وملا کا تعلق ریاست میں درج فہرست ذات کے طور پر درج میگھوال برادری سے ہے۔ روایتی طور پر میگھوال کاشت کاری کرتے تھے، مویشی پالتے تھے اور کپڑے اور کمبل بُنتے تھے۔ لیکن ذات پات کی صدیوں پرانی تفریق نے اس برادری میں تعلیم کے حصول اور ترقی کو تاریخی طور پر نچلی سطح پر رکھا ہوا ہے۔
وملا کے شوہر کنور لال (۳۶) اور ان کے بھائی بھوجا رام (۳۲) نے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے اچھے معیار کی تعلیم کو یقینی بنانے کی غرض سے اسکول چھوڑ دیا اور نمک کی کانوں میں مزدور کے طور پر کام کرنے لگے۔ کنور لال ایک بے زمین دلت کسان ہیں، اور اب لیز پر لی گئی ۴۰ بیگھہ زمین پر باجرا، گندم، میتھی اور مونگ پھلی اُگاتے ہیں (یہاں کا ۴ سے ۵ بیگھہ ایک ایکڑ کے برابر ہوتا ہے)۔ کم اور بے ترتیب بارش، بار بار کی خشک سالی، فصل کی ناکامی، اور خراب پیداوار کی وجہ سے پھلودی میں کاشتکاری ایک چیلنج ہے۔
تقریباً ۲۰۰ ملی میٹر اوسط بارش والے اس خشک خطہ میں پانی ایک نایاب اور قیمتی وسیلہ ہے۔ وملا برتنوں پر چپکی سخت ریت کو ہٹانے کے لیے جو چھوٹا سا پانی کا چھینٹا استعمال کرتی ہیں، وہ گھر سے متصل ’ٹنکا‘ یعنی زیر زمین حوض سے نکالا جاتا ہے۔
تھار ریگستان میں پانی کی کمی سے نبرد آزما ہونے کے لیے ٹنکا ایک مقبول تکنیک رہا ہے، حالانکہ باؤڑی (سیڑھی نما کنویں) اور تالاب کے مقابلے میں یہ پانی حاصل کرنے کا ایک نیا طریقہ ہے۔ سینٹرل ایرڈ زون ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ذریعہ ۱۹۸۸ میں شائع ہونے والے ایک کتابچہ میں کہا گیا ہے کہ اس خطہ میں ٹنکا کی ابتدائی تعمیر ۱۶۰۷ میں راجہ سُر سنگھ نے گاؤں وادی کا میلان میں کی تھی۔ اور بعد میں، مہاراجہ اُدے سنگھ نے ۱۷۵۹ میں جودھ پور کے مہران گڑھ قلعہ میں بنوایا تھا۔ لیکن ۱۸۹۵-۹۶ کے عظیم قحط کے دوران اس خطہ میں بڑے پیمانے پر ٹنکے تعمیر کیے گئے تھے۔
’’ٹنکوں کا استعمال چھت سے گرنے والے بارش کے پانی کو جمع کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، جسے پینے کے پانی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ سیمنٹ، کنکریٹ اور پتھر سے بنائے جاتے ہیں اور عام طور پر مغربی راجستھان میں استعمال ہوتے ہیں۔‘‘ وملا کے بھتیجے بدری نارائن چوہان (۱۹) کہتے ہیں، ’’۱۰ فٹ چوڑی اور ۲۰ فٹ لمبی ٹنکی میں تقریباً ۵۶ ہزار سے ۵۸ ہزار لیٹر پانی جمع کیا جا سکتا ہے۔ اور اس کی تعمیر پر تقریباً ۵۰ سے ۸۰ ہزار روپے کی لاگت آتی ہے۔‘‘
وملا کے گھر کے آنگن میں دو ٹنکے ہیں۔ پرانا ٹنکا ۲۰۰۱ میں بنایا گیا تھا، جس میں بارش کا پانی جمع ہوتا ہے۔ اور ایک بالکل نیا اور بڑا ٹنکا ہے، جس میں ان کی گھریلو ضروریات کے لیے ۶۰ ہزار لیٹر پانی جمع کیا جاتا ہے۔ آج بڑی گنجائش والے ٹنکوں میں ٹینکروں سے خرید کر پانی بھرا جاتا ہے۔ تقریباً ۵۰۰۰ لیٹر پانی ۵۰۰ روپے میں آتا ہے۔ یہ ٹینکرز اپنا پانی قریبی فلٹریشن پلانٹ، اندرا گاندھی کینال سے حاصل کرتے ہیں، جو ہندوستان کی سب سے لمبی نہر ہے۔ اس نہر میں پانی پنجاب کے ہریکے بیراج سے آتا ہے، یہ وہ مقام ہے جہاں ستلج اور بیاس ندیاں آپس میں ملتی ہیں۔