سرینگر کے ہروَن محلہ کی پرسکون گلی میں اچانک تیز آواز گونجتی ہے۔ محمد افضل اور ساجد خان اخروٹ کے ایک درخت (جُگلانس ریجیا) کو زور زور سے پیٹ رہے ہیں اور یہ آواز آس پاس ٹین کی چھت والے گھروں پر اخروٹ گرنے سے آ رہی ہے۔
تقریباً سو فٹ اونچے، یعنی کسی دس منزلہ عمارت جتنے بڑے درخت سے اخروٹ توڑنا خطرناک کام ہے۔ اس لیے، اخروٹ توڑنے والے مزدور کافی ماہر ہوتے ہیں، جنہیں ’چھنان وول‘ کہا جاتا ہے۔ جموں کے راجوری میں رہنے والے ۲۴ سالہ محمد افضل گزشتہ چھ برسوں سے اخروٹ توڑنے کا کام کر رہے ہیں۔ ہر سیزن میں وہ اس کام کے لیے کشمیر آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’مجھے ڈر لگتا ہے، کیوں کہ یہ درخت بہت اونچے ہوتے ہیں۔‘‘ اخروٹ توڑنے کے علاوہ وہ دوسرے سیزن میں درختوں کو کاٹنے اور سیب کی پیکیجنگ کا کام کرتے ہیں۔
اگست سے لے کر اکتوبر تک اخروٹ کی فصل کا موسم ہوتا ہے۔ اس دوران افضل کا دن صبح سات بجے شروع ہوتا ہے اور شام چھ بجے ختم ہوتا ہے۔ وہ درختوں کی لمبائی کے حساب سے ہر دن چار پانچ درختوں پر چڑھتے ہیں، کسی مضبوط لکڑی سے بنی چھڑی یا بید سے درخت کی اوپری شاخوں کو پیٹتے ہیں۔
افضل کو درخت سے اخروٹ توڑنے کا کام بیحد چیلنج بھرا لگتا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’یہ کافی خطرے والا کام ہے۔ آپ کو نہایت مستعدی کے ساتھ درخت پر توازن بنائے رکھنا پڑتا ہے، جب کہ اسی دوران آپ کو ہاتھوں میں پانچ کلو کا ڈنڈا لیے پوری طاقت کے ساتھ اخروٹ کی شاخوں کو پیٹنا پڑتا ہے۔‘‘
کچھ درخت، خاص کر بڈگام میں، ۱۵۰ فٹ تک اونچے ہوتے ہیں۔ افضل کہتے ہیں، ’’بارش کے دنوں میں ہم درخت پر نہیں چڑھتے، کیوں کہ اس دوران کافی پھسلن ہو جاتی ہے۔ خوش قسمتی سے، میرے ساتھ کبھی کوئی حادثہ نہیں ہوا۔‘‘
لیکن ان کے گھر والوں کو ان کی حفاظت کی فکر لاحق رہتی ہے۔ اسے تسلیم کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں، ’’میری ماں نہیں چاہتی کہ میں یہ کام کروں، کیوں کہ ہمارے گاؤں میں کئی لوگ اخروٹ کے درخت سے گر کر اپنی جان گنوا چکے ہیں۔‘‘














