناتے وقت ناریل کے دودھ میں گھُل جاتا ہے۔










