جیسے جیسے سرسبز گیہوں کے کھیت سنہرے ہوتے جا رہے ہیں، ویسے ویسے برنالہ ضلع کے پتّی گاؤں کے دَلبارہ سنگھ کی تشویشیں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔ جلد ہی فصل کی کٹائی کا وقت آ جائے گا۔ جلد ہی ڈیزل صرف ایندھن نہیں، بلکہ لائف لائن بن جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بے زمین دلت کسان بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ۱۸ فیصد سالانہ شرحِ سود پر قرض لے لیتا ہے، تاکہ اس کا ڈیزل کا ڈرم ہمیشہ بھرا رہے۔
دَلبارہ سنگھ (۵۵) اپنے تین بھائیوں کے ہمراہ ایک این آر آئی (غیر مقیم ہندوستانی) سے لیز پر لی گئی ۲۰ ایکڑ زمین کو جوتتے ہیں۔ فصل کی کٹائی کے موسم میں وہ دوسروں کے کھیتوں میں کٹنی کا کام کرتے ہیں اور ڈیری کسانوں کے لیے گیہوں کا بھوسا کاٹتے ہیں۔ وہ اپنے ٹریکٹر اور کٹائی مشین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’یہ تو ڈیزل کے بھوکے ہیں۔ اگر انہیں پوری استطاعت سے چلایا جائے، تو یہ ڈرم صرف دو دن چلے گا۔‘‘
لیکن اتنی اونچی شرحِ سود پر قرض؟ ’’میرے پاس اور کیا متبادل تھا؟ اگر ایک ہفتہ بعد ڈیزل ہی نہ ملا تو؟ میری پوری فصل کھیت میں سڑ جائے گی۔ میں نے اسے بچے کی طرح پالا ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ دلبارہ کی آمدنی کا حساب لگانا مشکل ہے، کیوں کہ پچھلے ایک سال سے ان کی کوئی کمائی نہیں ہوئی ہے۔ نقصان اور قرض لگاتار بڑھتے جا رہے ہیں۔
پنجاب کے کسانوں کے لیے امریکہ اور اسرائیل کے ذریعہ ایران پر حملے کا مطلب اب اور زیادہ قرض کا بوجھ ہے۔ لیکن، دلبارہ سنگھ اور ان کے جیسے متعدد لوگوں کے لیے یہ اور بھی بڑا بحران ہے، جن کے بچے خلیجی ممالک میں مزدور یا نیم ہنرمند شخص کے طور پر کام کرتے ہیں۔ یہ جنگ ان کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔ ابھی پچھلے مہینہ ہی انہوں نے اپنے بیٹے کو قبرص بھیجنے کے لیے ۴ لاکھ روپے قرض لیے تھے۔ قبرص مغربی ایشیا کا ملک ہے (حالانکہ جغرافیائی و سیاسی طور پر یوروپ کا حصہ مانا جاتا ہے) اور اس کی معیشت سیاحت اور جہاز رانی پر منحصر ہے۔ جاری جنگ نے ان دونوں خطوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ’’لیکن میرا بیٹا خوش نہیں ہے، کیوں کہ اسے کام نہیں ملا۔ اب وہ بے چین ہے اور واپس لوٹنا چاہتا ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ دلبارہ معصومیت سے اسے اپنی قسمت کا قصور مانتے ہیں اور ہماری پوری گفتگو میں ایک بار بھی جنگ کا ذکر نہیں کرتے۔
گیہوں کی کٹائی کا موسم قریب آنے اور جنگ سے پیدا غیری یقینی کی صورتحال کے سبب کئی کسانوں نے ۱۵ روز پہلے سے ہی ڈیزل جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔ پٹرول پمپوں پر ٹریکٹروں کی لمبی قطاریں نظر آتی ہیں، جن کے پیچھے ڈیزل سے خالی ڈرم رکھے ہوتے ہیں۔ پٹیالہ ضلع میں بھارتیہ کسان یونین (ڈکوندا) کے رہنما رگھبیر سنگھ ڈکالہ کہتے ہیں، ’’یہ سبھی اونچی شرح سود پر قرض لے کر ڈیزل خرید رہے ہیں۔‘‘




